جمعرات , 22 اگست 2019

تو کیا ایران کی طرح شام، اسرائیل کو جواب دینے والا ہے؟ ایران نے لوگوں کی بولتی بند کر دی ؟ عبد الباری عطوان نے بتائی وجہ…

(عبد الباری عطوان)

خلیج فارس میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان جب سے ایران نے کامیابی کے ساتھ امریکا کے پیشرفتہ ڈرون کو سرنگوں کیا ہے، شام کے خلاف اسرائیل کے حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے تاہم حالیہ حملوں میں اسرائیلی جنگی طیارے، شام کی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے لبنان کی فضائی حدود سے ہی شام میں سات میزائیل فائر کئے ۔

شام پر اسرائیل کا حالیہ حملہ، یقینی طور پر روس کے لئے پریشانی کا سبب بنے گا کیونکہ یہ حملہ روس، امریکا اور اسرائیل کے سیکورٹی اہلکاروں کی نشست کے بعد ایک ہفتے بعد ہی ہوا ۔ اس اجلاس میں شام میں ایران کی موجودگی پر خاص طور پر گفتگو کی گئی ۔

باخبر ذرائع کے مطابق اسرائیل میں ہونے والے اس اجلاس میں روس کے سیکورٹی مشیر نے یہ کہہ کر اپنے امریکی اور اسرائیلی ہم منصبوں کو حیران کر دیا کہ ایران، ماسکو کا اتحادی اور شریک ہے اور اس کی شبیہ خراب کرنا اور اسے علاقے کے لئے بڑا خطرہ دکھانا غیر قابل قبول ہے کیونکہ ایران، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرگرم طریقے سے شرکت کر رہا ہے۔ یہ در اصل روس کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے لئے اچھا پیغام تھا کہ وہ شام سے ایران کو نکالنے کی ان کی خواہش کی حمایت نہیں کرتا۔

ویسے قابل توجہ بات یہ ہے کہ شام میں اسرائیل کے حالیہ حملوں کو روکنے کے لئے روس کے ایس-300 دفاعی سسٹم کو استعمال نہیں کیا گیا بلکہ ایس-200 کا استعمال کیا جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ روس اب بھی شام کو اسرائیل کے خلاف ایس-300 اینٹی میزائیل سسٹم کے استعمال سے روک رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ روس، شام کو کب تک روکے گا؟ جبکہ یہ بھی واضح ہے کہ روس نے شام کو پیشرفتہ اینٹی میزائیل سسٹم، شام کی فضائی حدود میں اپنے طیارے کی سرنگونی کے بعد دیا تھا جس میں کئی ماہرین ہلاک ہوئے تھے اور روس نے اس کا ذمہ دار، اسرائیل کو قرار دیا تھا ۔

اس بار اسرائیل نے لبنان کی فضائی حدود سے ہی شام پر میزائیل فائر کئے لیکن اگر شام، ایس-300 کا استعمال کر سکتا تو وہ بڑی آسانی سے لبنان کی فضائی حدود میں اسرائیلی جنگی طیاروں کو مار گراتا کیونکہ ایس-300 میزائیل سسٹم، 300 کیلومیٹر تک میزائل یا طیارے کو نشانہ بنا سکتا ہے اور لبنان کی سرحد تو اس سے بہت نزدیک ہے ۔

کیا روس نے شام کو اسرائیلی جنگی طیاروں کا جواب دینے سے روک رکھا ہے ؟
اس طرح کے حملوں سے اسرائیل کا مقصد، شام اور ایران کو اکسانا ہے تاکہ وہ غصے میں کچھ ایسا کر دیں جس سے جنگ کی آگ بھڑک اٹھے اور نتن یاہو کی دلی خواہش، جو جنگ ہی ہے، البتہ ایسی جنگ جسے وہ دور دور سے دیکھ کر تالیاں بجا سکیں ۔

یہ تو یقینی ہے کہ اسرائیل کی اس طرح کی جارحیتوں کا شام کی جانب سے جلد ہی جواب دیا جائے کا، یہ جواب کبھی بھی ہو سکتا ہے اور سب کو حیران کر دینے والا بھی ہوگا ۔ شام یقینی طور پر یہ کام روس کو اعتماد میں لے کر ہی انجام دے گا۔ کچھ دن پہلے تک ایران کی اس بات کی تنقید کی جا رہی تھی کہ وہ شام میں، اسرائیلی حملوں پر خاموش ہے اور اسرائیل کو جواب نہیں دے رہا ہے لیکن ایران نے ناقدین کی بیوقوفی کو ثابت کر دیا کیونکہ اس نے اسرائیل کو نہیں بلکہ اس کے بڑے حامی امریکا کو جواب دیا۔ ایران نے یہ جواب، کچھ ہی میٹر پر اپنی فضائی حدود میں در اندازی کرنے والے پیشرفتہ امریکی ڈرون طیاروں کو تباہ کرکے دیا ۔

کہتے ہیں کہ ایران کی جانب سے امریکی ڈرون کی سرنگونی کے بعد امریکا کی جانب سے ایران کو جواب نہ دیا جانا، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کی کوششوں کا نتیجہ تھا، انہوں نے ٹرمپ کو باور کرایا کہ وہ ایران پر حملہ نہ کریں کیونکہ وہ ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے دسیوں ہزار میزائلوں کی بارش سے خوفزدہ ہوگئے تھے کیونکہ ایک ساتھ دسیوں ہزار میزائلیں، یقینی طور پر اسرائیل کو تباہ کرنے کی توانائی رکھتے ہیں ۔ اس طرح ہم کہتے ہیں کہ جس طرح سے ایران نے اچانک دندان شکن جواب دیا اسی طرح شام بھی اسرائیل کو دندان شکن جواب دے گا، بس وقت وقت کی بات ہے اور جس طرح سے ایران کے جواب نے بہت سے لوگوں کے منہ پر تالا لگا دیا اسی طرح شام بھی جواب دے کر لوگوں کی زبان بند کر دے گا، ہمیں تو یہی امید ہے۔

جو ملک امریکا کی سربراہی میں 70 حکومتوں کے مقابلے میں آٹھ برسوں تک ڈٹا رہا، اپنے ملک کی زیادہ تر سرزمینوں کو دہشت گردوں سے واپس لینے میں کامیاب رہا وہ اسرائیل کے ان اقدامات کا دقیق جواب دینے کی بھی پوری توانائی رکھتا ہوگا خاص طور پر اس لئے بھی کی مزاحمتی محاذ کے مفاد میں ہر جانب سے اندازے بڑی تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں ۔بشکریہ سحر نیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …