اتوار , 18 اگست 2019
تازہ ترین

اسمارٹ پاور اور تحریک نصیریت

(تحریر: سید میثم ہمدانی)

سابق امریکی وزیر خارجہ اور صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن اسمارٹ پاور کی تعریف کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ عالمی طور پر اقتصادی، عسکری، سیاسی، معاشرتی و ہر قسم کے ہتھکنڈوں کا استعمال، جن کے ذریعے مطلوبہ نتائج کو حاصل کیا جا سکے، اسمارٹ پاور کہلاتا ہے۔ امریکی لکھاری اور متفکر جوزف ایس نائی پہلے رائٹر ہیں، جنہوں نے سافٹ پاور کی اصطلاح کا استعمال کیا۔ ہمارے ہاں معمولاً اس اصطلاح کیلئے سافٹ وار، نرم جنگ، نرم قدرت، رنگین انقلاب، نفسیاتی جنگ، نفسیاتی آپریشن جیسے مختلف الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان تمام اصطلاحات کی اپنی اپنی تعاریف موجود ہیں۔ جوزف نائی نے اپنی کتاب میں مختلف ماہرین کی رائے بیان کی ہے۔ اس بارے میں مفصل گفتگو سے پہلے رائٹر نے اس باب میں استعمال ہونے والی مختلف اصلاحات اور الفاظ کی تعاریف بھی بیان کی ہیں۔ اگر ہم ایک جملے میں اس موضوع کے بارے میں بات کرنا چاہیں تو یوں کہا جائے گا کہ "اسمارٹ پاور یعنی کسی ادارے، تنظیم، ایجنسی یا انٹیلی جنس سسٹم کی جانب سے اختیار کی گئی ایسی روش یا ایسا طریقہ کار جو کسی شخص، خاندان، معاشرے یا پوری دنیا کے لائف اسٹائل، نظریہ یا بالفاظ دیگر ان کی طرز زندگی کو تبدیل کرنے کے ذریعے ان کے کردار کو تبدیل کرنے کے درپے ہو۔”

اس طریقہ کار میں کسی بھی معاشرے میں اپنی مرضی کی تبدیلیوں کیلئے بندوق اور عسکری طاقت کے استعمال کی جگہ اقتصاد، پروپیگنڈا، نظریات یا کسی غیر عسکری راستے کو استعمال کیا جاتا ہے۔ عالمی جنگوں کے بعد ماہرین اس طرف متوجہ ہوئے کہ نئے زمانے اور نئے دور میں اب ہارڈ وار مسائل کا حل نہیں ہے، اب معاشروں پر بندوق کے زور پر حکمرانی نہیں کی جاسکتی بلکہ اس ہارڈ وار کو سافٹ وار میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سافٹ وار کا اسلحہ مورد نظر معاشرے کے افراد کی ذہنی کیفیت، نظریات اور احساسات کو تبدیل کرنا ہے، تاکہ اس کے ذریعے ان کے ارادوں کو بدلا جا سکے اور ارادوں کی تبدیلی کے ذریعے کردار کو تبدیل کرکے معاشرتی تبدیل حاصل کی جاسکے۔ اس معاشرتی تبدیلی کا ہدف اس معاشرے میں موجود وسائل، اہداف اور مدنظر نتائج کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ سافٹ وار کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ اس جنگ کے دوران جتنے بھی آپریشن انجام دیئے جاتے ہیں، انکی مکمل منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور یہ آپریشنز اپنے تمام مراحل کے دوران مکمل طور پر کنٹرول ایبل ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ، کوئی فرد یا کوئی طاقت اس صلاحیت کو حاصل کر لے تو اسکو "اسمارٹ پاور” جانا جاتا ہے۔

سافٹ وار کے دوران آفنس اور ڈیفنس دونوں مراحل کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ کسی بھی ملک، معاشرے، فرقہ یا خطے کے خلاف سافٹ وار آفنس کیلئے اسٹریٹیجی بنانے کے بعد ٹیکٹیکس طے کئے جاتے ہیں اور موجود تمام آلات کو استعمال میں لانے کے ذریعے مکمل جنگ تھونپ دی جاتی ہے۔ سافٹ وار میں ڈیفنس کیلئے سافٹ وار کے طریقہ کار اور اس جنگ کے مقابلے کیلئے حفاظتی اقدامات کا جاننا اشد ضروری ہے۔ اس جنگ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہاں ضروری نہیں ہے کہ دشمن اپنے سپاہیوں کے ساتھ مخالف کے میدان میں حاضر ہو بلکہ عین ممکن ہے کہ مخالف کے میدان اور فوج کے اندر ہی دشمن کے سپاہی موجود ہوں۔ اس جنگ کے فوجیوں کا خاص یونیفارم نہیں ہوتا، کسی رجمنٹ کا بیج ان کی چھاتیوں پر یا کوئی خاص ٹوپی ان کے سر پر نہیں ہوتی، لیکن ان کے اہداف، ان کا چال چلن، ان کی باڈی لینگوئج، ان کے نعرے اس جنگ کی ایسی کمزوری ہے، جو عوام کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں، لیکن حد اقل شعور رکھنے والوں کے سامنے اس سافٹ وار کے سپاہیوں کو فاش کر دیتی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای معاصر زمانے کے وہ پہلے اسلامی لیڈر ہیں، جنہوں نے اس موضوع پر مفصل انداز میں متعدد مرتبہ گفتگو کی ہے۔ حزب اللہ نے 2011ء میں سافٹ وار پر خصوصی مطالعات کیلئے ایک اکیڈمی کا افتتاح کیا۔ اس مرکز فار اسپیشل اسٹڈیز نے "الحرب الناعمہ” نامی کتاب نشر کی، جس میں رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای مدظلہ العالی کی متعدد تقاریر، جو کتاب کے نشر ہونے کے وقت تک موجود تھیں، کو جمع کیا اور اس کو تحقیقی جائزے کے طور پر پیش کیا۔ حزب اللہ لبنان کی کامیابی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ مسلح جنگ کے ساتھ ساتھ دشمن کی نرم جنگ پر بھی نظر رکھی گئی۔ اس کتاب میں امام خامنہ ای مدظلہ العالی کے ارشادات کو سامنے رکھتے ہوئے سافٹ وار کے مقابلے کیلئے چند اصول بیان کئے گئے۔ سب سے پہلی اصل سافٹ وار کو قبول کرنا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ معاشرے میں عام آدمی دشمن کی سازش کا احساس کر رہا ہو، لیکن لیڈ کرنے والے عناصر یا اس سے غافل ہوں یا اس کو صرف عقیدتی انحرافات سمجھ کر غفلت کا شکار ہوں۔

لہذا رہبر کی نگاہ میں نرم جنگ سے مقابلے کیلئے پہلا اصول اس جنگ پر اعتقاد رکھنا اور اس چیز کا قائل ہونا ہے کہ دشمن ہمارے خلاف نرم جنگ شروع کرچکا ہے۔ دوسری اصل دشمن کے طریقہ کار کو پہچاننا ہے اور تیسری اصل دشمن سے مقابلے کے طریقہ کار کو پہچاننا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کی نگاہ میں دشمن کی جانب سے تھونپی گئی نرم جنگ کے مقابلے کیلئے سب سے پہلے بصیرت کی ضرورت ہے اور اس کے بعد میدان میں حاضر رہنے کی ضرورت ہے۔ تیسرا مرحلہ دشمن کی چالوں پر نگاہ رکھنا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی دشمن کی نرم جنگ کی ایک خاصیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام کے مقابلے میں دشمن کی جانب سے نرم یلغار کا نمونہ عمل اور آئیڈیل شیطان ہے۔ دشمن شیطانی چالوں کی پیروی کرتا ہے، اگر انسان شیطان کے طور طریقوں سے آگاہ ہو تو دشمن کی جانب سے سافٹ وار کو اچھی طرح سے پہچان سکتا ہے، چونکہ دشمن نرم جنگ میں شیطان کی چالوں کی ہی پیروی کرتا ہے۔

موجودہ دور میں جہاں دشمن کی جانب سے مختلف محاذوں پر مختلف سازشیں جاری ہیں، وہیں پاکستان کی مسلمان قوم کیلئے بھی مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں۔ دشمن ہمیشہ کسی بھی قوم کو شکست دینے کیلئے دو طرح کی سازشیں کرتا ہے، جسطرح کپڑے کو کاٹنے کیلئے قینچی کی دونوں دھاریں تیز ہونی چاہیں، اسی طرح دشمن اسلام کو شکست دینے کیلئے بھی دو طرفہ سازشیں تیار کرتا ہے۔ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کیلئے بقول رہبر انقلاب اسلامی امریکی حمایت یافتہ سنی سی آئی اے ایجنٹ اور لندن حمایت یافتہ ایم آئی 6 کے شیعہ ایجنٹ دونوں ایک ہی لڑی کے دو سرے ہیں۔ اہلسنت کی دنیا میں تکفیریت اور تشیع کے رنگ میں نصیریت دشمن کی قینچی کی دو دھاریں ہیں۔ فتنہ بھی دشمن کی جانب سے نفسیاتی اور نرم جنگ کا ایک حصہ ہے۔ فتنہ اور کسی منحرف یا بدعتی مکتب میں ایک خاص فرق ہے۔ فتنہ چونکہ جنگ کا حصہ ہوتا ہے، لہذا وہ تحریک کی صورت میں ہوتا ہے، ایک "موو” ہوتی ہے، جس کو معاشرے میں چلایا جاتا ہے۔ یہ تحریک، یہ موو، یہ حرکت خاص اہداف کو حاصل کرنے کیلئے خاص نعروں کے تحت معاشرے میں موجود مقدس مفاہیم اور مقدس ہستیوں کے نام کو استعمال کرکے دشمن کیلئے میدان ہموار کرتی ہے۔

پاکستانی مسلمان معاشرے کیلئے دشمن کی سافٹ وار کی قینچی کے بھی دو دھارے ہیں، ایک تکفیری قوتیں جو سنی لباس میں ہیں اور دوسری تحریک نصیریت جو شیعہ لباس میں ہے۔ دونوں کا ہدف و مقصد ایک ہے اور وہ ہدف و مقصد معاشرے میں دشمن کیلئے میدان ہموار کرنا ہے۔ کیا یہ سوچنے کی بات نہیں ہے کہ جن کو بعض لوگ منحرف سمجھتے ہیں اور اس انحراف کے سبب کو بھی شامی لشکر کی سنت پر عمل کرتے ہوئے جیسا کہ حضرت عمار یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کو امام علی علیہ السلام پر ڈال دیا گیا تھا، اپنے ہی خط و فکر و نظریہ کی حامل قوتوں پر ڈال دیتے ہیں۔ ان کے بقول ان منحرف قوتوں اور درحقیقت نرم جنگ جو اسمارٹ پاورز کے ہیڈکوارٹرز میں پلاننگ کی گئی، کا ہدف ولایت فقیہ! کیوں ہے؟ تحریک نصیریت کب سے اتنی سیاسی تحریک بن چکی ہے کہ جو عوام کو مقدس ایام میں طوائف کے نچانے کے ذریعے گمراہ کرنے سے ولایت فقیہ کے مدمقابل کھڑے ہونے کی ہمت کرے!؟

یہ معاشرے کے تھرڈ کلاس لوگ جن کو شائد اپنے گھر میں بھی کوئی عزت و احترام نہ دیتا ہو، اپنے خلائی حلیوں کے ساتھ بھنگ کے نشے میں مست، ان کو کب سے ولایت فقیہ کی سمجھ آگئی ہے کہ اب یہ ولایت فقیہ کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی تیاریاں پکڑ رہے ہیں۔؟ جی انشاء اللہ اگر کبھی موقع ملا تو کسی آرٹیکل میں ایک امیرکن یونیورسٹی کے اس پی ایچ ڈی اسکالر کا ذکر کروں گا، جس کی پی ایچ ڈی کا عنوان پاکستان کی تشیع ہے اور جو بیک وقت اپنی جوانی ہی میں انگریزی، جرمن، اردو، عربی اور فارسی پر مسلط ہے اور جس کا اصلی سوال پاکستان میں تشیع کے درمیان ولایت فقیہ کے بارے میں موجود احساسات، ادراکات اور اشکالات ہیں! واضح سی بات ہے اسمارٹ پاور کی سافٹ وار کے مقابلے میں اگر کوئی راہنما اصول ملتے ہیں تو وہ ولایت فقیہ سے ہی ملتے ہیں، جب پوری دنیا میں ولی فقیہ اسلام کے دفاع کیلئے تک و تنہا کھڑا ہوگا تو اس اسمارٹ پاور کی سافٹ وار کے نوکروں اور سپاہیوں کی بندوقیں بھی ولایت فقیہ کے ہی خلاف ہوں گی۔

یہاں انتہائی تعجب کی بات یہ ہے کہ جہاں پوری دنیا ولایت فقیہ کے پرچم کو سرنگون کرنے کے درپے ہے، وہیں اس پرچم کے سائے تلے موجود سپاہی اس سازش کے سامنے خاموش تماشائی نظر آتے ہیں! یہ خاموش تماشائی انتہائی مدبرانہ پالیسی کے حامل ہیں، ان کے بقول چونکہ یہ لوگ جو "(خاکم بدہن) ولایت فقیہ کو چوک میں لٹکانے کے نعرے لگاتے ہیں” ہماری داخلی شدت پسندی کے باعث راستے سے ہٹ گئے ہیں اور ان کو پیار سے سمجھانے کی ضرورت ہے، تاکہ قوم کو تقسیم ہونے سے بچایا جائے، لیکن انتہائی تعجب اس وقت ہوتا ہے کہ جب ابھی اس بیانیہ کی "بے” کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی ہوتی تو یہی مدعیان ایک کپڑے پر لکھی قابل دفاع تحریر کو فلانے کے کرتے کی طرح علم کرکے میڈیا ہاوسز میں ایڈیٹڈ پیغامات کے نشر کے ذریعے قوم کو تقسیم کرنے کی عملی کوشش کرتے ہیں۔

یہ سب اجتہادی غلطیاں نہیں ہیں یا اس سافٹ وار کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہیں یا اس عنصر کے مفقود ہونے کی وجہ سے ہے، جس کو بصیرت کہا جاتا ہے اور جو درحقیقت صحیح وقت پر صحیح دشمن کی صحیح پہچان اور اس کے مقابلے کیلئے صحیح اقدامات کا نام ہے، جو حقیقی لیڈر شپ کی حقیقی صفت، پہچان اور علامت ہے۔ بہرحال آج کے اس پیچیدہ دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دشمن کے ماڈرن طور طریقوں سے خود بھی آشنائی حاصل کی جائے، دوسروں کو بھی آگہی بخشی جائے اور اس پرفتن دور میں پرچم ولایت فقیہ سے متمسک رہتے ہوئے امید بہار رکھی جائے۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی آئل ٹینکر کی رہائی، امریکہ اور برطانیہ کی بڑی شکست

(تحریر: عبدالباری عطوان) جبل الطارق نے حال ہی میں ایران کا پکڑا ہوا آئل ٹینکر …