پیر , 16 دسمبر 2019

روٹی مہنگی غم سستے

(افشاں ملک)

گندم بحران اورمہنگی روٹی کا وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لے لیا ہے اور روٹی سمیت آٹے سے بننے والی دیگر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے اقدام اٹھاتے ہوئے گندم کی برآمدات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیاہے۔ وزارت تحفظ خوراک کا کہنا ہے کہ رواں سال گندم کی پیداوار کے متعین کردہ ہدف 2 کروڑ 55 لاکھ ٹن کے مقابلے 2 کروڑ 41 لاکھ 20 ہزار ٹن پیداوار ریکارڈ کی گئی ہے، علاوہ ازیں رواں برس حاصل شدہ مقدار بھی گزشتہ برس کے مقابلے 33 فیصد کم رہی ہے۔چنانچہ مقامی مارکیٹس میں روٹی اور گندم سے بنی دیگر اشیا کی قیمت قابو میں رکھنے کے لیے ای سی سی نے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے قیمتوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی (این پی ایم سی) کے اجلاس کی تجویز دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے گندم کا مناسب ذخیرہ موجود ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گندم کی ضرورت مجموعی طور پر 2 کروڑ 58 لاکھ 40 ہزار ٹن ہے جبکہ 2 کروڑ 80 لاکھ ٹن کا ذخیرہ موجود ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ آٹے اورگندم پر کسی قسم کا کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے لہذا روٹی مہنگی کرنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا جبکہ فلور ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے 17فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نفاذ کے بعد آٹے کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق آٹے کی 80 کلو والی بوری میں 550 روپے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد 2 من آٹے کی بوری 2800 سے بڑھ کر 3350 روپے کی ہو گئی جبکہ فائن میدے کی بوری پر 700 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔گزشتہ دنوں آئی ایم ایف کی جانب سے بھی معاہدے کیمطابق قرضے کی پہلی قسط حکومت کو وصول ہوچکی ہے۔ امید یہی تھی کہ تمام پیکیجز اور آئی ایم ایف کا قرضہ ملنے کے بعد کچھ نہ کچھ عوام کی حالت میں بہتری آئیگی اور مزید مہنگائی کا طوفان ان پر مسلط نہیں کیا جائیگا لیکن آٹے جیسی بنیادی چیز مہنگی کرکے ان سے روٹی چھیننے کا بھی اہتمام کردیا گیا ہے۔اگر حکومتی مؤقف کو درست مان لیا جائے تو بھی ذمہ دار حکومت ہی ہے کیونکہ حکومتی رِٹ اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی عملداری کہیں نظر نہیں آ رہی۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور مافیا آج قطعی بے لگام ہے اور جان بوجھ کر مارکیٹ میں اشیائے خور و نوش کی قلت پیدا کر کے ان کی قیمت بڑھائی جا رہی ہے۔پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی جانب سے جاری کردہ نرخنامے محض مارکیٹوں اور دکانوں کی زینت کا کام کر رہے ہیں جبکہ دکاندار من مانے نرخوں پر اشیاء فروخت کر رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ پیداوار کا پورا عمل منافعوں کے حصول کے گرد گھومتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگ اپنی ضروریات کے لیے اشیاء خریدتے ہیں۔ خوراک، رہائش، لباس، جوتے، ادویات اور دیگر اشیاء کی لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے۔ مگر جس معاشی نظام میں ہم رہتے ہیں وہاں پر بنیادی اشیائے ضرورت صرف اس لیے نہیں بنائی جاتیں کہ عام لوگوں کو اس کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ان کو بنانے کا بنیادی مقصد منافع کمانا ہوتا ہے۔ منافع در اصل سرمایہ دارانہ پیداواری عمل کی قوت محرکہ ہے۔ ریاست کا کردار بنیادی طور پر یہ ہوتا ہے کہ وہ سرمایہ داروں کی طرف سے منافعوں کے حصول کی کوششوں اور شرح کو ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھنے دے۔ پالیسیوں اور نظریات کے عام صارفین کو منڈی کے بے رحم اور استحصالی میکنزم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ پاکستانی ریاست نے ملٹی نیشنل اور پھر قومی کمپنیوں کو صارفین جو کہ محنت کش عوام ہوتے ہیں ( صارفین کی غالب اکثریت عام لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے) کے کھلے استحصال کی مکمل چھوٹ اور آزادی دی ہوئی ہے۔ پاکستان کے محنت کش عوام کو امید تھی کہ تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد معاملات بہتر ہو جائیں گے۔

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہو جائے گی۔ کیونکہ ہمیں تحریک انصاف کی قیادت نے بتایا تھا کہ ملک میں مہنگائی اس لیے ہے کیونکہ ملک میں کرپشن بہت زیادہ ہے۔ جیسے ہی ایماندار، دیانتدار اور بد عنوانی سے پاک حکومت وجود میں آئے گی تو مہنگائی کم ہو جائے گی۔ملک میں مہنگائی غریب عوام کو براہ راست متاثر کر رہی ہے۔ خوراک، ادویات، مکانات کے کرائے۔ علاج، تعلیم، ٹرانسپورٹ کے کرائے، بجلی ، گیس، اور پٹرول کے نرخ سب بڑھ چکے ہیں۔ ایک عام پاکستانی کو جسم اور روح کا رشتہ بر قرار رکھنے کے لیے پہلے سے زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے۔ مہنگائی میں اضافے نے لوگوں کی قوت مزید پہلے سے بھی کم کر دی ہے۔ غریب عوام کی زندگی پہلے سے بھی زیادہ اجیرن ہو چکی ہے۔ حکومت کو اب تک سمجھ آ جانی چاہیے کہ عام لوگوں کے مسائل کو کم کرنے اور ان کی معاشی مشکلات میں کمی کے لیے صرف اچھے جذبات اور نیک نیت ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ پالیسیاں بھی درکار ہوتی ہیں۔ گراں فروشوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا اورحکومتی رٹ کی بحالی ہی واحد ہے جس پر جس قدر جلد ممکن ہو عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان کے غریبوںاورمحنت کشوں کو دووقت کی روٹی مل سکے۔ساغر صدیقی نے شاید ایسے ہی معاشروں کے بارے کہا تھا کہ

جس بستی میں ہم بستے ہیں
روٹی مہنگی غم سستے ہیں
(بشکریہ مشرق نیوز)

یہ بھی دیکھیں

زیارت، مذہبی سیاحت اور ہمارے حکمران (1)

تحریر: ارشاد حسین ناصر پاکستان ایران کا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے، جس کے …