اتوار , 18 اگست 2019
تازہ ترین

حاجیو! کعبۃ اللہ پھر سے انقلاب کا سرچشمہ بننے کو ہے(1)

(تحریر: ثاقب اکبر)

کعبۃ اللہ ہمیشہ سے عظیم انقلابات کا سرچشمہ رہا ہے اور سب سے بڑا عالمگیر الہیٰ انقلاب اسی سرزمین سے آخری پیغمبر، محبوب خدا، رحمت للعالمین کی قیادت میں برپا ہوا۔ اس کی بنیاد پہلے ہی ابو الانبیاء خلیل خدا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں پڑ چکی تھی۔ تاریخ اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ اس گھر کی بنیادیں پہلے ہی سے موجود تھیں کہ ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام نے انہی بنیادوں پر دیواریں اٹھائی تھیں۔ قرآن حکیم اسی امر کی حکایت کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق اسی بیت اللہ کو ایک مرتبہ پھر ایک عالمگیر انقلاب کا سرچشمہ بننا ہے۔ یہ بھی ایک الٰہی انقلاب ہوگا اور آنحضرتؐ کے لائے ہوئے آفاقی دین کی سربلندی کا باعث بنے گا۔ مسلمانوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ ایسا آپ کی اولاد میں سے تشریف لانے والے قائد و رہبر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ہاتھوں وجود میں آئے گا۔ احادیث میں مختلف انداز سے اس امر کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ان دنوں جبکہ حاجی پوری دنیا سے خانہ کعبہ کا رخ کیے ہوئے ہیں، کچھ اس سرزمین پر پہنچ چکے ہیں، کچھ راستے میں ہیں اور کچھ پہنچنے والے ہیں۔ ہم صرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ کہیں یہ حاجی متوجہ نہ ہوں اور اچانک آنحضرتؐ کی پیش گوئیاں پوری صداقت اور طاقت کے ساتھ ظہور میں آجائیں اور آپ ؐہی کا کلمہ پڑھنے والے حیرت زدہ رہ جائیں، انہیں یہ سب کچھ انہونی لگے۔ ضروری ہے کہ سب مسلمان آنے والے دور کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان پیش گوئیوں کو نظر میں رکھیں۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ کہیں شیطانی قوتیں انہیں اس الٰہی رہبر سے برگشتہ کرنے کے لیے جو حیلے اور حربے اختیار کریں، مسلمان ان کے دام فریب میں نہ آجائیں۔ تاریخ میں چونکہ ایسا ہوتا رہا ہے کہ حق کے پیشوائوں کے راستے میں شیطانی طاقتیں جہاں مادی قوتیں بروئے کار لاتی رہی ہیں، وہاں دجل و فریب کے جال بھی بچھاتی رہی ہیں۔ آنحضرتؐ سے منقول احادیث کے مطابق ایسا حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور اور قیام کے موقع پر بھی ہوگا۔ اس لیے دونوں پہلوئوں سے آنے والی احادیث کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

آئیے چند ایسی احادیث پر نظر ڈالتے ہیں، جن میں حضرت امام مہدیؑ کے انقلاب و قیام کا سرچشمہ سرزمین مکہ اور خاص طور پر بیت اللہ کو بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ ابن ابی شیبہ(37223)، احمد(27224/316/6)، ابو دائود (4286)، ابو یعلی (6901) اور طبرانی نے معجم کبیر میں (931/390/23) اور الاوسط (1153) میں حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یکون اختلاف عند موت خلیفۃ، فیخرج رجل من اھل المدینۃ ھاربا الی مکۃ، فیأتیہ ناس من اھل مکۃ، فیخر جونہ، وھو کارہ، فیبا یعونہ بین الرکن والمقام، ویبعث الیہ بعث من الشام، فیخسف بہم بالبیداء بین مکۃ والمدینۃ، فاذا رأی الناس ذلک أتاہ أبدال الشام و عصائب أھل العراق، فیبا یعونہ بین الرکن والمقام۔۔۔ "لوگوں کے مابین ایک حکمران کی وفات پر اختلاف پیدا ہو جائے گا، اس موقع پر اہل مدینہ میں سے ایک مرد مکہ کی طرف کوچ کرے گا۔ اہل مکہ میں سے لوگ اس کی طرف آئیں گے، وہ اسے امامت کے لیے پیشکش کریں گے، جب کہ وہ نہیں چاہ رہا ہوگا، بہرحال رکن اور مقام کے مابین وہ اس کی بیعت کریں گے، پھر شام سے ایک فوج اس کی طرف آئے گی، جو مکہ اور مدینہ کے مابین بیداء کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گی۔ جب لوگ یہ سب دیکھیں گے تو پھر شام سے نیک لوگ اور اہل عراق کے قبائل اس کی خدمت میں پہنچیں گے اور رکن (حجر اسود) اور مقام (ابراہیم) کے مابین اس کی بیعت کریں گے۔۔۔”

طبرانی نے اوسط میں (9454) اور حاکم نے مستدرک میں (8377/430/4) حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یبایع لرجل بین الرکن والمقام عدۃ أھل بدر، فیأتیہ عصائب أھل العراق و ابدال أھل الشام، فیغز وھم جیش من أھل الشام، حتی اذا کانوا بالبیداء خسف بہم۔۔۔ "ایک مرد کی بیعت رکن اور مقام کے مابین کی جائے گی۔ بیعت کرنے والوں کی تعداد اہل بدر کے برابر (313) ہوگی۔ ان کی خدمت میں اہل عراق کے قبائل اور اہل شام کے نیک لوگ پہنچیں گے۔ اہل شام کی ایک فوج ان پر حملہ آور ہوگی جو بیداء کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گی۔” ابو نعیم اصفہانی نے اپنی کتاب (حدیث نمبر20) میں حضرت حذیفہ یمانی سے ایک روایت نقل کی ہے، جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لو لم یبق من الدنیا، الا یوم واحد، لبعث اللہ رجلا اسمہ اسمی، وخلقہ خلقی، یکنی أبا عبداللہ۔۔۔ "چاہے دنیا کا ایک دن بھی باقی ہو، اللہ تعالیٰ ایک مرد کو مبعوث کرے گا، جس کا نام میرا نام ہوگا، جس کا اخلاق میرا اخلاق ہوگا اور جس کی کنیت ابو عبداللہ ہوگی۔”

علامہ گنجی شافعی نے یہی حدیث اپنی کتاب البیان میں ابو نعیم کے طریق سے مزید اضافے کے ساتھ نقل کی ہے۔ (ص 96حدیث 42)۔وہ آگے لکھتے ہیں: یبایع لہ الناس بین الرکن والمقام، یرد اللہ بہ الدین، ویفتح لہ فتوحا، فلا یبقی علی ظہر الأرض الا من یقول لا الہ الا اللہ، فقام سلمان فقال: یا رسول اللہ من أی ولدک ھو؟ قال: من ولد ابنی ھذا، و ضرب بیدہ علی الحسین۔ "لوگ اس کی رکن اور مقام کے مابین بیعت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے دین کو اس کے اصل مقام کی طرف پلٹائے گا، اسے فتوحات عطا کرے گا اور زمین پر کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہے گا، جو لا الہ الااللہ کا اقرار نہیں کرے گا۔ اس موقع پر حضرت سلمان (فارسی) کھڑے ہوگئے اور عرض کی یارسول اللہ! وہ آپ کے کس بیٹے کی اولاد میں سے ہوگا؟ آپ نے امام حسین پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا کہ میرے اس بیٹے کی اولاد میں سے۔” مندرجہ بالا روایات علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب العرف الوردی فی اخبار المھدی میں بھی درج کی ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں کل 255 احادیث نقل کی ہیں۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی آئل ٹینکر کی رہائی، امریکہ اور برطانیہ کی بڑی شکست

(تحریر: عبدالباری عطوان) جبل الطارق نے حال ہی میں ایران کا پکڑا ہوا آئل ٹینکر …