پیر , 16 دسمبر 2019

نیا پاکستان اور بہار عرب

(عباس مہکری)

پاکستان کے موجودہ اقتصادی بحران میں سیاسی تصادم اور سماجی ہیجان کے جو حالات بن رہے ہیں ، وہ کسی بھی طرح ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں نہیں ہیں ۔ ایسے حالات میں معیشت کو درست کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ جب پولیٹکل پولرائزیشن ہو رہی ہو اور لوگ خوف و بے یقینی کا شکار ہو رہے ہوں ۔ ان حالات کو دیکھ کر نہ جانے کیوں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمیں اس طرف دھکیلا جا رہاہے ، جس طرف ہم سے پہلے مشرق وسطی اور شمالی افریقا کی بعض اقوام اور ممالک کو دھکیلا گیا۔

زیادہ پرانی بات نہیں ہے ۔ ہم نے ’’ تحریک بہار عرب ‘‘ ( Arab Spring Movement ) کے طوفان کو اٹھتے دیکھا ۔ 2010 ء کے آخر سے شروع ہونے والی یہ تحریک 2012 ء کے آخر میں دم توڑ گئی اور دنیائے عرب سے شمالی افریقا تک عشروں تک خزاں مسلط کر گئی ۔ یہ تحریک بادشاہتوں ، آمرانہ حکومتوں ، غربت ، سیاسی کرپشن ، بیروزگاری ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ، بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی اور دیگر لعنتوں کے خلاف تھی ۔ یہ تحریک حقیقی جمہوریت ، انصاف ، میرٹ خوش حالی اور مساوات کے لیے تھی ۔ دنیا نے دیکھا کہ جگہ جگہ لاکھوں افراد کے مظاہرے ہو رہے ہیں ۔ شاہی محلات پر حملے ہو رہے ہیں ۔ فوجی بغاوتیں ہو رہی ہیں ۔ انقلابات رونما ہو رہے ہیں اور حکومتوں کے تختے الٹے جا رہے ہیں ۔ تیونس کے صدر زین العابدین ، مصر کے حسنی مبارک ، لیبیا کے کرنل قذافی ، یمن کے علی عبداللہ صالح کی حکومتوں کے تختے الٹے گئے ۔ بحرین خانہ جنگی کا شکار ہوا۔ شام لہو لہو ہے ۔ مراکش ، اردن اور فلسطینی اپنے سیاسی راستوں سے ہٹ گئے ۔ ماریشس اور سوڈان سے لے کر سعودی عرب تک احتجاجی مظاہروں نے زبردست ہیجان پیداکیا ۔ 60 ہزار سے زائد لوگ اس تحریک میں مارے گئے ۔ طوفان تھما تو پتہ چلا کہ ان اقوام کے پاس جو پہلے تھا، وہ بھی ان سے چھن گیا۔ بیماریوں ، بھوک اور غربت نے لوگوں کی سیاسی مزاحمت کا گلا دبوچ دیا۔ شام اور یمن سمیت کئی ممالک میں خانہ جنگی جاری ہے ۔ زیادہ تر ممالک میں فرقہ ورانہ ، نسلی اور گروہی تقسیم گہری ہو گئی ہے ۔ خوف بے یقینی کی وجہ سے کسی بھی قوم کو کوئی راستہ نہیں مل رہاہے ۔ 2010 ء میں لو گ بہت پر امید تھے کہ بادشاہت ، آمریت ، کرپشن اور نا انصافی کا خاتمہ ہو گا۔ وہ غربت اور بے روزگاری سے نجات حاصل کرلیں گے ۔

2013 میں انہی لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ یہ تحریک عالمی سامراجی طاقتوں کی ایک سازش تھی ، جس کا مقصد مسلم دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کو تباہ کرنا تھا۔ انہیں یہ بھی احساس ہوا کہ کسی ملک میں بجلی مفت تھی اور کہیں سستی تھی ۔ اب مہنگی بھی میسر نہیں ۔ غریب اور امیر میں پہلے فرق ضرور تھا لیکن غریب بھوکا نہیں مر رہا تھا ۔ بادشاہ ، آمر اور ان کے قریبی لوگ دولت ضرور لوٹ رہے تھے لیکن اب تو ان کے قومی وسائل کثیر القومی اداروں کے قبضے میں ہیں ۔ جمہوریت کے نام پر مسلط ہونے والے فوجی اور غیر فوجی حکمران پہلے حکمرانوں سے زیادہ بے رحم او ربیرونی ایجنٹ ہیں ۔

بہار عرب کا نتیجہ صرف یہ نکلاہے کہ مسلم دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتیں تباہ ہو گئی ہیں او راب وہاں کوئی قوم پرست اور سامراجی دشمن لیڈر نہیں رہاہے ۔ مشرق وسطی اور شمالی افریقا میں بادشاہتوں ، آمریتوں ، کرپشن اور اقربا پروری کا خاتمہ ہونا چاہئے تھا لیکن اس کے لیے سیاسی تحریکوں کو عالمی سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں ہائی جیک ہونے سے بچانا تھا لیکن ایسا نہ کیا جا سکا ۔ دیسی اور قومی سیاسی تحریکوں کو دہشت گردی نے پنپنے نہیں دیا ۔ ان دہشت گردوں کی پشت پناہی بھی عالمی طاقتیں کر رہی تھیں ۔ اب وہاں خزاں ہی خزاں ہے ۔ پاکستان میں بھی سیاسی بادشاہت اور کرپشن کے خاتمے کا کوئی بھی مخالف نہیں ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ جو کچھ مشرق وسطی میں ہوا ، وہ پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتا ۔

احتساب اور معیشت کو درست کرنے کے نام پر بعض سیاسی جماعتیں یہ سمجھ رہی ہیں کہ انہیں دیوار سے لگایا جا رہاہے اور انہیں سیاسی تصادم کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے ۔ عام لوگوں ، تاجروں ، صنعت کاروں اور ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد خوف اور بے یقینی کا شکار ہیں ۔ سیاست کمزور اور معیشت غیر فعال ہو رہی ہے ۔ لوگ اپنے اپنے طور پر احتجاج اور مزاحمت کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔ انارکی کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں ۔پاکستانی معیشت اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے عالمی اداروں اور بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے کارگر نہیں ہوں گے اور نہ اس سے نیا پاکستان بنے گا۔ نیاپاکستان مضبوط معیشت سے بنے گا اور معیشت کا استحکام سیاسی استحکام سے مشروط ہے ۔ ہمیں بہار عرب کے تجربات کو ضرور مدنظر رکھنا چاہئے اور یہ امر بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئےکہ بعض قوتیں جوہری پاکستان کی ابھرتی معیشت سے خوف زدہ تھیں۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

زیارت، مذہبی سیاحت اور ہمارے حکمران (1)

تحریر: ارشاد حسین ناصر پاکستان ایران کا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے، جس کے …