پیر , 16 دسمبر 2019

عمران ٹرمپ ملاقات: آخر امریکہ پاکستان سے چاہتا کیا ہے؟

(شجاع ملک)

وزیراعظم پاکستان عمران خان پیر 22 جولائی کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر رہے ہیں۔پاک امریکہ تعلقات میں تقریباً ڈیڑھ سال کی سرد مہری کے بعد اسے ایک مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس ملاقات میں فریقین ایک دوسرے سے کیا مطالبات کر سکتے ہیں؟

اس حوالے سے جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر جوشوا وائٹ کہتے ہیں کہ یہ تبدیلی افغانستان میں امریکی لائحہ عمل کی تبدیلی ہے۔ان کے مطابق ’بنیادی طور پر امریکہ کی افغانستان میں سٹریٹجی تبدیل ہو رہی ہے‘۔پروفیسر جوشوا وائٹ کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی مراحل میں امریکہ کی کوشش تھی کہ طالبان اور کابل کے درمیان طاقت کا توازن بدل سکے تاکہ مذاکراتی میز پر ان کے ساتھ زیادہ اثر و رسوخ ہو۔

’پھر انھیں اس بات کا احساس ہونے لگا کہ یہ لائحہِ عمل کام نہیں کرے گا۔ جیسے ہی انھوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا راستہ اپنایا انھیں پاکستان کو جگہ دینی پڑی۔’امریکہ اکثر پاکستان کو طالبان کے حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کو کہتا رہا ہے۔ ڈو مور ڈو مور کے نعرے تو سبھی کو یاد ہیں مگر پاکستان کی جانب سے دیکھا جائے تو طالبان اور امریکہ کے مذاکرات تو ہو رہے ہیں۔

پاکستان طالبان کو میز پر تو لے آیا ہے۔ اب امریکہ اس تناظر میں پاکستان سے اور کیا چاہے گا؟اس سوال کے جواب میں جوشوا وائٹ کہتے ہیں کہ یہ کہنا مبالغہ آرائی ہوگی کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کرنے پر مجبور کر سکا ہے۔’میرے خیال میں پاکستان بالکل تھوڑا مددگار ثابت ہوا ہے، خصوصی طور پر مُلا برادر کو اس بحث میں شامل کرنے میں۔ مگر یہ کہنا شاید درست نہیں ہوگا کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا ہے۔‘

امریکہ کے پاکستان سے مطالبات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو دو چیزیں چاہییں ہو گی۔‘ایک تو یہ کہ طالبان بین الافغان مذاکرات میں معنی خیز طریقے سے شرکت کریں اور دوسرا ہے جنگ بندی۔

پروفیسر وائٹ کے مطابق ’میرا ذاتی خیال ہے کہ پاکستان کے پاس شاید پہلا کام کرنے کے لیے تو تھوڑا بہت اثر و رسوخ ہے مگر دوسرا کام کرنے کے لیے ان کے پاس بہت کم اثر و رسوخ ہوگا۔ زیادہ مسلح بغاوتی تحریکوں والے مذاکرات پر دستخط ہونے سے قبل جنگ بندی سے گھبراتے ہیں کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ ان کے ہاتھ میں جو پتے ہیں وہ ضائع ہو جائیں گے۔’

اسی سوال کے جواب میں واشنگٹن ڈی سی میں موجود تھنک ٹینک نیو امریکہ سے وابستہ شاملہ چوہدری کہتی ہیں کہ ’پاکستان کا اب تک کردار مددگار کا رہا ہے یا پاکستان نے چیزوں کو ہونے سے روکا نہیں ہے۔’پاکستان نے طالبان کو سفر کرنے دیا ہے۔ ماضی میں پاکستانی حکومت نے ایسی چیزوں کو روکا ہے کیونکہ ان کے خیال میں انھیں افغانستان کے حوالے سے بات چیت میں شامل نہیں کیا گیا۔ مگر اس بار ایسا لگ رہا ہے کہ ان کے خیال میں ان کی رائے لی گئی ہے۔ مگر اس سے زیادہ پاکستان کا طالبان پر اثرورسوخ نہیں ہے جس کا امریکہ کو فائدہ ہو سکے۔’

پاکستان امریکہ سے کیا مانگ سکتا ہے؟
دوسری جانب پاکستان کی اس دورے پر امریکہ سے کیا امیدیں وابستہ ہوں گی؟ اس میں سرِفہرست فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف میں مدد ہے۔اگرچہ امریکی حکام نے کئی بار کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ایک ٹیکنیکل باڈی ہے اور امریکہ وہاں کوئی ویٹو وغیرہ نہیں چلا سکتا تاہم جوشوا وائٹ کا خیال ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے ایسا کہنا صرف بیان بازی ہے۔

انھوں نے بتایا: ’ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے امریکہ ٹیکنیکل طریقے سے بات کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکہ کا سیاسی اثر و رسوخ ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان کو پتا نہیں کہ کیا کرنا ہے یا کیسے کرنا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان ماضی میں ایسا کرنے سے کترایا ہے۔’

ایف اے ٹی ایف میں مدد کے علاوہ پاکستان امریکہ سے کیا مانگ سکتا ہے، ماہرین کی رائے میں اس طرف بھی زیادہ کچھ نہیں ہے۔جوشوا وائٹ کہتے ہیں کہ ’میرا نہیں خیال کہ پاکستان بہت سی چیزیں مانگے گا۔

’اس لیے کہ یہ ملاقات ہی پاکستان کے فائدے میں ہے، اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ باہمی روابط بہتر ہو رہے ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ یہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستان میں میڈیا کی آزادی کو چینلج درپیش ہیں اور دونوں اہم اپوزیشن لیڈر جیل میں ہیں، تو یہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب آپ کسی نارمل امریکی انتظامیہ میں اعلیٰ سطحی ملاقات کی توقع نہ رکھیں۔‘جوشوا وائٹ سمجھتے ہیں کہ ’پاکستانی حکام اس بات سے خوش ہوں گے آخر یہ ملاقات ہو رہی ہے‘۔

شاملہ چوہدری کی بھی اس سلسلے میں رائے ایسی ہی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’یہ ملاقات ہی پاکستان کے لیے انعام ہے۔ یہ مستقبل پر بات کرنے سے زیادہ اب تک جو ہوا ہے اس کا انعام ہے۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے لیے مددگار ہے ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ سے ملاقات عمران خان کو عالمی سطح پر زیادہ قد دیتی ہے اور امریکی انھیں قبول کر رہے ہیں۔‘تو پھر کیا پاکستان امریکی مارکیٹوں تک رسائی مانگے گا؟ پروفیشر وائٹ کہتے ہیں اس حوالے سے بھی زیادہ امیدیں نہیں۔

’تجارت کے بارے میں بات ہو گی مگر اس میں کوئی خاطر خواہ بریک تھرو نہیں ہوگا۔ پاکستان کے پاس پہلے ہی جی ایس پی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ کا خیال ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری میں رکاوٹیں پاکستانی نظام کا حصہ ہیں اور وہ ایسی چیزیں نہیں جن کی وجہ سے امریکہ کی طرف سے چھوٹ کا جواز بنے۔’

شاملہ چوہدری کہتی ہیں کہ ’پاکستانی فری ٹریڈ یا این ایس جی کے بارے میں بات کر سکتے ہیں مگر عموماً جب آپ کسی ملاقات میں ایسی بات کرتے ہیں تو عام طور پر اس کا ہوم ورک ہو چکا ہوتا ہے۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں تو صرف سائن آف ہوتا ہے۔ مگر ان میں سے کسی پر کام نہیں ہورہا۔ امریکیوں کے لیے یہ ملاقات ہی ہدف ہے۔’

علاقائی امن اہم ہے۔۔۔ یعنی انڈیا!
جوشوا وائٹ کا کہنا ہے کہ عمران خان کے اس دورے پر افغانستان کے علاوہ جو اہم بات امریکہ کرنا چاہے گا وہ انڈیا کے حوالے سے ہے۔ان کا کہنا تھا ’لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جیسے گروہ جن کی توجہ انڈیا پر مرکوز ہے، ان پر بات ہو سکتی ہے۔’

تاہم اس حوالے سے شاملہ چوہدری کا کہنا ہے کہ یہاں کچھ نیا نہیں ہوگا۔’حافظ سعید کی گرفتاری بہت عام سے بات ہے اور سچ جانیں تو اس وقت امریکہ کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہاں اس کا کریڈٹ لیا جا سکتا ہے۔ دہشتگردوں کے بارے میں بات ضرور ہوگی مگر شاید کوئی خاص چیز نہ مانگی جائے۔ ‘

ایران امریکہ کشیدگی
کیا امریکہ کی نظر میں پاکستان کا ایران امریکہ کشیدگی کے حوالے سے کوئی کردار ہے؟ماہرین کی رائے میں امریکہ پاکستان کو ایران کے حوالے سے اہم تصور نہیں کرتا۔جوشوا وائٹ کے خیال میں ایران کے بارے میں بات ہو سکتی ہے مگر ایران کے حوالے سے امریکی حکمتِ عملی میں پاکستان کا اہم کردار نہیں ہے۔

دوسری طرف شاملہ چوہدری کہتی ہیں کہ امریکی پالیسی سازوں کو پاکستان اور ایران کے تعلقات کے بارے میں گہرائی سے علم نہیں ہے اسی لیے امریکہ پاکستان کو اپنی ایران سٹیرٹیجی میں شامل نہیں کرتا۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

زیارت، مذہبی سیاحت اور ہمارے حکمران (1)

تحریر: ارشاد حسین ناصر پاکستان ایران کا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے، جس کے …