منگل , 22 اکتوبر 2019

ایران قانونی، منصفانہ اور عزت مندانہ مذاکرات کے لئے آمادہ ہے: صدر روحانی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران قانونی، منصفانہ اور عزت مندانہ مذاکرات کے لئے آمادہ ہے تاہم وہ مذاکرات کے نام پر ہرگز تسلیم نہیں ہو گا۔ صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام تر بیرونی دباؤ کے باوجود اس کی کسی بھی طرح کی اکڑ کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی کے بعد مقابل فریق کو پورے ایک سال کی مہلت دی تاکہ وہ ایٹمی معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرے مگر جب انہوں نے وعدہ خلافی کی تو اسلامی جمہوریہ ایران نے ایٹمی معاہدے کے دائرے میں اپنے رضاکارانہ وعدوں سے دستبردار ہونے کا ٹھوس فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے ایٹمی معاہدے میں باقی رہنے والے یورپی فریقوں کو ساٹھ روز کی مہلت دیئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ساٹھ دنوں میں بھی مقابل فریق نے اگر اپنے وعدوں کو نہیں نبھایا تو یقینی طور پر ایران کی جانب سے تیسرا قدم بھی اٹھایا جائے گا۔

صدر مملکت نے خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز کی سلامتی کو ایران کے لئے خاص اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ ایران خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی سلامتی کے ساتھ ساتھ دنیا کی تمام آبی راہوں منجملہ باب المندب اور بحر ھند کی سلامتی کی کوشش کر رہا ہے۔انھوں نے آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی سلامتی کو ایران اور علاقے کے ملکوں سے مربوط قرار دیا۔

ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کی جانب سے برطانوی آئل ٹینکر کو روکا جانا ایک درست قدم تھا اور پوری دنیا کو چاہئے کہ خلیج فارس کی سلامتی کی فراہمی کی بنا پر ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدردانی کرے۔صدر مملکت نے واضح کیا کہ ایران کبھی کشیدگی اور جنگ کے درپے نہیں رہا اور وہ کسی بھی ملک کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بدامنی پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

یہ بھی دیکھیں

ترک اور کرد کا ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام

انقرہ: شمالی شام میں 5 روزہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود فریقین کی جانب …