منگل , 22 اکتوبر 2019

جنرل حسین دہقان کا برطانیہ کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر سخت انتباہ

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)دفاعی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان نے برطانیہ کو آبنائے ہرمز میں مداخلت اور امریکہ کو جنگ کے آغاز کی بابت سخت خبر دار کیا ہے۔ الجزیرہ ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے دفاعی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی صورت میں ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے اور جنگ کی دھمکیاں محض فریب ہیں۔ بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان نے بڑے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اگر امریکہ نے جنگ کا فیصلہ کیا تو خطے میں اس کے تمام اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

دفاعی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ابوظہبی ایران کی سلامتی پر حملے کے امریکی مرکز میں تبدیل ہو گیا ہے اور اب اس نے کچھ لوگوں کو ایران بھیجا تھا جو امن کی بات کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے موقف میں اس تبدیلی، خطے میں ان کی ذلت آمیز شکست کا نتیجہ ہے۔

بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان نے کہا کہ ایران اپنے میزائل پروگرام کے بارے میں کسی سے مذاکرات نہیں کرے گا اور ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ انہوں نے خلیج فارس میں یورپی بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے خصوصی فورس کے قیام کے لیے دوسرے یورپی ملکوں کو دی جانے والی برطانوی تجویز پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال میں کسی بھی قسم کی تبدیلی خطرناک جنگ کا راستہ کھول دے گی۔

فوجی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر نے خبردار کیا کہ برطانیہ کی اس تجویز کے خود لندن کے لیے انتہائی غیر متوقع نتائج برآمد ہوں گے اور میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ آبنائے ہرمز یا تو سب کے لیے محفوظ ہو گا اور سب کا تیل یہاں سے گزرے گا ورنہ کسی کا بھی نہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب نے سلامتی کونسل کے نام ایک خط میں خلیج فارس میں روکے گئے برطانوی آئل ٹینکر اسٹینا ایمپیرو کے بارے میں اس کونسل کو آگاہ کر دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ آئل ٹینکر جمعہ انیس جولائی کو آبنائے ہرمز میں ماہیگیری کرنے والی ایک ایرانی لانچ سے ٹکرایا تھا جس سے لانچ کو نقصان پہنچا تھا اور متاثر کشتی کے عملے کے بہت سے ارکان کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔

اس خط کے مطابق برطانوی آئل ٹینکر نے اس حادثے کے بعد ایرانی عہدیداروں کے انتباہات پر کوئی توجہ نہیں دی اور جی پی ایس سسٹم خاموش کرنے کے بعد، خطرناک اقدام کرتے ہو‏ئے اپنا راستہ تبدیل کیا مخالف سمت میں حرکت کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن ایرانی سیکورٹی فورس نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔سلامتی کونسل کے نام لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ ایران کا یہ اقدام آبنائے ہرمز میں نظم و نسق کی برقراری اور جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ضروری اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق تھا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب کے خط میں کہا گیا ہے کہ برطانوی آئل ٹینکر سے ماحولیات اور ایرانی لانچ کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی کی جارہی ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندہ دفتر نے مذکورہ بالا اطلاعات اور معلومات کی بنیاد پر اسٹینا ایمپیرو نامی آئل ٹینکر کے حوالے سے برطانوی سلامتی کونسل کے دعوے کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ترک اور کرد کا ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام

انقرہ: شمالی شام میں 5 روزہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود فریقین کی جانب …