جمعہ , 6 دسمبر 2019

مسئلہ کشمیر کا گیند ٹرمپ کے کورٹ میں، اللہ خیر کرے

(رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ)

پاکستان کے غیر روایتی وزیراعظم اور امریکہ کے غیر روایتی صدر کے درمیان ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ کی کوئی منفی ٹوئٹ نہیں آئی۔ ایک لحاظ سے مسئلہ کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی جیت ہوئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ازخود ثالثی کی پیشکش کی ہے، کیونکہ بھارت نے مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ تیسرے فریق کی ثالثی کی مخالفت کی ہے، جبکہ پاکستان نے اقوام متحدہ سمیت کئی بین الاقوامی فورمز پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کریں۔ اسی لیے بزرگ کشمیری رہنما اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اپنی زندگی میں پہلا لیڈر دیکھ رہا ہوں، جس نے ہم نہتے کشمیریوں کے لیے آواز اُٹھائی ہے۔

عمران خان کی طرف سے کشمیر کے ذکر پر کشمیری بھی خوش ہیں، یہ ایک خوشگوار امر ہے۔ سید علی گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکہ کو کشمیر کی آزادی کے لیے کردار ادا کرنا پڑے گا اور ہم امریکہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ لیکن جب عمران خان نے بھارت میں لوک سبھا انتخابات سے قبل کہا تھا کہ اگر آئندہ حکومت کانگریس کی بنی تو مقبوضہ کشمیر پر معاہدہ کرنا مشکل ہوگا، لیکن اگر بھارتیہ جنتا پارٹی جیت گئی تو شاید مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکل آئے۔ اس وقت اپوزیشن اور کشمیری رہنماؤں نے ان سے اختلاف کیا اور تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ سید علی گیلانی مظلوم کشمیریوں کی بزرگ لیکن طاقتور آواز ہیں، پاکستان کے سچے دوست، انکا وطن پاکستان ہے، جو کشمیر کے بغیر ادھورا ہے، آزادی انکا خواب اور ارمان ہے، جس کیلئے وہ جیتے ہیں، زندگی وقف ہے، دکھ برداشت کرتے ہیں، تھکتے نہیں اور آگے بڑھتے جاتے ہیں۔

ٹرمپ نے کشمیر کا ذکر جنوبی ایشیاء سے متعلق امریکی پالیسی کے ضمن میں کیا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں بھارت چین کیخلاف امریکہ کا حلیف ہے، پاکستان افغانستان میں امریکی اتحادی ہے، لیکن برصغیر کے دونوں ممالک باہم حریف ہیں۔ وجہ تنازعہ کشمیر ہے، امریکہ مفادات اس بات تقاضا کرتے ہیں کہ وہ دونوں ممالک کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرے۔ اسی لیے امریکہ نے کبھی کشمیر پہ کھل کر بات نہیں کی، تاکہ بھارتی موقف کمزور نہ ہو۔ اسوقت خطے میں امریکی مفادات کا تقاضا ہے کہ پاکستان اور بھارت کیساتھ وہ اپنے تعلقات میں تبدیلی لائیں۔ عمران خان کے حالیہ دورے کے دوران صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم مودی نے انہیں کشمیر پر کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے، عمران خان نے فوری طور پر اس کی تائید کی کہ ٹرمپ یہ مسئلہ حل کروا کر اربوں لوگوں کی دعائیں لے سکتے ہیں۔ بھارت کا اصرار رہا ہے کہ پاکستان کیساتھ صرف دوطرفہ مذاکرات ہی ہوسکتے ہیں اور کشمیر پر کسی کی بات نہیں سنی جائے گی۔

عمران خان کے دورے سے قبل امریکہ نے بھارتی پشت پناہی سے بلوچستان میں تباہی مچانے والے بلوچ لبریشن آرمی کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا اور پاکستان نے کالعدم جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو گرفتار کیا۔ جس طرح بی ایل اے کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جانے پر پاکستان میں خوشی کا اظہار کیا گیا، اسی طرح صدر ٹرمپ حافظ سعید کی گرفتاری پر بمبئی حملوں کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں ملوث جس ملزم کی تلاش جاری تھی، سالوں سال بعد وہ گرفتار ہوگیا ہے۔ یہ دو نکتے ہی کافی ہیں کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان یہ طے ہوچکا ہے کہ کشمیر پر بات کی جائے، یہ بعد کی بات ہے کہ وہ کیسے ہوگی اور اس کے نتائج کیا ہونگے۔ ایک اہم چیز یہ بھی ہے کہ امریکہ بھارت کو محسوس کروانا چاہتا ہے کہ وہ ایران کیساتھ تجارتی تعلقات میں کمی لائیں، دوسرے پاکستان کی جانب سے افغان امن عمل کو کشمیر کیساتھ جوڑا جاتا ہے۔

یوں امریکیوں کو رضامند کر لیا گیا کہ وہ افغانستان سے انخلاء، جو محفوظ ہو اور اسکے بعد افغانستان میں امریکہ مخالف تربیت گاہیں اور اڈے قائم نہ ہوں، تبھی ممکن ہے جب پورے جنوبی ایشیاء کے کینوس کو سامنے رکھ کر بات کی جائے۔ ظاہر ہے پاکستان کی جانب سے بھارت کیساتھ پانی پر بھی بات ہوگی اور بھارت آئندہ کشمیری جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار نہیں دیگا، بھارت کا یہ بہانہ جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسے گروہوں پر پابندی لگا کر ختم کیا جائیگا، یہ عمل شروع ہوچکا ہے۔ البتہ امریکہ سے کسی خیر کی توقع نہیں، چونکہ ایک طرف پاکستان جنوبی ایشیاء کا اہم ملک ہے، دوسری طرف ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے، افغانستان، پاکستان، ایران اور بھارت کا امن آپس میں جڑا ہوا ہے۔ خیر کی توقع اس لیے نہیں رکھی جاسکتی کہ امریکہ کی جانب سے کوئی بھی عمل شرارت سے خالی نہیں، ابھی تو صرف کشمیر کا ذکر ہوا ہے، اگر یہ آگے بڑھتا ہے تو امریکہ پاکستان سے مزید کیا مطالبے کرتا ہے۔

پھر ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہ مطالبات ہم پورے کرنیکی پوزیشن میں ہیں، نہیں ہیں، انکے اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ عمران ٹرمپ ملاقات اور فوجی قیادت کے مذاکرات پورے جنوبی ایشیاء کے متعلق اہداف اور نتائج کی خاطر ممکنہ اقدامات کیلئے ہو رہے ہیں، اسی لیے امریکہ نے ماضی میں حقانی گروپ کے ایشو کو جیش محمدؐ اور لشکر طیبہ کیساتھ جوڑ کر بات نہیں کی، اب انکا ذکر اکٹھے کیا جا رہا ہے۔ بی ایل پر پابندی کساتھ امریکہ نے پاکستانی سرزمین استعمال کرتے ہوئے ایران کیخلاف کارروائیان کرنیوالے جیش العدل کو بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ یہ امر اب واضح ہے کہ امریکہ کا رخ مکمل طور پر ایران کیخلاف دباؤ میں اضافے کیلئے علاقائی کھلاڑیوں کو نیوٹرالائز کرنا اور اپنے حق میں استعمال کرنا ہے، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سی آئی اے، موساد اور را اب سی پیک کو سبوتاژ کرنیکے لیے Spoiler کا رول پلے نہیں کرینگے۔ لیکن کشمیر کا ذکر ہونیکی وجہ سے پاکستان کیلئے فضاء سازگار ہوسکتی ہے، اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

جن لوگوں کو ثالثی کی امریکی پیشکش میں مثبت اشارے مل رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ مبصرین سمجھتے ہیں کہ مودی، عمران خان اور ٹرمپ تینوں ہی غیر روایتی ساستدان ہیں اور ہمیشہ دنیا کے دیرینہ حل طلب مسائل کا حل غیر روایتی طریقے سے ان سیاسی رہنماؤں نے نکالا ہے، جو سکہ بند روایتی سیاستدان نہیں تھے۔ اسی لیے بھارت کے مؤقر اخبار ہندوستان ٹائمز نے اس ضمن میں خبر کے ساتھ ہی اپنی تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسی میں کسی خفیہ تبدیلی کے اشارے ملتے ہیں۔ اگر یہ درست بھی ہو تو بھارت میں وزیراعظم مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارت نواز کشمیر رہنما عمر عبداللہ نے اپنے ایک پیغام میں سوال کیا ہے کہ کیا اس بیان پر بھارتی حکومت صدر ٹرمپ کو جھوٹا قرار دے گی؟ اور یا پھر حقیقت میں بھارت نے تیسرے فریق کی ثالثی قبول کرتے ہوئے خفیہ طور پر اپنی روایتی پالیسی تبدیل کر لی ہے۔؟

دوسری طرف دباؤ کا شکار بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی بھی امریکی صدر سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست نہیں کی ہے، پاکستان کے ساتھ تمام درپیش مسائل پر صرف دو طرفہ بات چیت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں شملہ معاہدے اور لاہور اعلامیہ کا بھی ذکر کیا۔ پہلے مرحلے میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی صدر کو جھوٹا قرار دے دیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے کی جانے والی وضاحت کو بھارتی حزب اختلاف کی جماعتوں نے ناکافی قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے۔ بھارت کی سابق حکمراں جماعت کانگریس کے ترجمان رندیپ سورج والا نے اس ضمن میں کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کی جانب سے کسی تیسری طاقت کو ثالثی کی درخواست دینا بھارت کے قومی مفادات کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم مودی کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ بھارتی میڈیا اور وزارت خارجہ کے بیانات اور تبصرے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ڈیل یا تو بہت زیادہ گہری اور پوشیدہ ہے یا سرے سے جھوٹ پہ مبنی ہے۔ لیکن سید علی گیلانی کو اچھی خبر ملی ہے، البتہ وہ عمران خان سے پاکستانی عوام کی طرح ہر قسم کی امیدیں نہیں باندھیں گے۔ ٹرمپ کا کشمیر پر ثالثی کا عندیہ اگر پاکستان کی مکمل فتح کا آغاز نہیں بھی تو وزیراعظم مودی کیلئے بڑی شکست ہے، ممکن یہ عارضی ثابت ہو۔ اس کے لیے انتظار کرنا ہوگا، مودی ستمبر میں امریکہ جا رہے ہیں، ہوسکتا ہے ٹرمپ انہیں جتا دیں اور بازی پلٹ جائے۔ اللہ خیر کرے، مسئلہ کشمیر کی گیند اب ٹرمپ کے کورٹ میں پھینک دی گئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

تمہاری ہمدردی ہماری حب الوطنی پر داغ ہے

خرم شہزاد ہندوستانی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کا فیصلہ سنادیا اور مسجد کی جگہ …