جمعرات , 24 اکتوبر 2019

پاکستان امریکہ کی بیساکھی تو نہیں بن رہا؟

(تحریر: صابر ابو مریم)

وزیراعظم پاکستان عمران خان کا دورہ امریکہ ختم ہونے کے بعد ذرائع ابلاغ پر ملی جلی خبریں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کس کے مفاد میں ہیں؟ کیا پاکستان کو امریکہ کی دوستی سے آج تک کوئی فائدہ حاصل ہوا ہے؟ تاریخی شواہد اور واقعاتت یہی بتاتے ہیں کہ امریکہ سے جس کسی نے بھی دوستی کی، وہ خسارے میں رہا ہے۔ یہی نظریہ پاکستان میں بھی پایا جاتا ہے اور نہ صرف خسارہ بلکہ امریکی حمایت یافتہ دہشت گردی اور دہشت گرد گروہوں کی وجہ سے پاکستان نے بے پناہ نقصان برداشت کیا ہے، جس کا اعتراف کبھی بھی امریکی انتظامیہ نے اس طرح سے نہیں کیا ہے، جس طرح حق تھا۔ اسی طرح دنیا کے کئی اور ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ جنہوں نے امریکہ کو اپنا دوست مان لیا ہے یا اپنے لئے مسیحا قرار دیا، وہ سب کے سب بدترین نقصان کا شکار رہے۔ ابھی تازہ ترین ہمارے عرب ممالک کے حالات کو ہی دیکھ لیجئے کہ امریکہ کی دوستی کے جھانسے میں آکر تیل کی دولت امریکی سرکار کے لئے صرف کئے جا رہے ہیں۔

بہرحال جہاں تک پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی بات ہے تو واضح رہے کہ امریکہ نے تاریخ میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ متعدد مرتبہ پاکستان کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کا حالیہ دورہ تو پہلے ہی مشکوک ہوچکا ہے، کیونکہ اگر انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون میں نشر ہونے والی خبر کا مطالعہ کیا جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دورہ چند عرب ممالک اور بالخصوص پاکستان کے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے حکمرانوں کی خواہش پر منظم کیا گیا ہے اور اس دورہ کے لئے انہوں نے امریکہ کے ساتھ کافی لابنگ کی، جس کے نتیجہ میں وہ اس دورہ کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوئے۔

آئیں اب بات کرتے ہیں اس دورہ میں ہونے والی امریکی صدر اور وزیراعظم پاکستان کی ملاقات کی، جس کو حکومتی حلقے بہت ہی فخر کا باعث سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ امریکی صدر دنیا کی تاریخ کے سب سے بد اخلاق اور غیر ذمہ دار صدر ہیں، جنہوں نے اپنی صدارت کے بعد سے اب تک متعدد ایسے کارنامے انجام دیئے ہیں، جو نہ صرف امریکی صدر کی ذلت کا باعث بنے ہیں بلکہ امریکہ کے عوام کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ دراصل امریکی صدر سے وزیراعظم پاکستان کی ملاقات کو اس طرح فخریہ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جیسا کہ کوئی عجوبہ سرانجام ہوا ہے۔ کیا پاکستان جیسے ایٹمی ملک کے وزیراعظم کو امریکہ کے عام فہم احمق صدر سے ملاقات کو فخر کا باعث قرار دینا چاہیئے۔؟

دراصل امریکہ نے سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ذریعے پاکستان کے وزیراعظم کے امریکی دورہ کو حتمی شکل اس لئے دی، کیونکہ اگر گذشتہ چند سالوں کی سیاست کا مطالعہ کریں اور مغربی ایشیائی ممالک سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں رونما ہونے والے واقعات و حوادث کا بغور مشاہدہ کریں تو ایک بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ امریکہ اور اس کے عربی و غربی اتحادیوں کو ان خطوں میں اپنی پالیسیوں پر شدید ناکامی کا سامنا ہے۔ ایک طرف امریکہ اپنی طاقت کا بھرم قائم رکھنے کے لئے ایران جیسے ممالک کے خلاف بڑے بڑے دعوے کرتا ہے، لیکن ایک ہفتہ کے اندر ہی ان دعووں میں کئی کئی تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں اور امریکہ اس قابل ہی نہیں رہتا ہے کہ اپنے اعلانات پر عمل کرے یا کروا سکے۔ امریکہ کو ایران، شمالی کوریا اور شام سمیت لبنان میں موجود حزب اللہ اور فلسطین کے عوام اور مزاحمتی تحریک حماس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان جیسا بڑا اسلامی اور ایٹمی طاقت ملک امریکی صدر کے ساتھ وزیراعظم کی ملاقات کو پاکستان کے لئے فخر محسوس کر رہا ہے، کیا معنی رکھتا ہے۔؟

جیسا کہ کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں فلسطین سے شام، لبنان، عراق، افغانستان اور خطے کے دیگر مقامات پر امریکی سیاست اور پالیسیاں ناکامی کا شکار ہوچکی ہیں اور پھر اب حالیہ دنوں بحرین میں امریکی سربراہی میں خطے کے لئے بالخصوص فلسطین کے سودے کے لئے پیش کردہ صدی کی ڈیل میں ناکامی کا شکار ہوچکی ہے تو امریکہ مکمل طور پر خطے کی سیاست سے باہر نکلتا چلا جا رہا ہے۔ خاص طور پر فلسطینیوں کی مزاحمت، شام میں مزاحمتی قوتوں کے ہاتھوں امریکی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع ہونا اور پھر افغانستان میں امریکی شکست نے امریکہ کو مغربی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کی سیاست سے کنارہ کش بلکہ باہر اور تنہا ہی کر دیا ہے۔

خطے کی موجودہ صورتحال میں امریکی سیاست کی ناکامیوں نے امریکہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ اب بیساکھیوں کی تلاش کرے۔ ایشیائی ممالک میں پاکستان ہی ایک ایسا بڑا اور طاقتور اسلامی ملک ہے، جو امریکہ کے لئے ایک مضبوط بیساکھی کا کردار ادا کرسکتا ہے اور اس کام کے لئے امریکہ نے جہاں عرب اتحادیوں کی مدد لی ہے، وہاں براہ راست خود بھی کوشش کی ہے کہ پاکستان کے اہم ترین مسئلہ، یعنی کشمیر کی حمایت میں بات کی جائے، لیکن یہاں یہ بات ضرور مدنظر رکھنی چاہیئے کہ امریکہ جسے سپر پاور ہونے کا زعم تھا، اب اس کی سپرپاور رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہے اور اب امریکہ اپنے وجود کی بقاء کے لئے جہاں عرب بیساکھیوں کا سہارا لے رہا ہے، وہاں ساتھ ساتھ عرب اتحادیوں کے دوست ممالک بالخصوص پاکستان جیسے عظیم و طاقتور ممالک کو بھی دھوکہ دہی کے ذریعے اپنے جال میں پھانسنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔

خلاصہ یہی ہے کہ امریکہ کے ساتھ دوستی کا مطلب اپنا نقصان اور بربادی ہے، جن جن ممالک نے امریکہ سے دوستی نہیں کی، ان میں خود لاطینی امریکہ کے کئی ممالک شامل ہیں، جو پاکستان تو کیا بلکہ عرب ممالک سے بھی بہت چھوٹے ممالک ہیں جبکہ پاکستان تو پھر ایک بڑا ملک ہے۔ لہذا حکومت وقت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں ہوسکتا اور خاص طور پر امریکہ جو ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل رہا ہے، وہ کسی طرح بھی پاکستان کا خیرخواہ نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کے عوام کبھی بھی اپنے وطن عزیز کو امریکی بیساکھی نہیں بننے دیں گے۔ امریکی ناپاک عزائم میں ایک ناپاک منصوبہ پاکستان کی مضبوط افواج کو بھی کمزور کرنا ہے، اس لئے اندرونی و بیرونی سطح پر امریکہ کئی ایک ایسے گروہوں کی براہ راست مدد کرر ہا ہے، جو افواج پاکستان کو کمزور کرنے اور ان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ بس اب سوچنا یہ ہے کہ کہیں پاکستان امریکہ کے لئے بیساکھی کا کردار تو ادا نہیں کرنے جا رہا یا یہ کہ پاکستان کے نام نہاد عرب دوست پاکستان کو امریکہ کے لئے بیساکھی تو نہیں بنا رہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کے خلاف ٹرمپ کی ہر چال ہوئی ناکام تو انہوں نے اٹھایا نیا قدم (پہلا حصہ)

ظاہری طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطی میں کسی نئی جنگ کی شروعات …