منگل , 15 اکتوبر 2019

جاسوسی کی دنیا میں امریکہ پر ایران کی کاری ضرب

(تحریر: محمود حکیمی)

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی صدر ایران کے ہاتھوں شدید اکتاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ اب وہ پہلے کی طرح خود کو پرسکون ظاہر کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے اور انتہائی غصے کے عالم میں ایران کے بارے میں بیان دیتے ہیں۔ اس بات کی تازہ ترین مثال اور ان کے غصے کے آثار ٹویٹر پر ان کے اس پیغام میں قابل مشاہدہ ہیں جو انہوں نے ایران کی جانب سے امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے سے وابستہ 17 جاسوس گرفتار کئے جانے کی خبر سے متعلق دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں اس خبر کی تکذیب کی اور دعوی کیا کہ "یہ خبر مکمل طور پر جھوٹی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہ خبر ایرانی حکومت کی جانب سے محض ایک پروپیگنڈہ ہے۔” اپنے اس پیغام میں ایران پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کرنے کا مطلب غصے کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے نفسیاتی ردعمل کے طور پر غصے کا اظہار کیا ہے۔ دلچسپ نکتہ تو یہ ہے کہ امریکی میڈیا خود ڈونلڈ ٹرمپ کو دور حاضر کا سب سے بڑا جھوٹا سیاستدان ثابت کر چکا ہے۔ امریکی نیوز چینل سی این این کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے گذشتہ 800 دنوں میں 9 ہزار 451 مرتبہ جھوٹ بولا اور یوں امریکہ کے جھوٹے ترین صدر قرار پائے ہیں۔

درحقیقت ڈونلڈ ٹرمپ کا جھوٹا ہونا نہ تو کوئی نئی بات ہے اور نہ حیرت آور۔ اہم نکتہ ایران میں 17 امریکی جاسوسوں کی گرفتاری کی خبر پر ان کا برہم ہونا ہے۔ ایران اور امریکہ میں زور آزمائی کے موجودہ بحرانی دور میں ایران میں ان جاسوسوں کی موجودگی ضرور امریکہ کیلئے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہو گی۔ گذشتہ تین ماہ کے دوران امریکہ نے ایران کے خلاف تناو پر مبنی نئے اقدامات کا آغاز کیا ہے اور اس دوران خلیج فارس سے لے کر بحیرہ اومان تک فوجی ٹکراو کا خطرہ بھی پایا گیا ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی امریکہ نے 500 مزید فوجی سعودی عرب بھیجے ہیں۔ امریکہ گاہے بگاہے خلیج فارس اور خطے کے ممالک میں اپنے نئے فوجی بھیج کر ایران کے ساتھ تناو والی فضا برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے حالات میں ایران کے اندر جاسوسی نیٹ ورکس کی موجودگی امریکہ کیلئے خاص اہمیت کی حامل ہے۔ جیسا کہ ایران کے حساس اداروں کے سربراہان نے بیان کیا ہے گرفتار ہونے والے امریکی جاسوس ملک کے مختلف اہم اقتصادی، جوہری، فوجی اور سائبر مراکز میں سرگرم عمل تھے۔ اسی طرح بعض جاسوس ایسی کمپنیز میں کام کر رہے تھے جو ملک کے حساس مراکز سے رابطے میں تھیں لہذا انہیں اہم معلومات تک رسائی حاصل تھی۔

امریکہ کو ایران کے اندر کے حالات سے آگاہ رہنے کیلئے ان جاسوسوں کی جانب سے موصول ہونے والی جدید اور اہم معلومات کی ضرورت تھی لیکن اب وہ انہیں مکمل طور پر کھو چکا ہے۔ لہذا ان جاسوس نیٹ ورکس سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے بعد اب امریکہ ایران کے خلاف دباو بڑھانے والی حکمت عملی آگے بڑھانے میں شدید مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے غصے کی ایک اور وجہ ایران میں اپنا یہ جاسوس نیٹ ورک عیاں ہو جانے سے متعلق ہے۔ یہ واقعہ اس قدر اہم ہے کہ اسے ایران کی کاونٹر انٹیلی جنس کی سونامی قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی کیرولینا یونیورسٹی کے نیشنل سیکورٹی اینڈ انٹیلی جنس شعبے کے پروفیسر جوزف فیٹساناکس نے ای بی سی نیوز چینل پر اپنے مقابلے میں اس واقعے کا تجزیہ کیا ہے۔ وہ شروع میں سی آئی اے کے ان افسران کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے سفارتکاروں کے روپ میں ایران میں پکڑے گئے جاسوسوں کو ٹریننگ دی تھی اور وہ مستقل طور پر آپس میں رابطے میں تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس وقت سی آئی اے کی اصل پریشانی یہ ہے کہ سفارت کار کے روپ میں اس کے ان افسروں کی شناخت نہ ہو چکی ہو۔ اس وقت ایران نے نہ صرف انہیں شناخت کر لیا ہے بلکہ یہ معلومات منظرعام پر بھی لے آئے گا۔

یہ افسران معمولی سطح کے نہیں ہیں بلکہ انتہائی تجربہ کار جاسوس ہیں اور اگر ان کی شناخت ہو گئی تو وہ مزید جاسوسی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ اسی طرح ان افسران کے زیر نگرانی چلنے والے تمام نیٹ ورکس کی افادیت ختم ہو سکتی ہے۔ لہذا جوزف فیٹساناکس نے سی آئی اے کے سربراہان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آئندہ چند ماہ کے دوران اپنے ہیڈکوارٹر میں جمع ہو کر ان جاسوسوں کی گرفتاری کے نتیجے میں پیش آنے والے ممکنہ نقصان کا تخمینہ لگائیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مشرق وسطی خطے میں سی آئی اے کے جاسوسوں کا مستقبل ختم ہونے والا ہے۔ اب نہ صرف ایران کے انٹیلی جنس ادارے بلکہ دیگر ممالک کے انٹیلی جنس ادارے میں ان امریکی جاسوسوں کو پہچان چکے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مظلومین کشمیر اور مظلومین یمن میں فرق کے منفی اثرات

تحریر: صابر ابو مریم میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان کے وزیر …