جمعرات , 24 اکتوبر 2019

بھارت: ایک ہی ضلع کے 132 گاؤں میں ایک بھی لڑکی پیدا نہ ہونے کا انکشاف

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک اور 60 کروڑ سے زائد خواتین والے ملک بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے 132 گاؤں میں ایک بھی لڑکی پیدا نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔رپورٹس کے مطابق ریاست اتراکھنڈ کے ضلع اترکاشی کے مختلف تحصیلوں کے 132 گاؤں میں گزشتہ تین ماہ کے دوران ایک بھی لڑکی پیدا نہیں ہوئی۔مذکورہ 132 گاؤں میں اپریل سے جون 2019 تک مجموعی طور پر 216 بچے پیدا ہوئے جو تمام کے تمام لڑکے تھے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ اشش چوہان کے مطابق حکام کو معلوم ہوا ہے کہ ضلع کے 132 گاؤں میں گزشتہ تین ماہ میں ایک بھی لڑکی پیدا نہیں ہوئی۔اشش چوہان کا کہنا تھا کہ مذکورہ گاؤں میں ایک بھی بچی پیدا نہ ہونے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے جب کہ ضلع میں کام کرنے والے صحت ورکرز کو بچوں کی پیدائش سے متعلق نگرانی کو کڑا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ریاست اتراکھنڈ کے محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اترکاشی کے شہر ڈنڈا کے 27 گاؤں میں گزشتہ تین ماہ کے دوران 51 خواتین کے ہاں بچے پیدا ہوئے، تاہم ان میں ایک بھی بیٹی نہ تھی۔

اسی طرح بھتواری شہر کے 27 گاؤں میں 49 بچوں، نؤگان شہر کے 28 گاؤں میں 47 بچوں، موری شہر کے 20 گاؤں میں 29 بچوں، سائنالائسر شہر کے 16 گاؤں میں 23 بچوں اور پارولا شہر کے 14 گاؤں میں 17 بچوں کی پیدائش ہوئی، تاہم پیدا ہونے تمام بچے لڑکے تھے۔

ایک ہی ضلع کے اتنے سارے گاؤں میں ایک بھی لڑکی پیدا نہ ہونے کے بعد ضلعی حکام، مقامی سیاستدانوں اور سوشل ورکرز میں تشویش پھیل گئی اور ہنگامی بنیادوں پر اجلاس منعقد کرنے کے بعد معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔

حکام اور سوشل ورکرز کو خدشہ ہے کہ گاؤں میں لوگ بڑی تعداد میں بچیوں کے حمل ضائع کر وا رہے ہیں، تاہم حکام کے پاس اس کے تصدیقی شواہد موجود نہیں ہیں۔

سوشل ورکرز کا خیال ہے کہ دور دراز علاقوں کے گاؤں لڑکیوں کے مقابلے لڑکوں کو ترجیح دے رہیں، کیوں کہ بظاہر لڑکیاں انہیں معاشی استحکام کے لیے کوئی مدد فراہم نہیں کرتیں۔اتراکھنڈ کے ایک ہی ضلع کے 132 گاؤں میں لڑکیوں کے پیدا نہ ہونے کا معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ بھارت کی یونین حکومت نے ملک بھر میں ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ مہم شروع کر رکھی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ضلع میں خواتین کی شرح بھارت بھر سے زیادہ ہے، تاہم اب اسی ضلع کے درجنوں گاؤں میں ایک بھی لڑکی کے پیدا نہ ہونے پر حکام تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

ادھر بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اترکاشی کے 132 گاؤں میں ایک ہی بچی پیدا نہ ہونے کے معاملے کے بعد ضلع حکام نے تحقیق کرتے ہوئے پتہ لگایا گیا ہے کہ اصل حقائق کچھ اور ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ مذکورہ گاؤں میں اپریل سے جون 2019 تک ایک بھی بچی پیدا نہیں ہوئی، تاہم اسی ضلع کے دوسرے گاؤں میں اسی عرصے کے دوران لڑکوں سمیت لڑکیوں کی پیدائش بھی ہوئی ہے۔ضلعی حکام کو تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اترکاشی ضلع میں اپریل سے جون 2019 تک مجموعی طور پر 961 بچوں کی پیدائش ہوئی، جس میں سے 479 لڑکیاں پیدا ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق حکام کو معلوم ہوا ہے کہ اترکاشی کے دوسرے 166 گاؤں میں 88 لڑکیاں اور 78 لڑکے پیدا ہوئے ہیں اور مجموعی طور پر ضلع میں پیدا ہونے والے نئے بچوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

نئے اعداد و شمار کا پتہ چلنے کے بعد حکام نے کہا ہے کہ بچوں اور بچیوں کی پیدائش کے حوالے سے میڈیا پروپیگنڈا کے تحت منفی رپورٹنگ بھی کر رہا ہے، تاہم پھر بھی یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ درجنوں گاؤں میں لڑکیوں کی پیدائش کیوں نہیں ہوئی؟

خیال رہے کہ اتراکھنڈ کے اسی ضلع اترکاشی میں ایک ہزار مردوں کے مقابلے ایک ہزار 24 خواتین ہیں جب کہ بھارت بھر میں ایک ہزار مردوں کے مقابلے 933 خواتین ہیں۔بھارت کی 2011 کی مردم شماری کے مطابق بھارت کی مجموعی آبادی ایک ارب 21 کروڑ5 لاکھ 69 ہزار 573 تھی، جس میں سے 62 کروڑ 31 لاکھ 21 ہزار 843 مرد جب کہ 58 کروڑ 74 لاکھ 47 ہزار 730 خواتین تھیں۔

یہ بھی دیکھیں

نواز شریف کے پلیٹیلیٹس کی تعداد میں ایک بار پھر تشویشناک حد تک کمی

لاہور: لاہور کے سروسز اسپتال میں زیر علاج سابق وزیراعظم نوازشریف کے پلیٹیلیٹس کی تعداد …