جمعرات , 24 اکتوبر 2019

امریکا میں 16 سال بعد سزائے موت بحال

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) اٹارنی جنرل بل بار کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت نے قتل کے جرائم میں ملوث 5 قیدیوں کی سزائے موت کی تاریخ طے کرتے ہوئے 16 سال بعد اس سزا کو بحال کردیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پر تشدد جرائم پر سخت سزا کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بل بار نے فیڈرل بیورو آف پرزنز (وفاقی قیدی بیورو) کو سزائے موت کے لیے جان لیوا انجیکشن کا طریقہ اپنانے کا کہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کی مختلف ریاستوں کی جانب سے ریاستی جرائم پر 25 سزائے موت پر عمل در آمد کیا جا چکا ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ‘جسٹس ڈپارٹمنٹ کی ذمہ داری انصاف فراہم کرنا ہے اور اور ہم عدلیہ کے فیصلوں پر متاثرین اور ان کے اہلخانہ کے لیے عمل در آمد کر رہے ہیں’۔انہوں نے بیورو آف پرزنز کو ایک زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت پر عمل در آمد کے احکامات دیے جبکہ اس سے قبل 3 انجیکشن استعمال کیے جاتے تھے۔

جسٹس دپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ آئین کی 8ویں ترمیم، جس کے تحت دردناک سزا پر پابندی عائد کی گئی تھی کے باوجود 2010 سے اب تک 14 ریاستوں نے 200 سے زائد سزائے موت میں پینٹور باربیٹل زہر کا استعمال کیا ہے جبکہ وفاقی عدالتوں سمیت سپریم کورٹ نے بھی بارہا اس کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مسئلہ کشمیراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے: ملائیشین وزیراعظم

کوالا لمپور: ملائیشیا کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے …