بدھ , 23 اکتوبر 2019

کینیڈا کا برطانوی سمندری اتحاد میں شمولیت سے انکار

اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک)کینیڈا کے وزیر دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ اوٹاوا کا آبنائے ہرمز میں بحری بیڑے بھیجنے اور برطانیہ کے مجوزہ سمندری اتحاد میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔مغربی ذرائع کی رپورٹوں کے مطابق برطانیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی سیکورٹی کے نام پر سمندری اتحاد کے قیام سے متعلق خبروں کے درمیان کینیڈا کے وزیر دفاع ہرجیت سجن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو تاحال ایسے کسی بھی اتحاد میں شمولیت کی کوئی درخواست نہیں ملی۔

ہرجیت سجن نے جو خود بھی ایک ریٹائرڈ فوجی افسر ہیں، کہا کہ کینیڈا سے فوجیں بھیجنے کی درخواست نہ کرنا کوئی بری بات نہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت کینیڈا کا خیال ہے کہ خلیج فارس میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو سفارتی طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے جبکہ علاقے میں مزید فوجیں بھیجنے سے خطے کی کشیدگی میں اضافہ ہی ہو گا۔

قبل ازیں روزنامہ واشنگٹن ایگزامنر نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ برطانیہ، خلیج فارس کے لیے یورپی فورس کے قیام کی تگ و دو اس لیے کر رہا ہے کیونکہ اس کام کے لیے اس کے پاس لازمی بحری جہاز موجود نہیں۔ برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے گزشتہ دنوں خلیج فارس کے لیے یورپی فوجی اتحاد کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔

ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے خلیج فارس کے لیے کسی بھی قسم کے یورپی فوجی اتحاد کے قیام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں بیرونی طاقتوں کی موجودگی ہی کشیدگی اور بدامنی کی اصل وجہ ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ ایران، یورپ کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتا لیکن خلیج فارس میں پندرہ سو میل لمبی ساحلی پٹی کا مالک ہے جو ہماری سمندری حدود کا حصہ ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔

صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی بدھ کے روز یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ایران اور علاقے کے ممالک ہی آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔صدر نے آبنائے ہرمز میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ذریعے برطانوی بحری جہاز روکے جانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران کسی بھی بیرونی طاقت کو آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں جہازرانی کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا ایران کا حق ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی فوجیوں کو عراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں

بغداد: امریکی فوج کو شام سے خارج ہوکرعراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ …