جمعہ , 15 نومبر 2019

عرفان صدیقی پر مہلک اسلحے کی ملکیت کا پرچہ ہی ڈال دیتے

(عدنان خان کاکڑ)

عرفان صدیقی صاحب کو کرایہ نامہ پولیس کے پاس درج نہ کروانے کے جرم پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ پولیس عموماً کام میں ناک تک ڈوبی ہوتی ہے بلکہ بسا اوقات ناک کیا دماغ بھی ڈوب جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے خیال ہی نہیں رہا کہ جس مکان اور کرائے نامے پر عرفان صدیقی صاحب کے خلاف مقدمہ بنایا جا رہا ہے وہ دونوں تو ان کے نام پر ہی نہیں ہیں۔ مکان اور کرائے نامے دونوں پر ان کے بیٹے عمران خاور صدیقی کا نام درج ہے۔

ہاں یہ بات ضرور تسلیم کرنی پڑے گی کہ کرائے نامے پر ایک جگہ عرفان صدیقی صاحب کا نام درج ہے۔ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ یہ کرایہ نامی عمران خاور صدیقی ولد عرفان الحق صدیقی کے نام پر ہے۔ غالباً پولیس نے یہ سوچا ہو گا کہ مالک مکان نہ سہی مالک مکان کے باپ کو ہی پکڑ لو۔ ویسے تو محاورے اور روایتی طریقہ تفتیش کے مطابق پولیس مالک مکان کی ماں کو پکڑتی ہے مگر اس مرتبہ اس نے رعایت کر دی۔

ایف آئی آر دلچسپ ہے۔ رات دس بجے چھوٹے تھانیدار عبدالستار بیگ صاحب گشت کر رہے تھے اور لوگوں کے دروازے کھٹکھٹا کھٹکھٹا کر پوچھ رہے تھے کہ میاں تم کرائے دار ہو یا مالک مکان، تو ایک بندے نے بتایا کہ وہ کرائے دار ہے اور اس نے مکان عرفان صدیقی صاحب سے کرائے پر لیا ہے۔ سب انسپکٹر صاحب نے فوراً ایکشن لیا اور رات بارہ بجے قریبی گلی میں واقعہ عرفان صدیقی صاحب کے گھر پر بھاری نفری کے ساتھ چھاپہ مارا۔ غالباً تھانیدار صاحب کی اس چستی و چالاکی کی وجہ بارہ بجے کا مقدس وقت تھا۔ سننے میں آیا ہے کہ چھاپہ مارنے ایک پولیس کی پک اپ اور تین ویگو گاڑیاں گئی تھیں۔

غالباً تھانیدار صاحب شدید پڑھے لکھے ہوں گے۔ انہوں نے پڑھ رکھا ہو گا کہ قلم تلوار سے بھی زیادہ طاقتور ہتھیار ہے۔ اور کسی نے یہ بھی بتا دیا ہو گا کہ عرفان صدیقی صاحب ایک بہت بڑے قلمکار ہیں۔ یہ سوچ کر تھانیدار صاحب دہل گئے اور خون خرابے سے بچنے کی خاطر بھاری نفری منگوا لی۔ کیا پتہ پولیس مقابلہ کیسا خونریز ہوتا۔

ہمارے اس گمان کو اس رپورٹ سے بھی تقویت ملتی ہے جو اگلی صبح عرفان صدیقی صاحب کی کچہری میں پیشی کے بارے میں میڈیا میں آئی ہے۔ میڈیا کو خبر ملی کہ عرفان صدیقی صاحب کو سیکٹر جی تھرٹین کی کچہری میں مجسٹریٹ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ سارا پریس کلب اپنے قلم کیمرے اور ڈی ایس این جی لے کر پہنچ گیا۔ پولیس نے چپکے سے عرفان صدیقی صاحب کو ایچ نائن سیکٹر میں ایکسائز مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر دیا۔ پولیس کے خوف کا یہ عالم تھا کہ اس 78 سالہ مہلک قلمکار کو ہتھکڑیاں پہنائی گئی تھیں کہ کہیں وہ مار پیٹ نہ کر ڈالے۔

خیال آتا ہے کہ یہ سارے ستر اسی سال کے بابے کتنے خطرناک مجرم ہیں۔ پہلے چند عمر رسیدہ پروفیسروں اور وائس چانسلروں کو ہتھکڑیاں لگانی پڑی تھیں کہ کہیں وہ جس چھڑی کے سہارے بمشکل چل پاتے ہیں اسی سے دو تین درجن پولیس والوں کو ڈھیر کر کے فرار نہ ہو جائیں۔ اب 78 سالہ عرفان صدیقی صاحب سے بھی پولیس والوں کو شدید خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں وہ اپنے پین کی نوک چبھو چبھو کر پورے تھانے کو شکست فاش نہ دے دیں۔

ہمارا مشورہ ہے کہ پولیس والوں پر پابندی لگائی جائے کہ وہ کنگ فو ہیرو جیکی چن کی فلمیں مت دیکھیں ورنہ وہ ان عمر رسیدہ بزرگوں سے ایسے ہی خوفزدہ رہیں گے۔ جیکی چن کی فلموں میں سب سے زیادہ خطرناک فائٹر اسی نوے برس کا بابا ہوتا ہے جسے ولین صرف مکاری سے ہی ہرا سکتا ہے۔ پولیس ہمارے دیسی بابوں کو بھی ویسا ہی سمجھنے لگی ہے۔ بہرحال اس معاملے پر تو ہماری سب سے زیادہ بولڈ وزیر فردوس عاشق اعوان کو بھی شرم آ گئی ہے۔ فرماتی ہیں کہ بابوں کو ہتھکڑی لگانا نامناسب ہے۔

بہرحال عرفان صدیقی صاحب اپنی خوش بختی پر رشک کریں۔ جو جرم ان پر ڈالا گیا ہے اس کی سزا تو ایک ماہ قید اور چند سو روپے بتائی جا رہی ہے۔ وہ یہ سوچ کر صدقہ خیرات کریں کہ اگر ایک گاڑی سے چودہ کلو ہیروئن برآمد کی جا سکتی ہے تو ایک گھر سے تو ہیروئن کی پوری فیکٹری بھی برآمد کی جا سکتی تھی۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس گھر کے پانی کی ٹینکی سے کئی ٹن تباہ کن اسلحہ از قسم توپ، بندوق، کلاشنکوف اور قلم برآمد کر لیا جاتا۔ پھر وہ کیا کرتے؟بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

مہنگائی میں اضافہ اور حکومت کی ذمہ داریاں

تحریر: طاہر یاسین طاہر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھائو معمول کا معاملہ ہے۔ …