اتوار , 17 نومبر 2019

آزادیٔ کشمیر۔ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں

(محمود شام)

ہوا درختوں کو چھیڑ رہی ہے۔ ٹہنیاں جھوم رہی ہیں۔ ہلکی ہلکی بوندیں پڑ رہی ہیں۔ پودے نہارہے ہیں۔ میٹھاپانی جسے کئی علاقے ترستے ہیں۔ وہ لاہور۔ پنڈی میں سڑکوں نالوں پر ضائع ہورہا ہے۔ ہم اس بارانِ رحمت کو محفوظ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ اس پانی کو تباہی مچانے دیکھنے نکل آتے ہیں۔ اسے کہیں جمع کرنے کا بندوبست نہیں کرتے۔

مجھے آج آپ سے بات کرنا ہے کشمیر کی حسین وادیوں کی۔ لمبے لمبے کُرتوں میں جدو جہد کرتے عظیم کشمیریوں کی۔ مگر پہلے ایک روح پرور خبر۔ بدھ 24جولائی کو پاکستان نے افغانستان کے صوبے لوگر میں ایک 100بستر کا جدید ترین اسپتال 18ملین ڈالر کی لاگت سے بناکر افغان حکومت کے حوالے کیا ہے۔ افغان بھائی بہت خوش ہیں۔ اسپتال نائب امین اللہ کے نام سے منسوب ہے۔ اس سے پہلے 20اپریل کو پاکستان نے 24ملین ڈالر کی لاگت سے محمد علی جناح اسپتال کابل میں افغان حکومت کے حوالے کیا۔ دونوں کے افتتاح کے مواقع پر پاکستان کے وفاقی وزراء موجود تھے۔ دونوں اسپتالوں میں جدید ترین سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔میری لا علمی یا ہمارے بڑے میڈیا نے ان خبروں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ افغان بھائیوں کے لیے یہ بہت ہی قیمتی تحفے ہیں۔ محمد علی جناح کا نام افغانستان میں اکثر خاندانوں کی زبان پر رہے گا۔

کشمیری تو گزشتہ 7دہائیوں سے جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ دنیا کی سب سے طویل جنگ آزادی سری نگر اور دوسرے شہروں میں مسلسل لڑی جارہی ہے۔ کوئی دن ہی کسی شہادت کے بغیر گزرتا ہوگا۔ وہ اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ گھر بار قربان کررہے ہیں۔ ہم صرف مسئلہ کشمیر زندہ کرکے خوش ہوجاتے ہیں۔ کشمیر کمیٹی پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ سیاستدان۔ ریٹائرڈ جنرل یورپ ۔ امریکہ کے پانچ ستارہ ہوٹلوں میں۔ سوئمنگ پولوں میں کشمیر کا مسئلہ حل کرنے نکلتے رہے ہیں۔ اب امریکی صدر ٹرمپ نے نہ جانے کیوں یہ کہہ دیا کہ وہ کشمیر پر ثالثی کے لیے تیار ہیں۔ اچھی خبر ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا ایک دیرینہ پیچیدہ مسئلے کے حل میں دلچسپی لینے کا عزم۔ اب اس کے بعد کیا ہونا چاہئے۔ یقیناََ ہمیں اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ بھارت کبھی بھی کسی تیسرے فریق کی مداخلت پسند نہیں کرتا رہا ہے۔ وہ اسے شملہ معاہدے کی رو سے دو طرفہ معاملہ قرار دیتا ہے۔ نریندرا مودی بھارتی آئین میں کشمیر سے متعلقہ شق 370میں تبدیلی کے لیے بھی کوششیں کررہے ہیں۔ امریکی صدر کی اس آمادگی پر آپس میں تیز مشاورت کے بعد ایک لائحہ عمل آج کل کی زبان میں’ روڈ میپ‘ تشکیل دیا جائے کہ کب کیا کرنا ہے۔ اس کے لیے خصوصی ٹارک فورس بنائی جائے۔ جو یہ حکمت عملی ترتیب دے کہ بھارت پر دبائو بڑھانے کے لیے کیا کیا راستے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔

میں تو ہمیشہ چین کی مثال سامنے رکھتا ہوں کہ اس نے ہانگ کانگ کو کبھی مسئلہ ہانگ کانگ نہیں بنایا۔ اپنے آپ کو معاشی ،سیاسی اور فوجی طور پر اتنا مضبوط کیا کہ برطانیہ کو ہانگ کانگ خود چین کے حوالے کرنا پڑا۔

سب سے پہلے تو ہمیں یہ اعتماد ہونا چاہئے کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے سربراہ کی طرف سے مسئلہ کشمیر میں ثالثی کی آمادگی ۔ ایک فیصلہ کن موڑ ہوسکتا ہے۔ آزادی کی صبح بہت جلد طلوع ہوسکتی ہے۔ کشمیر میں امن صرف جنوبی ایشیا کے لیے نہیں ۔ پوری دُنیا کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی کسی خطّے میں اگر اپنی آزادی کے لیے نوجوان اپنا خون بہارہے ہیں تو اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا اس مسئلے کو بھول گئی۔پاکستان بھی اپنے داخلی تنازعات اور سیاسی تقسیم کے باعث اسے سر فہرست نہیں رکھ سکا۔ یہ صرف اور صرف مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کی نسلیں ہیں جنہوں نے اپنی مسلسل قربانیوں سے اسے زندہ رکھا ہے۔

1۔ سب سے پہلا قدم تو یہ ہونا چاہئے کہ کشمیر پالیسی جو بھی اور جس طرح بھی طے ہو۔ اس کے بعد پوری پاکستانی قوم کی رائے ایک ہو۔
2۔ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں کشمیر کے مسئلے پر سیر حاصل بحث کرکے کشمیر پالیسی تشکیل کی جائے۔
3۔ وزارت خارجہ۔ وزارت کشمیر و قبائلی علاقہ جات کو یہ خصوصی ذمہ داری سونپی جائے۔
4۔ پوری دُنیا میں پاکستان کے سفارت خانوں کو کشمیر پالیسی بھیجی جائے وہ متعلقہ سربراہان حکومت کو کشمیریوں پر بھارتی مظالم سے آگاہ کریں۔
5۔ یہ سفارت خانے اپنے اپنے ملکوں کے میڈیا کو بھی بھارت کے جرائم سے با خبر کریں۔
6۔ او آئی سی کا خصوصی اجلاس منعقد کروانے کے لیے رابطہ کیا جائے۔
7۔ دنیا بھر میں فعال کشمیری تنظیموں کا مشترکہ اجلاس نیو یارک میں بلایاجائے۔ جس میں مقبوضہ کشمیر سے حریت کانفرنس کے لیڈروں کو بھی مدعو کیا جائے۔
8۔ ان تنظیموں کا ایک وفد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات بھی کرے۔
9۔ یہی تنظیمیں کشمیر میں بھارتی مظالم اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے مسلسل رو گردانی پر ایک وائٹ پیپر بھی مرتب کریں۔ جس میں اب تک کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں۔ گھر بار کی تباہیوں، کاروبار کی بندشوں کے اعداد و شُمار دیے جائیں۔ ۔
10۔کشمیر میں انسانوں کے قتل عام ، انسانیت کی اقدار کی پامالی پر عالمی رائٹرز کانفرنس کا اہتمام کیاجائے۔ جہاں مختلف زبانوں کی کشمیر سے متعلق چھپنے والی کتابیں رکھی جائیں۔

سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں زندگی کی سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ یہاں کے شہریوں کو درپیش مسائل اکثر نظر انداز کیے جاتے ہیں۔ کاروباری سہولتیں ناپید ہیں۔ رسل و رسائل کے معاملات ہیں۔ محکمۂ تعلیم میں بہت ناانصافیاں ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے پاس قصبوں اور دیہات کے شہریوں کو بہت سی شکایتیں ہیں۔ یہاں زندگی کی آسانیاں ایسی مثالی ہوں کہ ہم دنیا کو دکھاسکیں کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد جموں و کشمیر میںکتنا فرق ہے۔

یہ بھی خیال رہے کہ جب ہم کشمیر کا مسئلہ عالمی فورموں پر اٹھائیں گے ۔ بھارت کو تنہا کرنے کی کوششیں کریں گے۔ تو بھارت بلوچستان ۔ کراچی اور پنجاب کے سرحدی علاقوں میں تخریبی کارروائیاں شروع کردے گا۔ ’را‘ کے ایجنٹ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ اس لیے حفظ ماتقدم کی خاطرایک حکمتِ عملی مرتب کرنا ہوگی۔

ہم اکیسویں صدی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اپنے موقف کی تشہیر اور ترسیل کے لیے جدید ترین آلات آچکے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کسی بھی نقطۂ نظر کو منٹوں میں دنیا بھر میں پہنچاسکتا ہے۔ ہمارے مخاطب اپنے پاکستانی عوام نہیں۔ بلکہ عالمی رائے عامہ ہونی چاہئے۔ اس روڈ میپ کا ایک نظام الاوقات بھی ہونا چاہئے۔ یہ نہ ہو کہ اگلے 72سال تک ہم اس کیفیت سے گزر رہے ہوں ۔ ایک حکمت عملی اگر نتیجہ خیز نہ ہورہی ہو ۔ مقررہ وقت میں نتائج نہ دے رہی ہو۔ تو متبادل راستے اختیار کیے جائیں۔

چو این لائی نے کہا تھا۔Seize the Moment ۔14اگست مسئلہ کشمیر کے حل کی حکمت عملی کے آغاز کے لیے بہترین موقع ہوسکتا ہے۔ یہ دن سارے پاکستانیوں کا دن ہوتا ہے۔ صرف پرچم ستارہ و ہلال کا دن۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

مہنگائی میں اضافہ اور حکومت کی ذمہ داریاں

تحریر: طاہر یاسین طاہر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھائو معمول کا معاملہ ہے۔ …