جمعرات , 21 نومبر 2019

لندن بحرانی صورتحال میں داخل

(تحریر: ڈاکٹر سید رضا میر طاہر)

برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین چھوڑنے کا فیصلہ (بریکسٹ) برطانوی عوام کیلئے اہم ترین ایشو ہے جبکہ یورپی یونین بھی اس معاملے پر کافی پریشان دکھائی دیتا ہے۔ اس بارے میں منعقد ہونے والے ریفرنڈم کو تین برس گزر جانے کے باوجود اب تک یورپی یونین اور برطانیہ میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ سیاسی ماہرین اس صورتحال کے جاری رہنے کو شدید خطرناک قرار دے رہے ہیں اور ممکنہ ناگوار نتائج کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس بارے میں نومبر 2018ء میں لندن اور برسلز کے درمیان ایک معاہدہ بھی طے پا گیا تھا لیکن سابق برطانوی وزیراعظم تھریسا مے تین بار کوشش کے باوجود پارلیمنٹ میں اس کے حق میں ووٹ حاصل نہ کر سکیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے اس معاہدے کی منظوری نہ دیے جانے کے باعث ان کی حکومت کا بھی خاتمہ ہو گیا اور انہوں نے مئی 2019ء میں استعفی پیش کر دیا۔ اس کے بعد کنزرویٹو پارٹی میں نئے سربراہ اور وزیراعظم کے انتخاب کیلئے رقابت کا آغاز ہو گیا۔ آخرکار 23 جولائی 2019ء کے دن بوریس جانسن انٹرا پارٹی الیکشن جیت کر نئے برطانوی وزیراعظم کے طور پر سامنے آ گئے۔ ان کے سامنے اہم ترین مشن برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر نکالنا ہو گا۔

بوریس جانسن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح غیر متوقع فیصلے اور اقدامات کرنے میں معروف ہیں لہذا ان کے برسراقتدار آنے کے بعد یورپی یونین میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ یورپی یونین نے منگل کے روز بوریس جانسن کو مبارکباد پیش کی اور ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ وہ برطانیہ کے ساتھ بریکسٹ کے معاملے میں دوبارہ مذاکرات نہیں کریں گے۔ یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ بوریس جانسن کو سخت دن درپیش ہیں اور انہوں نے بریکسٹ کے بارے میں یورپی یونین سے دوبارہ مذاکرات کا جو وعدہ کیا ہے وہ ہر گز پورا نہیں ہو گا۔ لہذا اگرچہ فرانس کے صدر ایمونویل میکرون اور یورپی کیمشن کے نئے سربراہ اورسولا فون اور یورپی یونین کے دیگر عہدیداروں نے نئے برطانوی وزیراعظم سے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے لیکن بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بریکسٹ پر یورپی یونین برطانیہ سے دوبارہ مذاکرات پر تیار نظر نہیں آتا۔ اورسولا فون نے لندن اور برسلز کے درمیان تعاون اور تعلقات میں فروغ کے بارے میں امید ظاہر کرتے ہوئے کہا: "ہمیں بہت مشکل دن درپیش ہیں۔ جانسن کے پاس برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر نکالنے کیلئے صرف تین ماہ کا وقت ہے۔”

بریکسٹ کا معاملہ اب انتہائی پیچیدہ ہو چکا ہے اور اس کے ممکنہ سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی اثرات سے سب پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ایک معاہدے کی منظوری کے بغیر یورپی یونین سے برطانیہ کا انخلاء اس ملک میں شدید اقتصادی بحران کا باعث بنے گا۔ اسی طرح یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلاء کا ایک نتیجہ یورپ سے برطانیہ آنے والی مصنوعات پر ٹیکس عائد ہونے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اس بارے میں ماہر اقتصاد لوک مین اوٹینگا کہتے ہیں: "بوریس جانسن کے وزیراعظم بننے کے بعد 31 اکتوبر تک مارکیٹ ہلچل کا شکار رہے گی۔ برطانیہ کا انڈیکس 2020ء تک دو فیصد گر جائے گا۔” سابق برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے برخلاف موجودہ وزیراعظم جانسن کا خیال ہے کہ اگر لندن اور برسلز کے درمیان بریکسٹ سے متعلق کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو برطانیہ کو کسی معاہدے کے بغیر ہی یورپی یونین سے باہر نکل جانا چاہئے۔ اگر بوریس جانسن واقعی ایسا اقدام انجام دیتے ہیں تو انہیں شدید چیلنجز سے روبرو ہونا پڑ جائے گا۔

بوریس جانسن کو سب سے پہلا چیلنج ملک کے اندر درپیش ہو گا جس کے باعث ملکی سطح پر اور حتی پارٹی کے اندر ان کی پوزیشن شدید متزلزل ہو سکتی ہے۔ ابھی سے برطانیہ کی بعض معروف سیاسی شخصیات اور اعلی سطحی حکام نے بوریس جانسن کے دور حکومت کے بارے میں پریشانی کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ یورپی یونین کے حکام نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ بریکسٹ معاہدے میں کسی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کریں گے۔ یورپی کمیشن کے نائب سربراہ فرانس ٹیمر مین اس بارے میں کہتے ہیں: "یورپی یونین بریکسٹ معاہدے میں کسی قسم کی تبدیلی کی مخالفت کرے گا۔ البتہ ممکن ہے یورپی یونین بریکسٹ میں تعیین شدہ مدت میں اضافہ کرنے پر تیار ہو جائے۔” لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ برطانوی وزیراعظم بوریس جانسن بریکسٹ معاہدے کی مدت میں توسیع نہیں چاہیں گے۔ وہ ہر حال میں 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے باہر نکلنے کے فیصلے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں چاہے اس کے نتیجے میں انہیں بھاری نقصان ہی برداشت کیوں نہ کرنا پڑے۔

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …