اتوار , 17 نومبر 2019

پاکستان متوازن خارجہ پالیسی کی طرف گامزن

(تحریر: نادر بلوچ)

وزیراعظم عمران خان تین روز دورہ واشنگٹن کرکے وطن واپس پہنچ چکے، اسلام آباد ائیرپورٹ پارٹی قائدین نے ان کا شاندار استقبال کیا اور اس موقع پر وزیراعظم نے نہایت ہی واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان کو قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خواب کا پاکستان بنانا ہے، میں نا کسی کے سامنے جھکا ہوں نہ ہی میں اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے دوں گا، خوددار قوم بننا ہے اور قومیں بھیک مانگ کر نہیں بنتی، دنیا ان کی عزت کرتی ہے جو اپنی عزت کرتے ہیں دنیا میں ملک کو وہاں لیکر جانا ہے جہاں عزت ہو ایک سال قبل قوم نے اقتدار دیا وعدہ کرتا ہوں کھبی مایوس نہیں کروں گا۔ وزیراعظم کے دورہ امریکا کے دوران امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور امریکی تھینک ٹینک کے سامنے ہونے والی گفتگو واضح کرتی ہے کہ پاکستان اب علاقائی طاقتوں اور بلاک کو نظر انداز نہیں کر رہا، تاہم وہ امریکا کو بھی دشمن نہیں بنانا چاہتا، اس لیے امریکا کو انگیج کرنا چاہ رہا ہے نہ کہ ماضی کی طرح اپنا مکمل جھکاو امریکا کی طرف رکھنا چاہ رہا ہے۔

مسلم لیگ نون کی حکومت کے پانچ سالہ دور میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے خارجہ محاذ کو کوئی اہمیت نہیں دی، اپنی مدت کے دوران انہوں نے نہ تو مستقل وزیرخارجہ لگایا نہ ہی خود یہ ذمہ داری احسن انداز میں نبھا سکے، یہی وجہ بنی کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں مسلسل نواز حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی رہیں اور خارجہ سطح پر پاکستان تنہائی کا شکار ہوتا گیا، اس لحاظ سے پی ٹی آئی حکومت نے اس محاذ کو احسن انداز میں سنبھالا ہے اور خطے سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اور اپنے تعلقات کو بہتر بنی رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ترکی، ملایشیا، سعودی عرب، ایران، قطر اور یو اے ای کے دورے کیے اور اپنی حکومت کی پالیسی سے آگاہ کیا، یوں پاکستان تیزی کے ساتھ عالمی تنہائی سے نکل رہا ہے اور بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ جس وقت وزیراعظم عمران خان ٹرمپ کے ساتھ میڈیا سے محو گفتگو تھے اس وقت دنیا کی نظریں اس اہم پریس کانفرنس پر تھیں، امریکی صدر ڈونڈٹرمپ نے کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیش کش کی اور انکشاف کیا کہ دو سال پہلے مودی نے بھی انہیں کہا تھا کہ وہ ثالثی کے لیے کردار ادا کریں، یہ جملے بھارت پر ایٹم بم بن کر گے۔ بھارتی میڈیا نے اسے کشمیر بم قرار دیا۔

بھارت مسلسل انکار کر رہا ہے کہ اس نے ایسی کوئی بات نہیں کی، بھارتی وزیر خارجہ نے تریدی بیان بھی جاری کیا، مگر انہیں تین روز پہلے ہونے والی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں لینے کے دینے پڑ گئے، میڈیا کے نمائندوں نے ایک ہی سوال بار بار دہرایا کہ اگر مودی صاحب نے یہ الفاظ نہیں کہے تو وہ کیوں خود اس کی ترید نہیں کر رہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے احتجاجاً اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور وزیراعظم نریندر مودی سے ایوان میں آکر بیان دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی سطح پر وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے چرچے ہیں، ہر طرف سے وزیراعظم کے بیانیہ کو اہمیت دی جارہی ہے، تاہم کچھ حلقے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کہیں پاکستان ایک بار پھر تو ڈو مور کی طرف تو نہیں جا رہا، یا امریکا کے کسی نئے اتحاد میں شامل تو نہیں ہونے جا رہا، جیسا کا ماضی میں ایسا ہوتا آیا ہے، اس کا جواب خود وزیراعظم عمران خان نے امریکی تھینک ٹنکس کے فورم پر ہی دے دیا، جب وزیراعظم سے سوال ہوا کہ کیا ان کا دورہ امریکی امداد کے لیے ہے؟، جس پر انہوں نے دوٹوک جواب دیا کہ وہ امریکی امداد کو لعنت سمجھتے ہیں، ساتھ ہی واضح کیا کہ ماضی میں امداد دی جاتی رہی اور اس کے بدلے پاکستان کی حکومتیں اپنے ذمہ کام لیتی تھیں جب وہ امریکی خواہشات کے مطابق کام نہیں کر پاتی تھیں تو بداعتمادی کا فضا پیدا ہوتی تھی، اس لیے وہ اس چیز کے قائل نہیں ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اسی فورم پر ایران امریکا کشیدگی پر بھی بڑا واضح جواب دیا اور امریکیوں کو سمجھایا کہ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں، اگر جنگ ہوئی تو اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے، انہوں نے کہا کہ شیعہ مکتب فکر میں جذبہ شہادت سنیوں سے کہیں بڑھ کر ہے، امریکا ایران کو عراق نہ سمجھے، اگر خطے میں جنگ چھڑی تو امریکا القائدہ کو بھول ہو جائے گی، بعض افراد نے عمران خان پر تنقید بھی کی کہ انہوں نے القاعدہ کا نام لیکر شیعوں کو دہشتگرد سے تشبیہ دی لیکن ان کی گفتگو کو سننے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ امریکیوں کو سمجھانا چاہ رہے تھے کہ جنگ کی طرف نہ جائیں اور پاکستان کی پالیسی واضح ہے کہ وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، اس کے شدید اثرات مرتب ہوں گے اور پاکستان بھی اس ممکنہ جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔

ایک بات واضح ہے کہ یہ واحد حکومت ہے کہ جس کو اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے، یوں کہہ سکتے ہیں کہ سول اور عسکری لیڈر شپ ایک پیج پر ہیں، ایسا طول تاریخ میں دیکھنے کو نہیں ملا، عمران خان کی خطے کے حوالے سے گفتگو اس چیز کو واضح کرتی ہے کہ سول اور عسکری قیادت کسی بھی نئے محاذ کا حصہ نہیں بننا چاہتے، اب سوال یہ ہے کہ اگر نہیں بننا چاہ رہے تو اس دورہ امریکا کا مقصد کیا تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ دورہ کا مقصد امریکا کو انگیج کرنا اور افغانستان سے امریکا کے انخلا کو یقینی بنانے کے لیے طالبان اور امریکا کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ہے، پاکستان اس بات کا خواہاں ہے کہ افغانستان کا ایک اچھا حل نکلے، کم از کم کابل میں ایسی حکومت نہ بننے پائے جو پاکستان مخالف ہو، یقینی طور پر یہ چیز سی پیک جیسے منصوبے اور چین کی سرمایہ کاری کو تحفظ دینی کی ایک اچھی کوشش ہے۔ اس سے بھارت کے عزائم بھی ناکام ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں

مہنگائی میں اضافہ اور حکومت کی ذمہ داریاں

تحریر: طاہر یاسین طاہر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھائو معمول کا معاملہ ہے۔ …