منگل , 12 نومبر 2019

حج طرز پر زیارات پالیسی تشکیل دینے کا فیصلہ

(رپورٹ: ایس اے زیدی)

پاکستان سے ہر سال جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد حج و عمرہ اور روضہ رسول خدا (ص) کی زیارت کی سعادت حاصل کرنے جاتی ہے، وہیں لاکھوں مسلمان اہلبیت رسول (ص) کے روضہ و مزارات کی زیارت کیلئے ایران، عراق اور شام روانہ ہوتے ہیں، جبکہ ان زائرین کی تعداد ایام محرم الحرام اور صفر المظفر میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے، مناسب انتظامات اور حکومت کی جانب سے کوئی خاص توجہ نہ دیئے جانے کے باعث اکثر اوقات زائرین کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستانی زائرین کی اکثریت زمینی راستہ سے زیارات کیلئے روانہ ہوتی ہے۔ سب سے اہم مسئلہ ان زائرین کی سکیورٹی کا ہے، ماضی میں کئی مرتبہ زیارات کیلئے جانے والوں کو کوئٹہ اور تفتان بارڈر کے درمیان 6 سو کلومیٹر سے زائد اس غیر آباد علاقہ میں دہشتگردی کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ دوسرا اہم مسئلہ زائرین کا کئی دنوں تک سہولیات کی عدم دستیابی کیوجہ سے بارڈر پر قیام ہے۔ علاوہ ازیں امیگریشن، ویزہ حصولی، قافلہ سالار حضرات کی کوتاہیاں، پولیس اور ایف سی کا رویہ، زائرین کا قافلوں سے بچھڑ جانے کی صورت میں پریشان ہونا جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔ مختلف حکومتوں کے ادوار کے دوران اکثر ان مسائل کی نشاندہی کی گئی، تاہم اب تک انہیں حل کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی باقاعدہ میکنزم نہیں بنایا گیا۔

اگر دیکھا جائے تو حج کے حوالے سے حکومت نے باقاعدہ پالیسی بنا رکھی ہے، جو کہ ایک خوش آئند امر ہے، جس کی وجہ سے عازمین حج کی مشکلات کافی کم ہوئی ہیں، تاہم حج سے بھی زیادہ تعداد میں زیارات پر جانے والے پاکستانی شہریوں کو سہولیات اور ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے اب تک کوئی مناسب نظام نہیں بنایا گیا۔ موجودہ دور حکومت میں سابق وزیر مملکت برائے داخلہ اور موجودہ وزیر سیفران شہریار خان آفریدی نے زائرین کے مسائل جاننے کیلئے تفتان بارڈر کا دورہ کیا تھا۔ زائرین کے اس اہم مسئلہ کی حساسیت کو بھانپتے ہوئے موجودہ حکومت نے حج طرز پر زیارات کیلئے بھی باقاعدہ پالیسی تشکیل دینے کا ایک خوش آئند فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں وفاقی وزارت مذہبی امور کی جانب سے ایک مشاورتی اجلاس بلایا گیا، جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری، وزیراعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانی سید زلفی بخاری، پارلیمانی سیکرٹری برائے مذہبی امور آفتاب جہانگیر، وفاقی سیکرٹری محمد مشتاق احمد، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ عارف حسین واحدی، معروف مذہبی اسکالر علامہ امین شہیدی، ادارہ منہاج الحسین کے سربراہ علامہ محمد حسین اکبر، غضنفر مہدی، رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری اور سید محسن شہریار نے شرکت کی۔

وزارت مذہبی امور کے دفتر میں منعقد ہونے والے اس مشاورتی اجلاس کے دوران ایران اور عراق زیارتوں کی پالیسی کے خدوخال پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارت مذہبی امور نے بریفنگ دیتے ہوئے شرکائے اجلاس کو بتایا کہ زیارات میں حضرت امام رضا (ع)، حضرت امام حسین (ع)، امام عبدالقادر جیلانی، امام ابو حنیفہ، بہاوالدین نقشبندی بخاری کے مزارات شامل ہیں۔ سال میں تقریباً 6 لاکھ سے زائد زائرین ایران، عراق جاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارت مذہبی امور کے ماتحت زائرین ڈیسک 1979ء سے فعال ہے، جو کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت تشکیل دیا گیا تھا، جس کے تحت ہر سال ہندو، مسلم اور سکھ یاتری پاکستان اور ہندوستان کے مختلف مقدس مقامات کی زیارت پر جاتے ہیں۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ وائس آف کاروان سالار، بلوچستان شیعہ کانفرنس، سندھ خیبر پختونخوا کی مختلف تنظیمات سے مشاورت کے بعد ایک پالیسی دستاویز تشکیل دی ہے، جسے وفاقی وزارت مذہبی امور کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ لانگ ٹرم پالیسی پر پیش رفت میں وقت درکار ہے جبکہ محرم اور صفر ایک ماہ کا قلیل وقت رہ گیا ہے، لہذٰا شارٹ ٹرم پالیسی کے تحت کچھ ہنگامی اقدامات کرنا ضروری ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے وزارت مذہبی امور کے تحت بنائی گئی امور زائرین کمیٹی کو فوری طور پر ختم کیا جائے، جس سے وفاق المدارس الشیعہ پہلے ہی علیحدگی اختیار کرچکا ہے، اس کمیٹی کے خاتمے کے ساتھ ہی پرانے نظام کو دوبارہ نافذالعمل کیا جائے۔ دوسرے صوبوں سے زیارت کیلئے جانے والے زائرین سے بلوچستان میں داخلے پر این او سی کا قانون ختم کیا جائے، بلوچستان بھی پاکستان کا حصہ ہے اور اپنے ہی ملک کے ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں جانے کیلئے کسی این او سی کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئٹہ سے تفتان تک 635 کلومیٹر کا راستہ ہے، جس میں کسی قسم کی کوئی سہولت میسر نہیں، زائرین کو نماز، استراحت اور بیت الخلاء کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ کانوائے کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، بغداد میں موجود پاکستانی سفارتخانے کے عملے کو نجف یا کربلا میں تعینات کیا جائے، تاکہ زیارات کے دوران جن زائرین کے پاسپورٹ گم ہو جاتے ہیں، انہیں اپنے ملک واپس آنے کیلئے فوری دستاویزات فراہم کی جاسکیں۔ جو لوگ تفتان بارڈر پر دوران اربعین کیمپ (موکب) لگانا چاہتے ہیں، انہیں این او سیز جاری کی جائیں اور عراق میں موکب کیلئے ادویات لے جانے والے افراد کو سہولیات فراہم کی جائیں۔

اجلاس کے دوران شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ عارف حسین واحدی نے زائرین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خصوصاً کوئٹہ اور تفتان میں زائرین کو جو مشکلات پیش آتی ہیں کہ سینکڑوں بسیں اور ہزاروں زائرین رکے رہتے ہیں، اس مرتبہ محرم سے قبل ایسا نظم و ضبط قائم کیا جائے، تاکہ ان مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔ انہوں نے وزیراعظم کے معاون خصوصی سید ذلفی بخاری کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال اربعین کے موقع پر جب سینکڑوں بسیں کوئٹہ میں پھنس گئی تھیں اور کربلا پہنچنے کے لئے وقت انتہائی کم رہ گیا تھا، اس وقت ہم نے ان کے ساتھ رابطہ کیا تو انہوں نے ایک رات میں کئی سو بسیں روانہ کرائیں۔ انہوں نے زیارات پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی پالیسی بنائی جائے، اس میں یہ مدنظر رکھا جائے کہ اکثر زائرین غریب طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور مہنگے ہوٹل افورڈ نہیں کرسکتے، علاوہ ازیں کوئٹہ میں اس وقت زائرین کی رہائش کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔ انہوں نے زائرین کے کانوائے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت زائرین کے لئے ایک مہینے میں چار کانوائے چلائے جا رہے ہیں، دو کوئٹہ سے جبکہ دو تفتان سے اور ہر کانوائے میں تیس بسیں ہوتی ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ کانوائے کی تعداد بڑھا کر چھ کی جائے جبکہ ایک کانوائے میں بسوں کی تعداد بھی تیس سے بڑھائی جائے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا کہ اس سال ایران، عراق جانے والے زائرین کے لئے زیارات پالیسی کی حج کے فوری بعد وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔ امسال زائرین ایران وعراق حج عمرہ کی مانند زیارات پر جائیں گے۔ حکومت زائرین کو مکمل سہولیات اور سکیورٹی فراہم کرے گی، شیعہ علمائے کرام کے ساتھ ملکر زیارات پالیسی مرتب کی جائے گی۔ ڈی جی حج کی طرح ڈی جی زیارات تعینات کیا جائے گا، پہلے سے موجود زیارت ڈیکس کو مزید وسعت دی جائے گی۔ زیارت ڈیکس کے تحت ڈائریکٹر جنرل کی کربلا میں تعیناتی جبکہ مشہد اور نجف میں زیارتی آفیسرز تعینات کیئے جائیں گے۔ وزرات مذہبی امور کے حکام نے بتایا کہ کربلا میں پاکستان ہاؤس کی فوری تعمیر کا کام شروع کیا جائے گا، حج کے موقع پر مکہ اور مدینہ میں قائم حج مشن کی طرز پر ایران، عراق اور شام میں زائرین مشن قائم کئے جائیں گے۔ زائرین کی آمد و رفت کیلئے ٹرین، بس، فیری اور ہوائی جہاز کے ذرائع کا موثر استعمال یقینی بنایا جائے گا۔ حکام نے شرکائے اجلاس کو یقین دہانی کروائی کہ ان شاء اللہ کوئٹہ تفتان روٹ پر ہر 150 سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر استراحت گاہیں اور ہوٹل قائم کئے جائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …