اتوار , 17 نومبر 2019

قاریہ اور قرآن کی معلمہ آلاء بشیر اتھارٹی کے مسلسل زیرعتاب کیوں؟

فلسطینی اتھارٹی اور اس کے ماتحت نام نہاد سیکیورٹی ادارے فلسطینی قوم کو تحفظ دینے کے بجائے اپنی قوم کے خلاف مکروہ ہتھکنڈوں میں سرگرم ہیں۔ شہریوں کو سیاسی بنیادوں‌پر اٹھا کرجیلوں میں ڈالنا اور انہیں غیرانسانی سلوک کا نشانہ بنانا رام اللہ اتھارٹی اور عباس ملیشیا کا دل پسند مشغلہ بن چکا ہے۔

گذشتہ کئی ماہ سے غرب اردن کے شہر قلقیلیہ کی ایک حافظ قرآن معلمہ رام اللہ اتھارٹی کے مسلسل عتاب میں ہے۔ مئی 2019ء کے بعد وہ بار بار گرفتار کی جاتی رہی ہے۔ چند روز قبل اسے بھاری جرمانہ وصول کرنے کے بعد رہا کیا گیا مگر کل بدھ کو اسے دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت سیکیورٹی اداروں کے مکروہ ہھتکنڈے قوم کی خدمت نہیں بلکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں رام اللہ اتھارٹی پرامریکا کے ‘سنچری ڈیل’منصوبے کوآگے بڑھانے کے مترادف قرار دے رہی ہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق 23 سالہ معلمہ قرآن آلاء بشیر کو عباس ملیشیا نے مئی میں حراست میں لیا اور 34 دن تک اسے غیرقانونی حراست میں رکھا۔ جون میں صرف چار دن تک اسے رہا کیا گیا اور ایک بارپھراسے حراست میں لے کر پابند سلاسل کردیا گیا۔ 11 جون کو حراست میں لینے کے بعد اسے غیرقانونی طور پرقید کیا گیا۔ اسے 21 جولائی کو مجسٹریٹ عدالت کے حکم پرچھ ہزار اردنی دینار جرمانہ وصول کرنے کے بعد رہا کیا گیا۔ یوں اس کی دوسری قید 40 دنوں پرمحیط رہی مگر رہائی کے صرف تین دن بعد دوبارہ پابند سلاسل کردیا گیا۔

دوران حراست نوجوان معلمہ قرآن کو بدترین جسمانی اور ذہنی ٹارچر کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ سخت اعصابی اور نفسیاتی دبائو کا شکار ہوئی ہیں۔ اسے زیادہ وقت قید تنہائی میں ایک انتہائی تنگ اور تاریک کوٹھڑی میں رکھا گیا جہاں اسے ادنٰی درجے کے انسانی حقوق بھی میسر نہیں تھے۔

اس نے مرکزاطلاعات فلسطین کو ایک مکتوب میں لکھا کہ جس ماحول میں اسے حراست میں رکھا گیا وہ بیان کے قابل نہیں، اسے ایسے زندان میں ڈالا گیا جہاں قتل کے عادی مجرموں کو ڈلاجاتا ہے۔

اس پر عباس ملیشیا کی طرف سے جو الزامات عاید کیے وہ بھی بے سروپا تھے۔ اس پرالزام تھا کہ وہ قومی سلامتی کے خلاف کام کررہی ہے مگر فلسطینی اتھارٹی کے پاس اپنے اس نام نہاد دعوے کی سچائی میں‌کوئی ثبوت نہیں تھا۔

رہائی کے بعد اس نے اپنے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنے والے ابلاغی اداروں، سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا۔ وہ ایک بار پھر مسجد عثمان بن عفان میں قائم دینی مدرسے میں پہنچ گئی تھیں مگر عباس ملیشیا نے اسے ایک بار پھر حراست میں لے لیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلی جنس حکام کی طرف سے اس پرفرقہ وارانہ نعرے بازے پھیلانے کا بھی الزام عاید کیا گیا اور کہا کہ وہ دینی تعلیم دینے کی آڑ میں مخصوص فرقے کی تعلیمات کا پرچارک کررہی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں کے پاس آلاء بشیر پر فرقہ واریت کے الزام کا بھی کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ اس کی دوبارہ گرفتاری نے رام اللہ اتھارٹی کی نام نہاد جمہوریت پسندی، آزادی اظہار رائے اور مذہبی آزادی کے کھوکھلے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ سوال یہ ہےکہ کیا رام اللہ اتھارٹی اور اس کے ماتحت نام نہاد سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے ایک نہتی معلمہ قرآن سے اتنے زیادہ خوف زدہ ہیں کہ اسے قید میں رکھنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا ہے۔

آلاء بشیر کا پورا رمضان، عید الفطر کی خوشی اور اس کے بھائی کی امتحان میں شاندار کامیابی کی خوشی بھی نصیب نہیں ہوسکی۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

مہنگائی میں اضافہ اور حکومت کی ذمہ داریاں

تحریر: طاہر یاسین طاہر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھائو معمول کا معاملہ ہے۔ …