جمعرات , 21 نومبر 2019

گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 200 ارب روپے حاصل کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر (آئی پی پیز) سے 11 ارب روپے کا ریلیف حاصل کرنے کے بعد حکومت نے اسلامک بانڈز کے ذریعے گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 200 ارب روپے حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزارت خزانہ نے پاور پولڈنگ پرائیوٹ لمیٹڈ کے ذریعے توانائی کے شعبے میں 200 ارب روپے کے فوری نقد کے پاکستان اینرجی صکوک 2 کو حتمی شکل دینے کے لیے آج 10 کمرشل بینکوں کے سربراہان کا اجلاس طلب کرلیا۔

میزان اسلامک بینک کی قیادت میں کمپنیوں کے وفد میں دیگر 9 کمرشل بینکوں میں، حبیب بینک، بینک الفلاح، بینک اسلامی، دبئی اسلامک بینک، بینک الحبیب، بینک البراکۃ، نیشنل بینک آف پاکستان، یونائیٹڈ بینک اور فیصل اسلامک بینک شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یہ 6 ماہ سے کم عرصے میں توانائی کے شعبے میں 200 ارب روپے کا دوسرا صکوک فنانسنگ ہوگا۔آئی پی پیز کی جانب سے غیر ادا شدہ بلوں کے معاملے پر عالمی قانونی چارہ جوئی کرنے کے بعد حکومت نے توانائی کے شعبے میں بیل آؤٹ کے لیے پاکستان مشارقہ صکوک کے ذریعے رواں سال مارچ کے مہینے میں 200 ارب روپے حاصل کیے تھے۔

اُس وقت 6 بینکوں سے یہ پیسے لیے گئے تھے جن میں میزان اسلامک بینک، بینک اسلامی پاکستان، فیصل بینک لمیٹڈ، ایم سی بی اسلامک بینک، دبئی اسلامک بینک اور بینک البراکۃ شامل ہیں۔اس مرتبہ ایم سی بی بینک معاملے سے دور رہا۔

حکومت نے سود اور دیگر اخراجات سمیت 10 آئی پی پیز کی 35 ارب روپے کی قابل ادا رقم کے حوالے سے لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربٹریشن (ایل سی آئی اے) میں کیس ہارا تھا۔پاور ڈویژن کے سیکریٹری عرفان علی نے گزشتہ ماہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو بتایا تھا کہ حکومت آئی پی پیز سے لیٹ پیمنٹ سرچارج میں رعایت کے لیے بات کر رہی ہے۔

حکومت نے عالمی عدالت میں کیس جیتنے والے 10 آئی پی پیز سے حتمی مذاکرات کرلیے ہیں جس میں ادائیگیوں پر مارک اپ کو کیبور پلس 4.5 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی۔انہوں نے ادا نہ کی گئی رقم پر مارک اپ کا اطلاق 35 روز کے بجائے 90 روز کرنے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا جس کی وجہ سے حکومت کو 34 ارب روپے کی اصلی لاگت کے بدلے 11 ارب روپے کی رعایت ملے گی۔دونوں جانب اس سیٹلمنٹ معاہدے پر آئندہ دو ہفتوں کے اندر دستخط کیے جانے کی امید ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر 2002 کے پاور پالیسی کے تحت پاور ڈویژن نے 10 آئی پی پیز سے بیرون عدالت 16 ارب روپے کے سیٹلمنٹ کے لیے مذاکرات کا آغاز کردیا ہے۔

ان میں سے ایک آئی پی پیز حکام کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ حکومت ریلیف کا تخمینہ زیادہ لگارہی ہے کیونکہ مذاکرات صرف سود کی ادائیگی تک تھے، وہ ہوسکتا ہے کہ چند ارب روپے ہوں مگر 11 ارب جیسا کچھ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بیرون عدالت سیٹلمنٹ میں محدود رعایت ہوگی اور 45 روز میں واجبات ادا نہ کرنے پر اصلی مارک اپ دوبارہ بحال ہوجائے گا۔

اسی طرح حکام کو امید ہے کہ 200 ارب روپے کے صکوک فنانسنگ کو کابینہ کی اقتصادی تعاون کمیٹی (ای سی سی) کی جانب سے رواں ہفتے منظور کرلیا جائے گا تاکہ قانونی واجبات ادا ہونے کے ساتھ ساتھ تمام آئی پی پیز کو دیگر واجبات بھی ادا کیے جاسکیں اور فیول فراہم کرنے والوں کے 1.4 کھرب روپے گردشی قرضوں سے پیدا ہونے والے فوری نقد کے مسئلے کو بھی حل کیا جاسکے۔

ایک اور حکام کا کہنا تھا کہ ای سی سی نے رواں سال فروری کے مہینے میں 400 ارب روپے کے اسلامک فنانسگ برائے شعبہ توانائی دو مرحلوں میں منظور کیا تھا تاہم دوسرے حصے کے لیے ای سی سی اور کابینہ سے دوبارہ منظوری درکار ہوگی کیونکہ فنانسنگ کی لاگت میں تبدیلی آگئی ہے۔توانائی کے شعبے میں اسلامک فنانسنگ کو حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے منظور شدہ شرح سیالیات قرار دیا جاچکا ہے۔عوامی توانائی کی کمپنیوں کے اثاثون کو فنانس کرنے والوں کو پہلے ہی گروی رکھا جاچکا تھا جبکہ گزشتہ بونڈ کو حکومت کی 10 سالہ ضمانت پر ادا کیا گیا۔

تمام توانائی کی ترسیل اور پیداواری کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اثاثوں/زمینوں کو بینکوں کے جمع کرانے پر رضامندی کا اظہار کیا جبکہ چند اضافی جائیدادوں اور اثاثوں کو تریسیلی اور پیدواری نیٹ ورک کے ادائیگی کے بدلے کفالت کے طور پر بھی چنا گیا ہے۔

خیال رہے کہ قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، قومی احتساب ادارے اور نو تشکیل شدہ انکوائری کمیشن برائے قرضہ جات آئی پی پیز سے جائز منافع مقررہ حد سے زائد وصول کرنے پر تحقیقات کر رہی ہیں۔حکومت معاملے پر انٹرنیشنل انجینیئرنگ، قانونی و مالی ماہرین پر مشتمل خصوصی کمیشن قائم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

حکومت کا تاجروں سے معاہدہ، شناختی کارڈ کی شرط 3 ماہ کے لیے موخر

اسلام آباد : حکومت نے خرید و فروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط پر کارروائی …