جمعرات , 21 نومبر 2019

عمران خان، افغانستان اور کشمیر !

(نفیس صدیقی)

وزیر اعظم عمران خان کے دورئہ امریکہ پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں تبصرے اور تجزیئے جاری ہیں لیکن اس دورے کا ایک ایسا پہلو ہےجسے اجاگر کرنا ضروری ہے ۔ کیونکہ یہی ایک پہلو ہے ، جس کی وجہ سے یہ دورہ پاکستان کے سابق حکمرانوں کے امریکی دوروں سے قدرے مختلف اور بہتر نتائج کا حامل ہے ۔ وہ پہلو یہ ہے کہ بیرونی دنیا میں پاکستان کے موجودہ اور سابقہ سیاسی اور غیر سیاسی رہنماؤں کی نسبت وزیر اعظم عمران خان کا امیج بہت مختلف ہے ، اس امیج کی وجہ سے خارجی محاذ پر پاکستان کو موجودہ بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورت حال کا بہت فائدہ ہو سکتا ہے ۔ دورہ امریکہ میں یہ پہلو خاص طور پر زیادہ کارگر ثابت ہوا۔

عمران خان دنیا کی نظروں میں مختلف ہیں یہ اور بات ہے کہ انہیں تاریخ اور اپنے عوام کی نظر میں مختلف رہنے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا ہے ۔ سیاست میں آنے سے قبل عمران خان کی شہرت عالمی سطح پر تھی اور دنیائے کرکٹ کے دیگر مشہور کھلاڑیوں کی نسبت یہ شہرت اس لئے زیادہ تھی کہ ان کی شخصیت انتہائی پرکشش تھی ۔ سیاست میں آکر انہوں نے اپنی شہرت اور پرکشش شخصیت سے وہ کر دیا، جو بیرونی دنیا کے لئے حیرت کا باعث ہے ۔ بیرونی دنیا کو پاکستان کے معروضی سیاسی حالات کا شاید وہ ادراک نہ ہو ، جو ہونا چاہئے ۔ مگر بیرونی دنیا یہ سمجھتی ہے کہ عمران خان وہ شخص ہے ، جنہیں دولت اور شہرت کی ضرورت نہیں، وہ صرف اپنے ملک کی بہتری کے لئے سیاست میں آئے ہیں اور عوام نے ان کی پذیرائی کی ہے ۔ بیرونی دنیا میں عمران خان کی غیر معمولی صلاحیتوں اور انتہائی پرکشش شخصیت کے حامل کھلاڑی کی شناخت نے ان کی ایک سیاسی رہنما کی شناخت کو زیادہ مضبوط کیا ہے۔

اس لئے ان کا ہر جگہ ایک ایسے رہنماکے طور پر استقبال کیا جاتا ہے ، بیرونی دنیا ماضی والے عمران خان کے مقابلے میں اور زیادہ بہتر شخصیت کے طور پر جانتی ہے ۔ اسی ایک پہلو سے عمران خان کے بیرونی ممالک کے دوروں خصوصاً’’ امریکہ کے دورے کو جانچنا چاہئے ۔ ‘‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ پاکستان کے حوالے سے مخالفانہ سوچ رکھتے تھے لیکن وزیر اعظم عمران کے دورئہ امریکہ کے دوران وہ بالکل مختلف نظر آئے ۔ صدر ٹرمپ کے ساتھ ساتھ امریکی قیادت نے وزیر اعظم عمران خان کو جس طرح کا پروٹوکول دیا او رجس طرح کی اہمیت دی ، اس کا سبب عمران خان کی عالمی شہرت اور مختلف امیج تھے یہ پروٹوکول اور اہمیت امریکی عوام کی توقع کے مطابق تھے ۔ صدر ٹرمپ نے عمران خان کو پاکستان کا مقبول ترین رہنما قرار دے دیا ۔ عمران خان نے اس سے قبل دیگر ممالک کے بھی دورے کئے او رمختلف امیج کی وجہ سے انہیں ہر جگہ توقع سے زیادہ پروٹوکول ملالیکن دورئہ امریکہ میں وہ قد آور عالمی لیڈر بن کر ابھرے ۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو او رمحترمہ بے نظیر کے بعد پاکستان کے انتہائی اسمارٹ لیڈر نظر آئے ۔ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں امریکی قیادت کو تحفظات تھے لیکن یہ تحفظات عمران خان کے بارے میں نہیں تھے ۔ عمران خان کی شخصیت کے مختلف امیج کے اس پہلو کے تناظر میں اب ان کے دورئہ امریکہ کا تجزیہ کرتے ہیں کہ یہ کس طرح پاکستان کے حق میں ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکی قیادت نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ عمران خان کے دورے سے صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو سمیت امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ عمران خان کے ذاتی تعلقات استوار ہو چکے ہیں ۔ یہ بحث اپنی جگہ موجود رہے گی کہ عمران خان کے عالمی سیاست کے بارے میں نظریات کیا ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو بہت اہم سمجھتی ہے ، جیسا کہ اس کے روئیے سے ظاہر ہوتا رہا ہے ۔ امریکہ افغانستان میں پھنسا ہواہے ۔ وہ یہاں سے باعزت طور پر نکلنا چاہتے ہیں۔

عالمی امن کا راستہ آج کے افغانستان اور کشمیر سے نکلتا ہے۔ اسے عمران خان سے بہتر یہاں کوئی دوسرا رہنما نظر نہیں آرہا کیونکہ دیگر سیاسی رہنماؤں کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں اپنے اپنے نظریات ہیں ۔ اس وقت غیر مستحکم افغانستان صرف امریکہ کا نہیں بلکہ پاکستان کا بھی مسئلہ ہے ۔ پاکستان اس کی وجہ سے مغربی سرحدوں پر الجھا ہوا ہے ۔ افغان مسئلہ حل ہونے سے امریکہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی فائدہ ہو گا اور یہ صرف عمران خان کے دور میں ہو سکتا ہے ۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے امریکہ نے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی ترغیب دی ہے ۔ مسئلہ کشمیر پر امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کا ایک سبب تو افغان مسئلہ ہے اور دوسرا سبب عمران خان کی شخصیت ہے، جنہوں نے بہترین انداز میں پاکستان کی امریکہ میں نمائندگی کی ہے۔ اگر اس طرح صدر ٹرمپ نے پیش قدمی کی تو ان کا نام بھی نوبیل امن انعام کے لئے آ سکتا ہے ۔ صدر ٹرمپ کی یہ پیشکش عمران خان کے دورے کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔

اس وقت عمران خان کی وجہ سے یہ ممکن ہو سکا ہے کہ امریکہ ان کے ذریعہ افغانستان کا مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے اور کشمیر کے مسئلے کے حل میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ ہمارے خطے میں ہونے والی نئی صف بندی میں پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کا دشمن نہیں دیکھنا چاہتا ۔ یہ صف بندی کیا ہوتی ہے ۔ اس کے قطع نظر وزیر اعظم عمران خان افغانستان اور کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں یا کم از کم امریکہ یہی سمجھتا ہے ۔ یہ سب سے بڑی بات ہے ۔

امریکہ نے عمران خان کے دورے کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے پاکستان کی دفاعی امداد بھی فوری طور پر بحال کر دی ہے ایف 16طیاروں کے لئے125 ملین ڈالرز کی امداد منظور کر لی ہے ۔ افغانستان میں قیام امن کے لئے طالبان کو مذاکرات پر لانا اگرچہ بہت مشکل کام ہے اور وزیر اعظم کے دورئہ امریکہ کے بعد وزیر ستان اور بلوچستان میں دہشت گردوں نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر حملے کئے ہیں لیکن عمران خان کی حکومت پاکستان ، افغان حکمرانوں او رطالبان کے لئے آخری چانس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کےد ورئہ امریکہ کے بعد عمران خان کی کوششوں کی حمایت کی ہے اور ساتھ ساتھ عمران خان کی داخلی اور معاشی پالیسیوں سے بھی بدستور اختلاف کیاہے ، عمران خان نے افغان اور کشمیر کا مسئلہ حل نہ کیا تو پاکستان کی دیگر قیادت کے لئے یہ مسائل حل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ یہ مسائل پاکستان کو ایک عالمی طاقت بننے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …