جمعرات , 21 نومبر 2019

راولپنڈی میں پاک فوج کا طیارہ گر کر تباہ، عملے سمیت 17 افراد جاں بحق

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کا طیارہ راولپنڈی کے علاقے موہڑہ کالو میں گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں 2 فوجی افسران سمیت عملے کے 5 افراد بھی شامل ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے جاری بیان کے مطابق پاکستان آرمی ایوی ایشن کا طیارہ تربیتی پرواز پر تھا کہ حادثے کا شکار ہوا اور راولپنڈی میں شہری آبادی والے علاقے موہڑہ کالو میں گر گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق طیارے کے حادثے میں 2 پائلیٹ سمیت عملے کے 5 اہلکار شہید ہوگئے۔

واقعے کے حوالے سے حاصل تفصیلات کے مطابق طیارے کو حادثہ صبح صادق کے بعد 4 بجکر 54 منٹ پر پیش آیا۔پاک فوج کے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ طیارہ رہائشی علاقے میں حادثے کا شکار ہوا تھا جس کے نتیجے میں 12 شہری بھی جاں بحق جبکہ دیگر 12 زخمی ہوگئے۔

واقعے کے بعد پاک فوج کی امدادی ٹیموں اور ریسکیو 1122 کے اہلکار جائے حادثہ پر پہنچے اور طیارے کے حادثے میں ہونے والی آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جبکہ زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق حادثے میں شہید ہونے والے افسران میں لیفٹیننٹ کرنل ثاقب (پائلیٹ) اور لیفٹیننٹ کرنل وسیم (پائلیٹ)، نائب صوبیدار افضل، حوالدارابن امین اور حوالدار رحمت شامل ہیں۔حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت محمد جمیل، روبینہ، حبیب، پاری بی بی، فاطمہ بی بی، شبیر، عظمیٰ بی بی، عبدالحفیظ، راحیلہ بی بی، فیضان، فائزہ بی بی، عبدالروف کے ناموں سے ہوئی۔

علاوہ ازیں زخمیوں میں محمد یوسف، شمیم، اقراء بی بی، سوریہ بی بی، صبا جان، محمد ندیم اور دیگر شامل ہیں۔واقعے کے حوالے سے حاصل ہونے والی دیگر تفصیلات کے مطابق طیارہ گرنے سے نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے 3 مکانات میں آگ لگی تھی۔

جس کے بعد آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کے عملے کو طلب کیا گیا جنہوں نے کچھ دیر کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا لیکن واقعے میں متعدد افراد جھلس کر جاں بحق و زخمی ہوئے۔ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر ڈاکٹر عبدالرحمٰن نے ابتدا میں 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی۔انہوں نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ طیارہ مکانات پر گرا مگر آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

واقعے کے بعد کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر جائے حادثہ پر پہنچے جہاں پاک فوج کے افسران نے کور کمانڈر کو حادثے کے حوالے سے بریفنگ دی۔بعد ازاں راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) چوپدری محمد علی رندھاوا نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور بتایا کہ ریسکیو 1122 اور سی ڈی اے نے مل کر ریسکیو آپریشن کیا۔

انہوں نے بتایا کہ راولپنڈی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں 18 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 9 افراد زخمی ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔دوسری جانب واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں پہلے ہولی فیملی ہسپتال اور بعد ازاں سی ایم ایچ منتقل کیا گیا جہاں ان کی شناخت کی گئی۔

علاوہ ازیں ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ متاثرین کی امداد اور مکان بحالی کی بات کرلی گئی ہے اور اس حوالے سے جلد اعلان کردیا جائے گا۔اس کے علاوہ جائے حادثہ پر طیارے کا ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے راولپنڈی میں طیارہ حادثہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پردلی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے ہمدردی اور اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے غم میں ان کے ساتھ ہیں۔

اس سے قبل پیش آنے والے حادثات
23 جنوری 2019 کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں پائلٹ شہید ہوگئے تھے۔26 جون 2018 کو پشاور ایئر بیس پر لینڈنگ کے دوران پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ ایف ٹی سیون پی جی (FT-7PG) گر کر تباہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 2 پائلٹ شہید ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ مئی2017 میں طیارہ حادثے کے 2 واقعات پیش آئے تھے جن میں پہلا واقعہ 2 مئی کو صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ میں پیش آیا جس میں معراج طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا، لیکن اس حادثے میں پائلٹ محفوظ رہے۔دوسرا واقعہ 25 مئی کو میانوالی کے قریب پیش آیا تھا اس میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ (F-7PG) گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس حادثے میں بھی خوش قسمتی کے ساتھ پائلٹ محفوظ رہے۔

بعدازاں اگست2017 میں بھی طیارہ گرنے کے 2 واقعات پیش آئے جن میں پہلا واقعہ 9 اگست کو میانوالی سبزہ زار کے قریب پیش آیا جہاں ایف سیون پی جی (F-7PG) طیارہ گر کر تباہ ہوا اور پائلٹ ذیشان شہید ہوئے تھے۔اسی کے علاوہ 17 اگست کو سرگودھا کے قریب ایف سیون پی جی (F-7PG) طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا، تاہم اس پائلٹ محفوظ رہے تھے۔

ایک اور حادثے میں 24 ستمبر 2016 کو اسکواڈرن 17 کا (F-7PG) طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث جمرود کے علاقے سپرے غندی میں گر کر تباہ ہوا جس میں پائلٹ عمر شہزاد شدید زخمی ہوئے تھے، جو بعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔

یاد رہے کہ 4 سال قبل 24 نومبر 2015 کو طیارہ حادثے کا شکار ہوکر پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ آفیسر مریم مختار شہید ہوگئی تھیں جو ایف ٹی سیون پی جی (FT-7PG) طیارے کی معمول کی پرواز پر تھیں۔

قبل ازیں 2015 میں ہی 25 مئی کو پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ معمول کی پرواز کے دوران صوابی کے علاقے زیدہ میں تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں سوار 2 پائلٹ معمولی زخمی ہوگئے تھے۔ایک اور حادثہ 3 جون 2014 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں بس ٹرمینل کے قریب پیش آیا تھا جس میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہوا اور طیارے میں سوار تربیتی پائلٹ اور نگران پائلٹ دونوں شہید ہوگئے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

یمن کے کوسٹ گارڈز نے 3 کشتیوں کو ضبط کرلیا

    صنعا: یمن کے کوسٹ گارڈز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن …