اتوار , 17 نومبر 2019

اگر کوئی جج فیصلہ نہیں کر رہا تو لوگ اس کی عزت کیوں کریں گے، چیف جسٹس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ججوں کو کسی کے دباؤ اور خوف کے بغیر فیصلے کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی جج فیصلہ نہیں کر رہا ہے تو لوگ اس کی عزت کیوں کریں گے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اسلام آباد میں فوری اور سستے انصاف کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جب 1998میں ہائی کورٹ میں جج کا منصب سنبھالا تو میرے ساتھ دیگر 8 جج ہائی کورٹ میں آئے تھے اور بہت جلد ہمیں جنون گروپ ججز کہا جانے لگا۔

تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن سے اپنی عدالت میں لگے تمام مقدامت کا فیصلہ کر کے اٹھتا ہوں، میری عدالت میں مقدمات کارروائی کے لیے نہیں بلکہ فیصلے کے لیے لگتے ہیں اس لیے ہمیں عدالت میں فیصلہ کرنا چاہیے صرف دن نہیں گزارنے چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 20 سال قبل میں 1998میں جج بنا تو میں مقدمات کے بارے میں بڑا پرجوش ہوتا تھا، ایک امانت کی بات ایک انصاف کی بات ہے، جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو انصاف سے کرو اور امانت کے ساتھ انصاف لوٹا دو۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں مقدمات کو سننے سے زیادہ ان کے چناؤ کے فیصلے میں دلچسپی رکھتا تھا، کیس کے دلائل کورٹ روم میں بیٹھے سب لوگ سنتے ہیں، ہم سے فیصلے کی امید کی جاتی ہے، ہم وکلا کو دلائل سے راغب کر نے کا کہتے ہیں، مقدمات کی سماعت ملتوی یا تو وکیل وفات پا جائے یا جج رحلت فرمانے کی صورت میں ہی ہوگی۔

اکیڈمی میں موجود ججوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصلے کرنے سے جو سکون ملتا اس کا کوئی نعم البدل نہیں، اللہ تعالٰی نے آپ کو چنا ہے، آپ کسی کا وسیلہ بنیں، جج کا کام دلائل سن کر فیصلہ کرنا ہے، مقدمہ ملتوی نہیں کرنا اور یہی چیز جج کو دیگر لوگوں سے منفرد کرتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی جج فیصلہ نہیں کر رہا تو لوگ اس کی عزت کیوں کریں گے۔

سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف 41کرمنلز اپیلیں اسلام آباد میں زیر التوا رہ گئی ہیں، لاہور میں 91، پشاور میں 5 کرمنل اپیلیں زیر التوا ہیں،کراچی اور کوئٹہ میں کوئی کرمنل اپیل زیر التوا نہیں لیکن جو اپیلیں زیر التوا ہیں وہ بھی بہت جلد نمٹا دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمارے کندھوں پر بڑی ذمہ داری ڈالی ہے، ہمیں کسی بھی دباؤ کا شکار نہیں ہونا چاہیے، اللہ نے آپ کے وسیلے انصاف سے فرمانا ہے، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں کہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا آپ سے محبت کرے تو پھر کس چیز کا ڈر ہے، میں نے بہت سے ایسے مقدمات کے فیصلے بھی کیے جب مجھے جان کا خطرہ بھی تھا لیکن اللہ کو حاضر و ناظر جان کر جو صحیح لگا وہ فیصلہ کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ بہت سے مقدمات میں مذہبی معاملات بھی سامنے آئے اور میں نے جو بھی فیصلے کیے مجھے عزت ملی۔چیف جسٹس نے کہا کہ بہت سے لوگ عدلیہ کی آزادی سے متعلق لکھتے ہیں۔

مقدمات کو سننے کے حوالے سے جج کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے مقدمہ چلانا مناسب عمل نہیں ہے، دلائل سنیں اور فیصلہ کر دیں، وکلا اور سائلین کو بھی پتہ ہونا چاہیے کہ ان کے پاس مقدمے کے لیے مقررہ وقت اتنا ہے، دونوں فریقین کو بلا کر ان سے کیس سے متعلق ایک معیاد مقرر ہوگی۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پارٹی کے پیچھے نہیں بھاگے گی، عدالت ایک سہولت دے گی، اگر فریقین اس سہولت سے مستفید نہ ہوئے تو وہ گلہ نہیں کرسکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سارے جوڈیشل سسٹم میں ٹرائل کی بہت فوقیت ہوتی ہے، ایک ہی وکیل ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کیس لڑتا ہے، وکیل ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں مصروف ہو ٹرائل کورٹ کا مقدمہ التوا کا شکار ہو جاتا ہے، اب ٹرائل کورٹ میں کیس ہو تو بڑی عدالتوں میں کیس ملتوی کیا جاتا ہے حالانکہ ہم نے اصولی فیصلہ ٹرائل کورٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھ کر کرنا ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بعض اوقات بڑے مسائل کا حل چھوٹا ہوتا ہے، ہم ایسے مقدمات پر کمیشن بناتے ہیں اورپیسے خرچ کرتے ہیں، ریاستی مقدمات میں مدعی اپنے گواہ لارہا ہے، ہم نے ہر ضلعے سے آئی جی کو بلا لیا۔انہوں نے کہا کہ ایس پی انویسٹی گیشن کو بھی شامل کیا اور گواہوں کو پیش کرنے کا حکم دیا، ایک چھوٹے سے قدم سے ایس ایچ او تمام گواہان کو پیش کرتا ہے۔

فیصلوں میں تیزی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جنوری میں 42 ہزار 500 مقدمات زیر التوا تھے، ان زیر التوا مقدمات میں ڈھائی ہزار مقدمات کم ہوگئے ہیں ان مقدمات میں اور بھی کمی آئے گی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ محنت سے کام کریں اللہ بہت اجر دے گا، کسی سے گھبرانا نہیں، ڈرنا نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آج ہم نے آفیسرز میس کا بھی افتتاح کیا ہے، اسلام آباد میں ہوٹل بہت مہنگے ہیں لیکن اب جو بھی جج اسلام آباد آئے وہ ہوٹل کی بجائے بہت کم پیسوں پر یہاں رہ سکتا ہے۔

‘جج کا شعبہ جنون سے چلتا ہے’
ڈائریکٹر جنرل فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی حیات علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جج کا شعبہ جنون کے ساتھ چلتا ہے، جنون ہے تو جج بنیں اور اگر جنون نہیں تو پھرصرف نوکری کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون میں ترمیم کے بغیر ماڈل کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا، ماڈل کورٹس چیف جسٹس کی سوچ ہے جبکہ ہم سمجھتے تھے کہ ماڈل کورٹس نہیں چل سکتیں۔حیات علی شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس کہتے تھے کہ ماڈل کورٹ کا آئیڈیا قابل عمل ہے اور ماڈل کورٹس کے جج چیتے جج ہیں۔ڈائریکٹر جوڈیشل اکیڈمی نے واضح کیا کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بعد بھی ماڈل کورٹس چلتی رہیں گی۔

یہ بھی دیکھیں

کانگو میں داعش دہشت گرد نے 15 افراد کو قتل کردیا

کنشاسا: کانگو ميں وہابی اور صہیونی دہشت گردوں سےمنسلک ملیشیا نے 15 افراد کو قتل …