منگل , 9 مارچ 2021

یونانی پارلیمان نے "فلسطین” کو بطور ریاست تسلیم کرلیا

یونانی پارلیمان میں فلسطین کو بطور ریاست قبول کرنے کی قرارداد منظور کرلی گئی، قرارداد پر رائے شماری کے وقت فلسطینی صدر محمود عباس بھی پارلیمان میں موجود تھے۔ یونانی پارلیمنٹ میں ہونے والی رائے شماری میں تمام اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرے، قرارداد کے مطابق حکومت ایسے اقدامات کرے، جن سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا عمل سہل ہوسکے اور خطے میں امن مذاکرات کا سلسلہ بحال ہوسکے۔ دورہ یونان کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس نے یونانی وزیراعظم الیکسس سپراس سے ملاقات کی۔ ملاقات میں یونانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اب دستاویزات پر فلسطینی اتھارٹی کو ترک کرکے صرف فلسطین استعمال کیا کرے گی۔ یونانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فلسطینی صدر کے دورے سے فلسطینیوں اور یونانیوں کے ساتھ روایتی اور تاریخی تعلقات کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔دیگر ذرائع کے مطابق برطانیہ اور فرانس کے بعد یونانی پارلیمنٹ میں بھی فلسطینی ریاست کے حق میں قرارداد منظور کرلی گئی۔ یونان کے دارالحکومت شہر ایتھنز میں پارلیمنٹ کے خصوصی سیشن میں ارکان کی بھاری اکثریت نے فلسطینی ریاست کے حق میں ووٹ دیئے، ساتھ ہی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے۔ اس دوران فلسطینی صدر محمود عباس بھی یونانی پارلیمان میں موجود تھے۔ یونان سے قبل برطانیہ، فرانس اور آئرلینڈ کی پارلیمان بھی فلسطین کے حق میں قرارداد منظور کرچکی ہیں،

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …