ہفتہ , 23 نومبر 2019

پاکستان اور ڈونلڈ ٹرمپ

(سلیم صافی)

میں نے چھٹیاں منانے اور پاکستانی سیاست اور صحافت کی وجہ سے لاحق ہونے والی ڈیپریشن کو کم کرنے امریکہ جانے کا پروگرام بنایا لیکن یہاں آکر بھی ان دونوں نے جان نہیں چھوڑی بلکہ شاید یہاں ان دونوں سے متعلق مصروفیات پاکستان سے بھی بڑھ گئیں۔ میں وزیراعظم عمران خان کے ایک روز بعد واشنگٹن ڈی سی پہنچا۔ یو ایس آئی پی کے معید یوسف چونکہ بھائیوں جیسے دوست ہیں، عمران خان کے لیکچر کا بندوبست انہوں نے کیا تھا، اس لئے اس میں شرکت کرنا پڑی۔ وہاں کئی پاکستانی دوستوں کو میری آمد کا پتا چل گیا چنانچہ پھر واشنگٹن میں قیام سیاحتی نہیں بلکہ مکمل صحافتی بن گیا۔ وائس آف امریکہ کے اردو اور پشتو سروسز کے دوستوں کے اصرار پر وہاں جانا پڑا۔ تین انٹرویوز دینے کے علاوہ دونوں سروسز کے دوستوں سے تفصیلی گپ شپ ہوئی۔ پاکستانی صحافیوں کی تنظیم پاپا (پاکستان امریکہ پریس ایسوسی ایشن)کے دوستوں کے عشائیہ میں شرکت کی جہاں انہوں نے اعزازی ممبرشپ سے بھی نوازا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے واحد پاکستانی سپورٹر ساجد تارڑ صاحب نے بھی اپنے عشائیے میں پاکستانی اور افغانی صحافیوں کو جمع کر رکھا تھا۔ امریکن یونیورسٹی میں اکبر ایس احمد سے لنچ پر گپ شپ ہوئی۔ یو ایس آئی پی میں ایشیا پروگرام کے انڈریو ویلڈر سے افغان امن پراسیس پر دو گھنٹے ملاقات ہوئی۔ سب نشستوں میں میزبان مجھ سے پاکستان کے بارے میں جاننا چاہتے تھے جبکہ میں ان سے امریکہ کے اندرونی حالات اور وزیراعظم عمران خان کے دورئہ امریکہ کے پسِ منظر اور پیش منظر کے بارے میں جاننے کا طالب رہا۔

ان سب تبادلہ خیالات کا خلاصہ یوں بیاں کیا جاسکتا ہے کہ جہاں تک امریکی اداروں یعنی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، سی آئی اے، کانگریس اور میڈیا کا تعلق ہے تو پہلے کی طرح اب بھی بحیثیت مجموعی پاکستان مخالف ہیں تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی مہربانی نے اب ان کے ساتھ بھی پاکستانی اداروں کے ربط ضبط کا راستہ کھول دیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ اور ادارے وہائٹ ہائوس کا راستہ استعمال کر کے دیگر اداروں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد اپنی جو پہلی افغان پالیسی دی تھی اس میں انہوں نے پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے مسئلے کا عامل(Part of the problem)قرار دیا تھا لیکن اب وہ پاکستان کو حل کی چابی قرار دے رہے ہیں۔ یوں یہ پاکستان کے حساب سے بڑی کامیابی ہے۔ اسی طرح پالیسی تقریر میں انہوں نے افغانستان کے تناظر میں انڈیا کے کردار کی تعریف کے ساتھ ساتھ اس کو مزید بڑھانے کی بات کی تھی لیکن اب کی بار انہوں نے انڈیا کو افغان قضیے سے باہر کرنے کے ساتھ ساتھ تمام تر تکیہ پاکستان پر کرنے کا تاثر دیا جبکہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر کے انڈیا کے زخموں پر نمک بھی چھڑک دیا۔ یقیناً یہ پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے۔ اسی طرح افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر کے، ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان حکومت کو پاکستان کی طرف آنے پر مجبور کردیا۔ صدر بننے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو طعنے دیا کرتا تھا کہ وہ امریکی امداد لے کر اس کے مفادات کے خلاف کام کرتا رہا لیکن اب خود پاکستان کی امداد بحال کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ یا تو ان کا ماضی کا دعویٰ غلط تھا اور یا پھر اب پاکستان ڈیلیور کررہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے حوالے سے یہ یوٹرن کیوں لیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سلسلہ گزشتہ سال مارچ اپریل میں شروع ہوا۔ تب ایلس ویلز اور امریکی فوجی عہدیداروں نے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو یہ پیغام دینا شروع کیا کہ امریکہ اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنا چاہتا ہے اور اگر پاکستان طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تو جواب میں امریکہ بھی پاکستان کے مفادات کا خیال رکھے گا۔ چنانچہ زلمے خلیل زاد کے ذریعے جو عمل شروع کیا گیا، اس میں پاکستان نے امریکہ کے حسب منشا کردار ادا کیا۔ پاکستان کی آرمی قیادت اور آئی ایس ایس نے طالبان کو سمجھانے بجھانے کی ہر ممکن کوشش کی اور جہاں ضروری ہوا ان پر دبائو بھی ڈالا۔ اسی وجہ سے قطر مذاکرات ممکن ہوئے۔ اب قطر مذاکرات میں امریکہ اور طالبان معاہدے کے قریب ہیں تاہم اصل قضیہ اب افغان حکومت اور طالبان کی مفاہمت کا باقی ہے۔ بین الافغان مفاہمت نہیں ہوتی تو امریکہ اور طالبان کی مفاہمت کا سلسلہ بھی بے نتیجہ ثابت ہوگا اور صدر ٹرمپ کو اندرونی محاذ پر بڑی خفت اٹھانا ہوگی اور اگر وہ مفاہمت کروا کر اپنی افواج واپس بلانے میں کامیاب ہوئے تو یہ ان کی بڑی کامیابی تصور ہوگی۔ چنانچہ اب اگلا ہدف جنگ بندی اور بین الافغان مفاہمت کا ہے۔ اب ٹرمپ کا مطالبہ پاکستان سے یہی ہے کہ وہ ان دونوں کاموں کے لئے بھی وہ کردار ادا کرے جو اس نے امریکہ اور طالبان کے سلسلے میں کیا ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت نے ان دونوں پر آمادگی کا اشارہ دیا تھا لیکن ساتھ یہ خواہش بھی ظاہر کی تھی کہ پاکستان کے اس کردار کو عالمی اور اعلیٰ سطح پر تسلیم کیا جائے۔ چنانچہ اسی تناظر میں وزیراعظم کا دورئہ واشنگٹن طے پایا حالانکہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر ادارے حق میں نہیں تھے۔ چونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے زلمے خلیل زاد اور دیگر فریقوں کو ڈیڈ لائن دے رکھی ہے کہ وہ اگست کے آخر تک افغان قضیے کو آر یا پار کر لیں، اس لئے انہوں نے پاکستانی حکام کے وہائٹ ہاوس میں اس آو بھگت پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ گویا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے اس پورے معاملے کے مدعی صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہیں لیکن باقی ادارے بادل نخواستہ اپنے صدر کی ہاں میں ہاں ملارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کی ابھی عمران خان سے بات چیت نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے ان کے ساتھ بیٹھ کر میڈیا کے سامنے پاکستان کے بارے میں نیک خیالات کا اظہار کیا۔ پاکستان میں لوگ اس پہلو کو ذہن میں نہیں رکھتےکہ صدر ٹرمپ اور عمران خان کی میڈیا سے گفتگو ملاقات کے آغاز میں ہوئی تھی نہ کہ اختتام پر۔ یوں انہوں نے جو ذہن بنا رکھا تھا وہ ملاقات سے پہلے کے رابطوں اور وعدوں کے نتیجے میں بنا رکھا تھا جس کا باقاعدہ اظہار خان صاحب کی موجودگی میں بات چیت سے پہلے کیا گیا۔

اختصار کے ساتھ ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی حکام کے حالیہ دورے نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا دروا کردیا ہے لیکن یہ بہت بڑی آزمائش بھی ہے اور اگر افغان مذاکرات کا مثبت نتیجہ نہ نکلا تو جس طرح اس وقت امریکہ پاکستان کو کریڈٹ دے رہا ہے اسی طرح پھر سارا ملبہ بھی پاکستان پر گرائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی حکام امریکہ کے ساتھ کئے گئے وعدے کس طرح پورا کرتے ہیں کیونکہ سردست تو طالبان نہ جنگ بندی پر آمادہ نظر آتے ہیں اور نہ افغان حکومت کے ساتھ مفاہمت کے لئے ان کے روئیے میں مطلوبہ لچک نظر آتی ہے۔ بلکہ میری تو یہ بھی رائے ہے کہ طالبان پر شاید اب پاکستان کا اتنا اثر نہیں جتنا کہ تاثر دیا جارہا ہے۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …