اتوار , 17 نومبر 2019

خود بھی بہتر بنیے اور اس دنیا کو بھی بنائیے: مگر کیسے؟

(نعمان الحق)

کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان اچھا کام کرنا تو چاہتا ہے مگر اپنے گھروالوں، دوستوں، رشتہ داروں یا پھر معاشرے میں پھیلے ارد گرد لوگوں کے عمل اور ان کے مشوروں کی وجہ سے وہ اچھا کام نہیں ہوسکتا، کیونکہ انسان عام طور پر مشوروں اور لوگوں کی جانب سے کیے جانے والے اعمال کی روشنی میں ہی کوئی کام کرتا ہے۔

اگر انسان کو اچھا مشورہ مل جائے تو پھر وہ غلط کام کر نہیں سکتا، لیکن اگر کوئی بُرا مشورہ مل جائے تو پھر وہ چاہتے ہوئے بھی اچھے کام کی طرف نہیں جاسکتا، شاید یہی اس کی بڑی کمزوری ہے۔لہٰذا زندگی میں انسان کب کب کیا کیا غلطی کرتا ہے اور اس کو کس طرح ٹھیک کیا جاسکتا ہے، اسی بارے میں کچھ رہنمائی کرتے ہیں۔

تین ظالم
ظالم تین قسم کے ہیں۔

پہلا ظالم مظلوم کی آہیں اور فریادیں سُن کر تائب ہو جاتا ہے۔
دوسرے ظالم کو احساسِ ظلم اس وقت ہوتا ہے جب وہ خود کسی کے عتاب کا شکار ہوجائے۔
تیسرا ظالم وہ ہے جو خود پر بدترین حالات مسلط ہونے کے باوجود احساسِ جرم میں مبتلا نہیں ہوتا۔
کسی نہ کسی رنگ میں ظالم تو ہر کوئی ہے لیکن تیسرا ظالم کبھی نہ بننا کیونکہ قدرت اس تیسرے ظالم کو کبھی معاف نہیں کرتی۔

تکبر روح کا خفیہ قاتل
بغض قصداً و ارادتاً رکھا جاتا ہے
بخل ہو تو عمل سے صاف جھلکتا ہے
نفرت ویسے ہی شعوری طور پر کی جاتی ہے
بزدلی خود تو کیا دوسروں سے بھی نہیں چھپتی
حسد انسان کے اندر پیدا ہوتے ہی چیخ چیخ کر اپنا پتا دیتا ہے
لیکن

تکبر تاحیات عاجزی کی چادر تلے چھپ کر پرورش پاتا رہتا ہے
تکبر وہ گناہ ہے جو بغیر کچھ کیے محض دل میں رہنے پر صادر ہوجاتا ہے
لہٰذا آج اپنے دل کے سارے خانے اچھی طرح ٹٹول لیں، کہیں کسی کونے کھدرے میں، کسی بوسیدہ چادر کے نیچے تکبر پڑا ہوا نظر آئے تو نکال پھینکیں ورنہ پکڑ آئے گے لیکن پکڑ آنے کی وجہ سمجھ نہیں آئے گی۔

خودداری اور خود انحصاری
جہاں تمہیں اختلاف کرنے کا حق یا حوصلہ نہ ہو وہاں تعلقات نہیں غلامی ہوتی ہے اور غلامی سے نجات محض خودداری سے نہیں ملتی بلکہ اس کے لیے خود انحصاری چاہیے۔خود انحصاری وہ جوہر ہے جو محنت، دیانت اور لیاقت کو طویل ریاضت کی بھٹی میں جلا کر حاصل ہوتا ہے لیکن لوگ اسے راتوں رات پا لینا چاہتے ہیں حالانکہ یہ قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔غلامی سے نجات چاہیے تو خود انحصاری حاصل کرو ورنہ سوکھی خودداری دکھانے والے بھوکے مر جاتے ہیں، خواہ وہ فرد ہو، ادارے ہوں یا قومیں۔

تقدیر
’میں‘ توحید کی روح کے منافی ہے کیونکہ اگر تم رب کی ذاتی و صفاتی وحدانیت کے پوری طرح قائل ہو تو کوئی حاصل یا لاحاصل صرف ’میں‘ یا ’تُو‘ سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔سعی ہر نتیجے کی شرطِ اول ہے لیکن سعی کسی نتیجے کا واحد سبب نہیں ہوسکتی بلکہ قدرت کا ایک عظیم تر، کثیر جہتی اور نہایت منظم منصوبہ ہمیشہ کار فرما رہتا ہے۔سعی کتنی ہی کامل کیوں نہ ہو، نتائج بہرحال اس منصوبے کے تابع رہتے ہیں جسے سمجھنے میں انسان ہمیشہ سے اختلاف کرتے آئے ہیں۔

ضیاع
ضائع تو دنیا میں بہت کچھ ہوتا ہے لیکن اگر تم نے اپنا وقت اور اپنا مال ضائع ہونے سے بچا لیا تو سمجھ لو پوری زندگی ضائع ہونے سے بچا لی کیونکہ وقت اور مال، دونوں کا ضیاع انسان کو ہمیشہ ایسی خرافات میں مبتلا کر دیتا ہے جو آگے چل کر مزید کئی چیزوں کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں۔

اپنی گھڑی گھڑی اور پائی پائی کو ایسے استعمال میں لاؤ کہ یا تم نفع اٹھاؤ یا کوئی اور مراد پائے۔

اعتبار
ایماندار کی ایمانداری پر آنکھیں بند کر کے ایمان رکھنا ایماندار کی ایمانداری کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

اس لیے اعتبار ہمیشہ آنکھیں کھول کر کریں۔

دلائل، مباحثہ اور نفرت
دلائل سے قائل ہو کر اپنی کم علمی کا کھلا اعتراف اور دلائل سے قائل کر کے اپنی برتری سے مکمل انکار دونوں، صرف عالی ظرفوں کے کمیاب شوق ہیں، ورنہ جہال کی صفت تو یہ ہے کہ مباحثے کو رزم گاہ بنا دیتے ہیں جہاں قائل کر لینے والا فتح کے نشے میں چُور اور قائل ہوجانے والے پر شکست کی ذلت طاری ہوتی ہے۔

نتیجتاً ایک میں تکبر پیدا ہوجاتا ہے اور دوسرے کے دل میں حسد و نفرت جنم لیتی ہے۔

یاد رکھو!
ہر شخص اس لائق نہیں ہوتا کہ اسے دلائل سے قائل کیا جائے، اگر تم زندگی بھر اپنے طاقتور دلائل لے کر قریہ قریہ گھومتے رہے تو شامِ زندگی ڈھلنے پر تمہارے دامن میں لوگوں کی تاریک نفرتوں کے سوا کچھ نہیں ہوگا، لہٰذا دلائل سے نہیں، پیار سے قائل کرنا سیکھو کیونکہ دلائل سے محض دماغ مسخر ہوتے ہیں جبکہ پیار تو دلوں پر قابض ہوجاتا ہے۔

قدر دانی احسان کی درجہ بندی
پہلا درجہ: تمہارا محسن تم پر احسان کرنے کے بعد کبھی انجانے میں تکلیف پہنچا بیٹھے تو اس پر صبر کرنا۔
دوسرا درجہ: اپنے محسن کے احسان کا بدلہ چکانے کی کوشش کرنا۔
تیسرا درجہ: اپنے محسن کے احسان کو اس کا فرض نہ سمجھنا۔
چوتھا درجہ: اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنا۔
پانچواں درجہ: اپنے محسن کے احسان میں نقص نہ نکالنا۔
چھٹا درجہ: اپنے محسن کو احسان کے بدلے میں نقصان نہ پہنچانا۔
اور اگر تم اپنے محسن کی قدر دانی کے آخری درجے پر بھی عمل نہیں کرتے تو یقین کرلو کہ پھر تم انسانیت کے درجے پر ہی فائز نہیں کیونکہ اپنے محسن اور اس کے حقوق کی پہچان سے عاری ہو کر اسی پر حملہ آور ہوجانا سراسر حیوانیت ہے۔

عزت اور بے عزتی
عزت اور بے عزتی صرف باشعور لوگوں کے سامنے ہوتی ہے، ورنہ جاہلوں کی نظر میں باوقار بننے کی کوشش کریں تو اپنے معیار سے گرنا پڑتا ہے جو کسی باشعور انسان کو زیب نہیں دیتا۔

ایک درجن مسکراہٹیں اور فنِ گفتگو
مسکراہٹ صرف ہونٹوں کا کھیل نہیں بلکہ یہ آنکھوں اور ہونٹوں کا زبردست تکنیکی امتزاج ہے جو مسکراہٹ کی ایک درجن سے زائد قسمیں پیدا کرتا ہے۔ ملاحظہ کریں

مسرورانہ
مغمومانہ
معصومانہ
ملتجیانہ
خوشامدانہ
مشفقانہ
خجلانہ
احمقانہ
متعجبانہ
مکارانہ
تکبرانہ
طنزیہ
مسکراہٹوں کو پہچاننا اور ہر طرح کی مسکراہٹ دینا سیکھیں، کیونکہ یہ فنِ گفتگو کا بہت بڑا خاصہ ہے۔

ڈر، پرایا ہتھیار
ڈر آپ کا وہ واحد ہتھیار ہے جو آپ کے بجائے آپ کے دشمن کے ہاتھ میں ہوتا ہے، جونہی وہ یہ ہتھیار پھینکتا ہے آپ نہتے ہوجاتے ہیں۔

عمل اور ردِعمل کی حد
اپنے عمل کا ردِعمل سہنے کی جرأت نہ ہو تو عمل ہی سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے اور اگر عمل کر بیٹھیں تو ردِعمل کو کھلے دل قبول کرنا معاملہ فہمی اور کشادہ دلی کی علامت ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ خود تو ہم عمل کرتے وقت کوئی حد دیکھتے نہیں اور ردِعمل پر تنقید شروع ہوجاتی ہے کہ اسے حد میں رہ کر ہونا چاہیے۔

کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟؟

اچھائی اور بُرائی
لوگوں کی اچھائی سے نفع اٹھانا ان کی بُرائی سے بچ کر رہنے سے کہیں زیادہ عقلمندی کا متقاضی ہوتا ہے۔

غلطی
خطا کا پتلا ہونے کے ناطے غلطی تو ہر انسان کرتا ہے لیکن اپنی غلطی کو اچھے طریقے سے سنوارنے کا فن ہر کوئی نہیں جانتا جب غلطی ہو جائے تو

اول: سرِعام اور کھلے دل غلطی تسلیم کریں
دوم: دل کی گہرائیوں سے ندامت کے ساتھ غلطی پر معذرت کریں
سوم: نیک نیتی کے ساتھ آئندہ نہ کرنے کا وعدہ کریں
چہارم: جس حد تک ممکن ہوسکے غلطی کا ازالہ کریں
یقین کیجیے کہ آپ کا یہ طرزِ عمل آپ کی غلطی کو آپ کی بہترین خوبی بنا کر پیش کردے گا، لیکن

اگر آپ سرِعام غلطی تسلیم کرنے سے گھبراتے ہیں تو آپ بزدل اور کم ظرف ہیں
اگر کھلے دل غلطی تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں تو آپ متکبر ہیں اور خود کو کامل سمجھتے ہیں
اگر نیک نیتی کے ساتھ آئندہ نہ کرنے کا وعدہ نہیں کرتے تو آپ عادی مجرم ہیں
اگر اپنی غلطی کا ازالہ کرسکنے کے باوجود اپنی غلطی کا ازالہ نہیں کرتے تو آپ بے حس انسان ہیں

حقیقت کے متلاشی
حقیقت چٹان کی طرح ٹھوس ہوتی ہے جو مضبوطی کے ساتھ زمین پر قائم رہتی ہے جبکہ ابہام گرد کی مانند ہوتا ہے جو جلد یا بدیر بیٹھ جاتی ہے اور پھر چٹانیں خود بخود واضح ہو جاتی ہیں۔جدید دور میںگرد مسلسل اور قصداً اڑائی جاتی ہے لیکن اگر تمہارے اندر تلاشِ حق کے لیے ایک مضطرب اور آوارہ روح کا بسیرا ہے تو مرنے سے پہلے ایک بار تم ضرور حقیقت سے ٹکراؤ گے کیونکہ حقیقت اور متلاشیوں کے درمیان قدرت نے محض تڑپ کا پردہ حائل کر رکھا ہے۔بشکریہ ڈان نیوز

یہ بھی دیکھیں

مہنگائی میں اضافہ اور حکومت کی ذمہ داریاں

تحریر: طاہر یاسین طاہر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھائو معمول کا معاملہ ہے۔ …