جمعہ , 6 دسمبر 2019

کشمیر کی فکر کر نادان

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

بین الاقوامی سطح پر بہت سے تنازعات پیدا ہوتے ہیں یا پیدا کیے جاتے ہیں اور کچھ ہی عرصہ بعد مطلوبہ نتائج حاصل کرکے ختم کر دیئے جاتے ہیں۔ مجاہدین اور روس کے درمیان افغانستان کے میدانوں میں جنگ لڑی گئی، کچھ ہی عرصے بعد روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے ساتھ ہی یہ ختم ہوگئی۔ امریکہ نے عراق پر حملہ کیا، صدام کی آمرانہ حکومت ختم ہوگئی، صدام بھی پکڑا گیا اور وہاں کی مدبر قیادت کی حکمت آمیز پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ کو جلد ہی وہاں سے بوریا بسترا گول کرنا پڑا۔ کشمیر کا مسئلہ پچھلی سات دہائیوں سے حل طلب ہے، کوئی دن نہیں گزرتا جب کشمیر کے بیٹے کشمیر کی آزادی کے لیے جان کی بازی نہ لگا رہے ہوں۔ برطانوی استعمار نے ہندوستان سے جاتے ہوئے کشمیر کو ایک ایسے مسئلے کے طور پر چھوڑا، جس سے مسلسل خون بہہ رہا ہے۔ اسلحے کے تاجروں نے اس مسئلے کو بڑا سوچ کے الجھایا ہے، چاہے پورا کشمیر جل جائے، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ان کا اسلحہ بکتے رہنا چاہیئے۔ بقول شاعر

بات الجھی ہے تو سلجھے گی بڑی دیر کے بعد
اہل دانش نے بہت سوچ کے الجھائی ہے

ہمارے وزیراعظم نے تازہ تازہ امریکی دورہ کیا ہے اور حکومت کامیاب دورہ پر اس وقت جشن میں ہے۔ جانے کون سی کامیابیاں محترم وزیراعظم سمیٹ کر لائے ہیں، جو ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آ رہیں۔ ایک اہم کامیابی جس پر جشن منایا گیا، وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زبان سے مسئلہ کشمیر کا ذکر تھا۔ ویسے خود پر تعجب آتا ہے کہ ہم اس قدر کمزور ہوگئے ہیں کہ کسی بین الاقوامی لیڈر کی زبان سے ہی کشمیر کا سن کر اپنی کامیابی کا اعلان کر دیتے ہیں اور ادھر بارڈر پار عقل و شعور سے عاری برہمین سامراج کی میراث لیے مودی حکومت موجود ہے، جس کے میڈیا نے سر آسمان پر اٹھا لیا، اس سے ہمیں بھی بہت خوشی ہوئی کہ کوئی بہت ہی اہم کامیابی ملی ہے، جس کی وجہ سے انڈیا میں اس قدر شدید ردعمل آیا ہے۔

ویسے جس طرح کی بات ٹرمپ نے کی ہے، امریکہ اور پوری بین الاقوامی برادری اصولی طور پر اس بات کی پابند ہے کہ وہ اہل کشمیر سے یو این او میں کیے گئے وعدے کی پاسداری کرے اور وہاں کے باشندوں کے لیے استصواب رائے کا اہتمام کرے۔ یہ الگ بات ہے کہ مفادات کی وجہ سے کوئی بھی بھارت کی مذمت تک کرنے کو تیار نہیں۔ ویسے امریکی صدر سے جو امیدیں لگائی گئی ہیں، وہ بے کار ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے بھارت کے ساتھ اربوں ڈالر کے مفادات وابستہ ہیں، وہ ایک بڑی منڈی ہے، جہاں امریکی کمپنیاں دھڑا دھڑ سرمایہ کاری کر رہی اور منافع کما رہی ہیں۔ موجودہ امریکی صدر کی پالیسی کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں ہے، وہ ہر چیز کو مطلوبہ منافع کی نظر سے دیکھتا ہے۔ امریکی کانگریس نے سعودی عرب کو اسلحہ نہ بیچنے کی قرارداد پاس کی، ٹرمپ نے اسے صرف اس لیے ویٹو کر دیا کہ اس سے ہمیں اسلحہ بیچنے سے جو آمدن آنی تھی، وہ نہیں آئے گی۔

سردست کشمیر کی تحریک کو بلکہ پوری وادی کو چاہے اس میں بسنے والوں کا تعلق کسی بھی نظریہ یا کسی بھی جماعت سے ہو، ایک بڑا خظرہ درپیش ہے۔ انڈیا کے دستور میں وادی کو دیا گیا خصوصی سٹیٹس ختم کیا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت ریاست کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 35 اے کو ختم کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ بے جے پی کے نظریات تو شروع سے بہت واضح ہیں، انہوں نے اپنے انتخابی منشور میں اس بات کو رکھا تھا کہ ہم کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کر دیں گے اور اس کے لیے وہ سپریم کورٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہونے جا رہی ہے، اگر انڈیا کی سپریم کورٹ اس آئینی دفعہ کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو پورے کشمیر میں آگ لگ جائے گی۔

یہ ایک طے شدہ حیثیت کو چیلنج کرنے والی بات ہوگی۔ اس کے نتیجے میں شائد تھوڑے ہی عرصے میں کشمیر میں کشمیریوں سے زیادہ ہندوستانی آ بسیں اور یہاں کے وسائل اور یہاں کی شناخت خطرے میں پڑ جائے۔ تمام کشمیری پارٹیاں اگرچہ وہ ہند نواز ہی کیوں نہ ہوں، اس دفعہ کی شدید حامی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی ان افواہوں نے شدت پکڑی کہ اس دفعہ کو تبدیل کیا جا رہا ہے، محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے درست کہا کہ اس سے وادی میں آگ لگ جائے گی جسے وقتی طور پر ظلم و بربریت سے دبا بھی دیا جائے، مگر اہل کشمیر کا ہندوستان سے فاصلہ بڑھ جائے گا۔

اگرچہ کیس ابھی سپریم کورٹ نے سننا ہے، مگر بہت سی قوتوں کو فیصلہ نوشتہ دیوار لگ رہا ہے کہ جب قاتل ہی منصف ہوں تو فیصلوں کا پہلے سے علم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت نے کیس کی سماعت سے پہلے ہی دس ہزار اضافی فوجی دستے کشمیر میں تعینات کر دیئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کے حوالے سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ تین ماہ کا راشن جمع کر لیں، کسی بھی وقت حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ یہ ساری خبریں جان بوجھ کر بھارتی سامراج کی طرف سے پھیلائی جا رہی ہیں، تاکہ لوگ خوفزدہ ہو جائیں اور ذہنی طور پر اس فیصلے کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ ہوں۔ ہر طاقتور جابر کی طرح انڈیا کی غاصب حکومت بھی یہ سمجھتی ہے کہ وہ ہر چیز طاقت کے زور پر کرسکتی ہے اور یہی اس کی بھول ہے، دھونس اور دھمکی سے افراد کو دبایا جا سکتا ہے، اقوام کو نہیں۔

اگر سپریم کورٹ کے کسی نام نہاد فیصلے کا سہارا لے کر انڈیا کی حکومت کشمیر کو خاص حیثیت دینے والے آرٹیکل کو کالعدم قرار دیتی ہے تو اس سے کشمیر کے انڈیا سے الحاق کی بنیاد ہی ختم ہو جائے گی، کیونکہ یہ دو طرفہ معاہدہ تھا، جس کے نتیجے میں انڈیا قابض ہوا تھا، جب وہ اس پر عمل نہیں کر رہا تو اہل کشمیر کا وہ طبقہ جو ہند نواز قوتوں کے کیے گئے معاہدے کو مانتا تھا، وہ بھی ناراض ہو جائے گا۔ یہ ایک طرح سے آزادی کے وقت والی پوزیشن پر واپس آنے والی بات ہوگی۔ اگرچہ ابھی انڈیا طاقت کے زور پر دھونس سے کام لے گا، مگر اخلاقی جواز کھو دے گا۔ کشمیر اور اہل کشمیر کے لیے بہت خطرناک کھیل کھیلنے کا منصوبہ ہے، ہمارے پالیسی سازوں اور صاحبان اختیار کو جاگنا ہوگا، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم امریکی صدر کے بیان کا لولی پوپ لیے خوش ہوتے رہیں اور کشمیر کی بنیادی حیثیت ہی تبدیل کر دی جائے۔

یہ بھی دیکھیں

نیٹو کے 70 سال اور درپیش چیلنجز

تحریر: سید رحیم نعمتی تقریبا ایک ماہ پہلے فرانس کے صدر ایمونوئل میکرون نے میگزین …