جمعرات , 21 نومبر 2019

جاز، ٹیلی نار کو لائسنس تجدید کیلئے 21 اگست کی نئی ڈیڈ لائن

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جاز اور ٹیلی نار کو لائسنس کی تجدید کروانے کے لیے 21 اگست کی نئی حتمی تاریخ دے دی۔تاہم ٹیلی کام سیکٹر کی ان 2 بڑی کمپنیوں کو یقین ہے کہ ان کی سروسز بند ہونا تو درکنار متاثر بھی نہیں ہوں گی، دونوں کمپنیوں کو لائسنس کی تجدید کے لیے درکار رقم پر اعتراض ہے۔

مذکورہ لائسنس دونوں کمپنیوں نے 2004 میں ایک نیلامی کے دوران 29 کروڑ 10 لاکھ ڈالر یعنی تقریباً 17 ارب روپے میں حاصل کیا تھا جس کی مدت 2 ماہ قبل 25 مئی کو اختتام پذیر ہوچکی ہے۔حکومت اب لائسنس کی تجدید کے لیے 45 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کررہی ہے یہ رقم بظاہر 4 جی سروسز کے لیے سال 2016 اور 2017 میں ہونے والی نیلامی کو بنیاد بنا کر طے کی گئی ہے۔تاہم مئی میں جاز نے عدالت میں لائسنس کی تجدید کے لیے مقرر کردہ رقم کو چیلنج کردیا تھا جہاں یہ معاملہ اب تک زیِر التوا ہے۔

کمپنی کا موقف ہے کہ وہ لائسنس کی اصل شرائط اور 2015 کی ٹیلی کام پالیسی کی بنیاد پر لائسنس کی تجدید چاہتی ہے۔ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ ذرائع کا کہنا تھا کہ عدالت نے پی ٹی اے کو 25 جون کی ڈیڈ لائن واپس لینے اور سیلولر کمپنیوں کی شکایات 15 جولائی تک دور کرنے کی ہدایت کی تھی۔

تاہم موبائل آپریٹرز اب بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی شکایات حل نہیں ہوئیں جبکہ پی ٹی اے نے بھی عدالت میں جواب جمع کروادیا جو گزشتہ موقف سے مختلف نہیں اور اسی شرائط پر آپریٹر سے لائسنس تجدید کے لیے 45 کروڑ ڈالر ادا کرنے کا کہا گیا ہے۔اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ٹیلی نار کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ اب معاملہ عدالت کے ذمے ہے جس نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس طرح ردِ عمل دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آپریٹرز کے پاس 3 راستے ہیں یا تو ہم لائسنس تجدید کے لیے زیادہ فیس ادا کرنے پر راضی ہوجائیں یا اس معاملے کو دوبارہ عدالت میں چیلنج کریں یا ریگولیٹری باڈی سے مزید توسیع کی درخواست کریں‘۔انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ 21 اگست کے بعد آپریٹرز کو لائسنس تجدید کے لیے جرمانے کے ساتھ فیس بھی جمع کروانی پڑے گی۔

یہ بھی دیکھیں

حکومت کا تاجروں سے معاہدہ، شناختی کارڈ کی شرط 3 ماہ کے لیے موخر

اسلام آباد : حکومت نے خرید و فروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط پر کارروائی …