اتوار , 17 نومبر 2019

فاتح امریکا!

(اطہر علی ہاشمی) 

عمران خان کتنا ہی بڑا کارنامہ سرانجام دے ڈالیں، تنقید کرنے والے کوئی نہ کوئی خامی تلاش کر ہی لیتے ہیں۔ اب دیکھئے ناں، وہ امریکا فتح کرکے آئے بلکہ دور جدید کا کولمبس بن کر امریکا کو پاکستان کے لیے نئے سرے سے دریافت کیا لیکن ان کی مخالفت کرنے والوں کا حال اس خاتون کی طرح ہے جس نے اپنے شوہر کو بتایا کہ آج ایک عجیب بات ہوئی، ایک شخص ہوا میں اڑ رہا تھا اور ہمارے گھر کے اوپر سے کئی بار گزرا۔ اس کے شوہر نے کہا، بھلی مانس وہ میں ہی تو تھا۔ بیوی نے فوراً کہا جبھی ٹیڑھے ٹیڑھے اڑ رہے تھے۔عمران خان ہوائوں میں اڑ رہے ہیں اور جلنے والے کہتے ہیں کہ ٹیڑھے ٹیڑھے اڑ رہے ہو۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انگریزی میں گفتگو کی اور عادت کے برخلاف ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر نہیں بیٹھے۔ ورنہ تو جس سے بھی ملتے ہیں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتے ہیں جسے بدتہذیبی شمار کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایسا شخص خود کو سب سے برتر سمجھتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔(بعد میں دیکھا کہ عمران عادت سے مجبور ہوگئے تھے)۔ عمران خان اپنے دورہ امریکا سے واپس پہنچے اور اسلام آباد ائرپورٹ پر وہی خطاب کیا جس کی مشق وہ کئی دن سے کررہے ہیں اور ابھی کرتے رہیں گے۔

البتہ ایک نئی بات انہوں نے یہ کہی کہ پاکستان کو اللہ نے جنم دیا ہے اور اللہ کہتا ہے کہ اس نے کسی کو جنم نہیں دیا(لم یلد ولم یولد)۔ نہ اس نے کسی کو جنا نہ کسی نے اس کو جنا۔ بیگم عاشق اعوان پھر کہہ دیں گی کہ وزیراعظم کی زبان پھسل گئی تھی، ورنہ یہ بات تو ان کی بیگم تک کو معلوم ہے۔ صحیح ہے لیکن حکمران کی زبان کا بار بار پھسل جانا کوئی اچھی بات نہیں۔ جس قوم کے لیڈر کی زبان پھسل جائے وہ قوم پھسل جاتی ہے اور یوٹرن بھی کام نہیں آتا۔ زبان پھسل جائے تو کبھی جرمنی اور جاپان ایک دوسرے کے حریف بن جاتے ہیں اور پھر سرحدیں ایسے مل جاتی ہیں کہ سرحدوں پر مشترکہ منصوبے تشکیل پاتے ہیں۔ غنیمت ہے کہ قدم پھسلنے کی شہرت رکھنے والے کی اب صرف زبان پھسلتی ہے۔ اور اس بری طرح پھسلتی ہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے جتنے بھی دعوے کیے تھے وہ سب ذہن ہی سے پھسل گئے۔محترم عمران خان نے اسلام آباد پہنچ کر کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے میں ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں۔ لگتا بھی ایسا ہی ہے۔ یہ ان کے اقتدار کی سالگرہ بھی تھی۔ صدر ٹرمپ نے ان کو تحفے میں ایک بلا بھی دیا ہے جس سے کھیلا نہیں جاسکتا۔ ٹرمپ کسی کو بھی ایسا بلا نہیں دیتے جس سے وہ کھیل بھی سکے۔

عمران خان جس دورہ امریکا پر نازاں ہیں وہ شروع ہی سے متنازع رہا ہے۔ پاکستان کی طرف سے دورے کا اعلان اور تاریخوں کا تعین کردیا گیا تھا لیکن امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہمیں تو ایسی کوئی خبر ہی نہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان نے ٹرمپ کے یہودی داماد کشنر کے ذریعے اس ملاقات کی راہ ہموار کروائی۔ یوں لگا جیسے وائٹ ہائوس نے با دل ناخواستہ ہی منظوری دی کہ چلو آنے دو۔ چناں چہ عمران خان جب واشنگٹن پہنچے تو ان کے استقبال کے لیے صدر تو کیا کوئی چھوٹا موٹا امریکی عہدیدار بھی موجود نہیں تھا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستان کے سفیر نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ یہاں تو امریکا سے نائب وزیر کا سیکرٹری بھی آجائے تو سب استقبال کو دوڑ پڑتے ہیں۔ اب عمران خان نے اطلاع دی ہے کہ ٹرمپ بہت جلد پاکستان آرہے ہیں۔ ایسا ہوا تو ٹرمپ کے شاہانہ استقبال کا منظر سب دیکھ ہی لیں گے۔ قطر کا حکمران آئے تو عمران خان اس کے ڈرائیور کے فرائض سرانجام دیتے ہیں، ٹرمپ آنے لگے تو شاید عمران خان ان کا جہاز اڑائیں۔ بشرطیکہ ٹرمپ یہ سوچ کر خطرہ مول لے لیں کہ عمران خان حکومت بھی تو چلا رہے ہیں۔واشنگٹن میں بھی وہ پاکستان کے سیاستدانوں کو بدنام کرنے اور للکارنے سے باز نہیں آئے۔ ان کے رفیق خاص فواد چودھری تک کہہ اٹھے کہ اپنے گندے کپڑے گھر میں دھونا بہتر تھا۔

وہ بھول گئے کہ2014 کے تاریخی دھرنے میں گندے کپڑے دھو کر عدالت عظمی کے باہر لٹکائے گئے تھے۔ عمران خان نے مولانا فضل الرحمن کو واشنگٹن میں بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شکر ہے، پاکستان ڈیزل کے بغیر چل رہا ہے۔ لیکن دو دن بعد ہی ان کی ٹیم ڈیزل بھروانے مولانا فضل الرحمن کے پاس پہنچ گئی۔ چیئرمین سینیٹ کی گاڑی ہچکولے کھارہی ہے۔ اس ٹیم میں شبلی فراز اور وزیراعلی جام کمال شامل تھے۔ جب تنقید ہوئی تو کہا کہ ہم چیئرمین سینیٹ کے لیے ووٹ مانگنے تو نہیں گئے تھے۔ شاید کوئی دینی مسئلہ پوچھنے گئے ہوں یا یہ معلوم کرنا ہو کہ جو شخص آسمانی کتابوں کو نفرت کے صحیفے کہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ سینیٹر شبلی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار حاصل بزنجو سے بھی ملے، ان سے بھی خیریت ہی دریافت کی ہوگی، لیکن شیخ رشید کا بیان ہے کہ عمران خان نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کرنے والوں کی کھچائی کردی ہے، بیان شیخ رشید کا ہے، ممکن ہے وہ صحیح کہہ رہے ہوں۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

مہنگائی میں اضافہ اور حکومت کی ذمہ داریاں

تحریر: طاہر یاسین طاہر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھائو معمول کا معاملہ ہے۔ …