ہفتہ , 23 نومبر 2019

کیوں نہ محفوظ ہوا قیمتی پانی ہم سے

(محمود شام)

اللہ سائیں کتنا مہربان ہے۔ اپنے آسمانوں سے کتنا میٹھا پانی برسا رہا ہے، میٹھا پانی جو انسانوں کی اولیں ضرورت ہے۔ میٹھا پانی جو زندگی ہے۔ چھتوں سے گر رہا ہے، سڑکوں پر بہہ رہا ہے، ہم اتنی قیمتی چیز کو محفوظ کیوں نہیں کر سکتے۔ نہ ہم زمین میں چھپی نعمتیں باہر نکالتے ہیں، نہ پہاڑوں کے سینے میں جھانکتے ہیں۔

پہلے سے ہمیں خبر تھی کہ بارشیں کب ہوں گی۔ کتنی ہوں گی لیکن ہمیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے سے فرصت ہو، ترجمانوں کی لن ترانیاں ختم ہوں، ٹرمپ سے ملنے کی سرشاری کم ہو، وائٹ ہائوس کی یاترا کا خمار ٹوٹے، اپنے اربوں ناجائز اثاثوں کی فکر سے نجات ملے تو ہم اللہ سائیں کی برکتیں سمیٹنے کے منصوبے بنائیں۔ 72سال میں کسی بھی حکومت نے شہروں میں بارش کا پانی محفوظ کرنے کا کلچر متعارف نہیں کرایا بلکہ پہلے سے بنے ہوئے تالاب بھی ختم کر دیئے گئے۔ ہماری زمینیں جس طرح پیاسی ہیں، ہمارے علاقے جس طرح پانی کو ترستے ہیں، ہمارے شہروں میں پینے کے پانی کی کمی پر جس طرح احتجاج ہوتے ہیں، ہمارے سب سے زیادہ رقبے والے صوبے بلوچستان میں جس طرح میلوں میل لق و دق صحرا ہیں، سینکڑوں ایکڑ زمین میں زندگی کی رمق ڈالنے کے لئے پانی نہیں ہے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہمارا سر فہرست مسئلہ پانی کی تلاش ہوتا اور جب اللہ سائیں آسمان سے میٹھا پانی برسا رہا ہو تو ہم اپنے دامن پھیلا کر کھڑے ہو جائیں۔ اس کی ایک بوند بھی ضائع نہیں ہونے دیں۔ یہ انتہائی قیمتی پانی گٹروں میں بہائے جانے کے لئے اوپر سے نہیں اترتا۔ ہم کتنے بدقسمت ہیں، نااہل کہ جو چیز ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے وہ جب نازل کی جاتی ہے تو ہم اسے سنبھالنے کے بجائے گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور جو اس کے ذمہ دار ہیں وہ صرف بیان جاری کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو اس قیمتی پانی کو محفوظ کرنے کی عادت ہونی چاہئے۔ دیہات میں تو پھر بھی چھوٹے بند بناکر اپنے لئے بارش کا پانی جمع کرنے کے کہیں کہیں انتظامات ہیں لیکن شہروں میں ایسا کوئی رواج نہیں ہے۔ باقاعدہ اہتمام تو کیا آگاہی اور شعور بھی نہیں ہے۔ ادھر انڈیا میں مدراس (اب چنائے) میں دوسرے علاقوں سے پانی بھری ٹرینیں لائی جا رہی ہیں پھر بھی پانی کم پڑ رہا ہے۔ جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹائون میں پانی کی راشننگ ہو چکی ہے۔ پہلے برصغیر میں ہر بڑے شہر میں ایک بہت بڑا تالاب ہوا کرتا تھا۔ پورے شہر سے بارش کا پانی یہاں جمع ہو جاتا تھا لیکن غارت ہو لینڈ مافیا اور ہم میں زمین کی ہوس، زر اور زن کے ساتھ ساتھ، پانی کا ذخیرہ کرنے، نکاسیٔ آب کے انتظامات نہ کرکے ہم نے باران رحمت کو آفت آسمانی میں تبدیل کر دیا ہے۔ بارش کا دورانیہ دو تین گھنٹے سے زیادہ ہوجائے تو دل دہلنے لگتا ہے۔

اکثر ملکوں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے باقاعدہ قوانین ہیں۔ کلچر ہے۔ ایسے ٹینک، ڈرم، پائپ ملتے ہیں۔ امریکہ کی کئی ریاستوں میں قانونی طور پر گھروں میں بارش کا پانی جمع کیا جاتا ہے جسے باغبانی، گاڑیاں، فرش دھونے میں استعمال کرکے سرکاری پانی کی بچت کی جاتی ہے۔

میں محقق نہیں ہوں، نہ ہی آبپاشی کا ماہر۔ ریسرچر دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں بارش کا پانی محفوظ کرنے کے قوانین، طریقے، آلات پر تحقیق کرکے ہم وطنوں میں تحریک پیدا کرسکتے ہیں۔ یہ بنیادی ضرورت ہے۔ اس سے معیشت بھی مستحکم ہوسکتی ہے۔ میں تو شعر میں اظہار کرسکتا ہوں۔

آتی نسلیں بھی کسی روز یہی پوچھیں گی
کیوں نہ محفوظ ہوا قیمتی پانی ہم سے

تحقیق کہتی ہے کہ پاکستان میں 145ملین ایکڑ فٹ پانی بہتا ہے۔ پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی اہلیت صرف 14ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اندازہ کرلیں کتنا میٹھا پانی انسانوں کے کام آئے بغیر ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ کفران نعمت نہیں تو کیا ہے؟

آسٹریلیا کو دنیا کا خشک ترین براعظم کہا جاتا ہے۔ وہاں ہر شہری کو خاص طور پر ہر کسان کو پانی کا ایک ایک قطرہ محفوظ کرنے کی فکر ہے۔ بارش کا پانی وہاں تیسرا بڑا ذریعہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک سال میں 274بلین لیٹر بارش کا پانی محفوظ کیا جاتا ہے۔ گھروں میں چھتوں سے پانی سیدھا کنٹینر میں چلا جاتا ہے۔ ہم کنٹینر صرف دھرنوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ امجد اسلام امجدؔ کے نصیب کی بارشیں جو کسی اور کی چھت پر برس پڑتی ہیں، وہ بھی محفوظ کی جاتی ہیں۔ بارانی پانی اس طرح جمع ہونے سے شہر میں سیلاب بھی نہیں آتا، سڑکیں نہریں نہیں بنتیں، نکاسی آب کا نظام خراب نہیں ہوتا۔ ایک تحقیق کے مطابق آسٹریلیا میں 100میں سے 26مکانات ایسے ہیں جہاں بارش کے پانی کے ٹینک موجود ہیں۔ ان میں ڈھائی لاکھ لیٹر سے 3لاکھ لیٹر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ضرورت پڑنے پر شہریوں سے پانی خریدتی بھی ہیں۔ یہ تحقیق بھی ہو چکی ہے کہ پانی کے یہ ذخیرے بلڈنگ کو نقصان نہ پہنچائیں، مچھروں کی آماجگاہ نہ بنیں، فلٹرنگ بھی ہوتی رہے۔

میری کم علمی کہ مجھے پاکستان میں بارش کے پانی کی ذخیرہ بندی کے قوانین سے آگاہی نہیں ہے۔ ویب سائٹوں نے کوئی مدد نہیں کی۔ ایک پاکستان کونسل فار ریسرچ ان واٹر ریسورسز (آبی وسائل پر تحقیق کے لئے کونسل) ہے۔ جس نے پوٹھوہار میں 5چھوٹے ڈیم بناکر بارش کے پانی کے تحفظ کا ذکر کیا ہے۔ راولپنڈی کی بارانی زرعی یونیورسٹی نے بارش کے پانی کے تالاب کی روایت کو بحال کرنے کا تجربہ کیا ہے۔ جو کامیاب رہا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے 2200کینال رقبے میں پانچ تالاب بنائے گئے ہیں۔ شہروں میں پانی محفوظ کرنے کے لئے نہ تو انتظامات ہیں نہ ہی شہریوں میں شعور پیدا کرنے کے لئے کوئی مہم چلائی جاتی ہے۔ البتہ یہ تحقیق سامنے آئی ہے کہ سرکاری طور پر فراہم کئے جانے والے میٹھے پانی میں سے 30سے45 فیصدگھریلو باغبانی اور گاڑیاں دھونے میں ضائع ہوتا ہے۔ 20فیصد فلش سسٹم کی نذر ہو رہا ہے۔

ہمارے دشمن ملک انڈیا میں اس سلسلے میں کافی کام ہو رہا ہے۔ ایک سینٹرل گرائونڈ واٹر بورڈ ہے۔ پینے کے پانی اور نکاسی آب کے لئے الگ وزارت ہے۔ ’نیشنل گرین ٹریبونل‘ کو عدالتی اختیارات حاصل ہیں۔ حال ہی میں اس نے سارے اسکولوں کو حکم دیا ہے کہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لئے بڑے بڑے ٹینک بنائیں۔ جو متعلقہ محلے کی پانی کی ضروریات کو پوری کریں۔ اسی ٹریبونل نے مرکز اور شہری حکام کو ہدایت دی ہے کہ آئندہ کسی تعمیراتی منصوبے کو اس وقت تک اجازت نہ دی جائے جب تک وہ دوران تعمیر بارش کا پانی جمع کرنے کے لئے ٹینک نہ بنائے اور تعمیر کے بعد بھی اس پروجیکٹ میں پانی کی مطلوبہ مقدار ذخیرہ کرنے کے لئے ٹینک تعمیر کئے جائیں۔ اب پاکستان میں 50لاکھ گھر بننے والے ہیں۔ کسی نہ کسی متعلقہ ادارے یا سپریم کورٹ کو یہ پابندی عائد کرنی چاہئے کہ ہر نیا تعمیراتی منصوبہ بارش کے پانی کے ذخیرے کے لئے مطلوبہ سائز کے ٹینک بنائے گا۔ پاکستان کی انجینئرنگ کونسل کو چھتوں سے پانی ٹینک میں لے جانے کے لئے پائپوں کا سائز اور معیار کا تعین کرنا چاہئے۔ میں تو پانی کے درد میں لکھتا چلا گیا ہوں۔ یہ تو کسی تھنک ٹینک، پاکستان پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کا منصب ہے کہ وہ پاکستان کی ضروریات، آب و ہوا، زمینی حقائق کی بنیاد پر اللہ سائیں کے بھیجے ہوئے میٹھے پانی کو اللہ کے نائب اشرف المخلوقات کے استعمال میں لانے کے لئے قوانین بنائیں۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …