منگل , 12 نومبر 2019

نان روٹی کی بڑھتی قیمتوں پر نوٹس اور اسد عمر

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)

زمینی حقیقتیں، اخباری اور میڈیائی حقیقتوں سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ عامل صحافی جانتے ہیں کہ گاہے خواہش کو خبر کا رنگ یا تجزیہ کی چادر اوڑھا دی جاتی ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کیا۔ گزشتگان سے موجودہ حکومت تک، سب نے ایسے ماہرین رکھے ہوئے ہیں، جن کا کام ہی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وکالت کرنا ہے۔ پرویز مشرف، صدر زرداری، میاں نواز شریف کی حکومتوں کی وکالت کرنے والے آج اگر پی ٹی آئی کی حکومت میں اہم عہدوں پر بیٹھے گذشتہ حکومتوں کی برائی کر رہے ہیں تو پھر ہمیں اپنے سماجی رویئے اور اجتماعی سیاسی دانش کی زوال پذیری پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ جو سماج کتاب سے دور ہو جائے، وہ شخصیت پرستی کے کسی نہ کسی بت کا پجاری بن جاتا ہے۔ اس سماج میں بارش برسانے والا بت بھی ہوتا ہے اور اولاد دینے والا بت بھی، رزق دینے والے بت کے چرنوں پر بھی نذرانے چڑھائے جاتے ہیں اور اولاد دینے والے بت کی درگاہ پر بھی جاروب کشی کے لیے اولادوں کے نذرانے مانے جاتے ہیں۔ یہ ہمارے سماج کا افسوس ناک المیہ ہے، جس سے ہم دانستہ نظریں چراتے ہیں۔ انسان غلطیوں سے نہیں بلکہ غلطیوں پر اصرار سے تباہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تباہی کی تاریخ ایسی ہی نشانیوں سے بھری پڑی ہے، تاریخ سے مگر سیکھتا کون ہے؟ ہم تو تاریخ کو جب بھی پڑھتے ہیں "چسکا خوری” کے لیے پڑھتے ہیں۔

تاریخ افسانوی کرداروں یا ناولوں کا نام نہیں ہوتا۔ ہمارے کئی مورخین نے تاریخ کو افسانہ طرازی کی شکل دے کر سماج کو شخصیت پرستیوں کے سحر میں ڈبو دیا۔ ہم اگر اپنے سماج کی سیاسی و تاریخی غلطیوں کا تجزیہ کرنے سے ڈرتے رہیں گے تو خدانخواستہ ہم اس سے بھی برے دن دیکھیں گے۔ 1977ء میں ایک تحریک بھٹو حکومت کے خلاف اٹھی تھی، جسے تحریکِ نظام مصطفیٰ ﷺکا نام دیا گیا تھا۔ یہ ایک پلانٹڈ تحریک تھی، جسے امریکہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ آج ہم سن رہے ہیں کہ کوئی نئی تحریک تحفظ ناموسِ رسالتﷺ کے نام پر سر اٹھا رہی ہے۔ ہمارے سماج کا یہی المیہ ہے، نیم پڑھے لکھے اور ظواہر پرست معاشروں میں مذہب کو مخالف سیاسی جماعتوں/شخصیات اور فلسفہ دانوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر اپوزیشن جماعتوں نے تحریک چلانی ہی ہے تو ایشوز پر چلائیں۔؟ پوچھیں کہاں ہیں ایک لاکھ گھر؟ ایک کروڑ نوکریوں میں سے اب تک کتنی نوکریاں دی جا چکی ہیں؟ یہ بھی پوچھیں کہ کرپشن کے خلاف حکومت کی جانب سے کیا جانے والا احتساب عادلانہ ہے یا اس میں سیاسی مٖخالفین کو نکیل ڈالی جا رہی ہے؟ اگر عادلانہ احتساب ہے تو پھر ان پرندوں کے پر کیوں نہیں کاٹے جا رہے، جو پیپلز پارٹی اور نون لیگ سے صرف اس لیے اڑان بھر کر بنی گالہ کے سیاسی گھونسلے میں آئے کہ وہ نیب کے کیسز سے بچ سکیں؟

مولانا فضل الرحمان کا دکھ سمجھ آنے ولا ہے، اسی طرح دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں کا بھی کہ ان سب کے پاس بیچنے کو مذہب کے سوا ہے کیا؟ نہ کوئی سماجی بھلائی کا پلان ہے، نہ مہنگائی کے گھوڑے کو لگام دینے کا منصوبہ۔ لے دے کے "ہم آئیں گے اسلامی نظام لائیں گے” جیسے نعروں کے سوا اور ہے کیا؟ اسلام کو تو کسی نہ کسی طرح پی ٹی آئی بھی مدینہ جیسی فلاحی ریاست کی نقشہ گری کرکے بیچ رہی ہے۔ سماجی حیات اور سیاسی نفسیات کے ماہرین کی خاموشی دکھ کو مزید گہرا کرتی ہے۔ یہی وقت ہے کہ ان افراد کو سامنے آکر سماج کی رہنمائی کرنی چاہیئے۔ اگرچہ آزاد لبوں پر غیر اعلانیہ پابندیاں ہیں، مگر کب تک؟ کب تک دار و رسن کے رسیا گھروں میں بیٹھے سماجی حیات کی بے بسی پر آنسو بہاتے رہیں گے۔؟

کالم کی نقشہ گری کرنے میں دو خبروں نے بنیادی کردار ادا کیا، پہلی خبر دیکھیئے فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ "وزیراعظم عمران خان نے نان اور روٹی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر سخت نوٹس لیتے ہوئے انہیں اصل قیمت پر بحال کرنے کی ہدایت دی ہے، معاون خصوصی برائے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے تنور والوں کے لیے خصوصی طور پر گیس کی قیمتوں اور آٹے کی قیمت کم کرنے اور اس پر ڈیوٹی کو کم کرنے کے لیے کابینہ کی اقتصادی تعاون کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا۔” نان و روٹی کی قیمتیں اس وقت 12 سے 15 روپے ہیں، جو اس سے قبل 8 سے 10 روپے تھیں۔ دوسری خبر جس نے مجھے متوجہ کیا وہ موجودہ حکومت کے سابق وزیر خزانہ اسد عمر کا بیان ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ "مہنگائی میں بتدریج اضافہ رہے گا، تاہم آئندہ 2 سے 4 ماہ کے بعد اس میں کمی آئے گی۔ سابق وزیر خزانہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر خزانہ وزیراعظم عمران خان کو تجویز دی تھی کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جائیں، جبکہ ان کے برعکس تمام ماہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کو معیشت بچانے کے لیے مالمی مالیاتی ادارے کے پاس جانا ہوگا۔”

سوال یہ ہے کہ اگر مہنگائی میں بتدریج اضافہ ہوگا تو یہ دو سے چار ماہ میں کم کیسے ہوگی جبکہ لفظ "بتدریج” الارمنگ ہے کہ مہنگائی رکنے کا ابھی کوئی امکان ہی نہیں؟ اس سے بھی اہم بات کہ جہاں "نان، روٹی” کی قیمتوں پر وزیراعظم ہائوس میں نوٹس لیے جائیں، وہاں قصور نان روٹی والے کا نہیں بلکہ حکومتی ٹیم کا ہے۔ حالانکہ یہ مقامی سطح کا ایشو ہے، حکومت جسے مقامی انتظامی افسران کے ذریعے بڑی آسانی سے حل کر سکتی ہے۔ لیکن ایشو کیا صرف نان روٹی ہی ہے؟ نان تو وہ کھاتے ہیں جو ملازم پیشہ ہیں، شہروں میں رہتے ہیں اور صبحدم ناشتہ بنانے کے جھنجھٹ سے بچنے کے لیے نان والے سے نان خریدتے ہیں۔ اگرچہ یہ اہم مسئلہ ہے، لیکن کیا پیاز، چینی، آلو، دال اور چاول کی بڑھتی قیمتیں حکومت کے نوٹس میں نہیں؟ سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے”مسابقتی کمیشن پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ چینی سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کی جائے۔”

بارِ دگر عرض ہے کہ نان روٹی کی قیمتوں پر وزیراعظم ہائوس میں اجلاس حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیا کسی آنے والے دن میں وزیراعظم پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بھی نوٹس لیں گے؟ یا ریاستِ مدینہ کے "سلوگن” تلے غریب عوام کا جینا مزید مشکل کر دیا جائے گا؟ ہمیں اپنے سماجی رویوں اور اجتماعی سیاسی دانش کا تجزیاتی مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے۔ شخصیت پرستی ہمارے سماج کا جزوِ لازم بن چکی ہے، اس سے جان چھڑانا ہوگی۔ خاندانی جمہوریتوں کے نام پر کی جانے والی سیاست سے عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں مل سکا، نہ گذشتہ دور میں نہ آئندہ۔ وہ جسے خدائے سخن کہا جاتا ہے، اس بندہء خدا نے خدا خبر کیوں کہا تھا کہ

میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

چہرے نہیں نظام بدلو؟ نہیں بلکہ نظام بدلنے سے پہلے سماج کے سیاسی رویوں کا تجزیاتی مطالعہ کرو، سیاسی خانوادوں کے مضبوط ہاتھوں سے "آمرانہ جمہوریت” کا علم چھین لو، تب جا کر عام آدمی کو ریلف ملے گا، ورنہ یہ نوٹس پہلے بھی لیے جاتے رہے اور آئندہ بھی لیے جاتے رہیں گے۔ نتیجہ وہی نکلے گا، جو ماضی کی حکومتیں کمیشن بنا کر "نکالتی” تھیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …