اتوار , 17 نومبر 2019

طالبان سے امن معاہدہ کون کرے گا؟

(تحریر: سید نعمت اللہ)

قیام امن سے متعلق امور کیلئے حال ہی میں تشکیل پانے والی افغانستان کی نئی وزارت نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ 15 افراد پر مشتمل ایک وفد تشکیل دینے کیلئے مقدماتی کاموں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس وفد نے دو ہفتے بعد طالبان سے مذاکرات کیلئے ایک یورپی ملک جانا ہے۔ کونسل سیکریٹریٹ ختم کر کے یہ نیا وزارت خانہ افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی کے حکم پر تشکیل پایا ہے۔ اس نئے وزارت خانے نے تشکیل پاتے ہی سب سے پہلا کام مذکورہ بالا اعلامیہ جاری کرنے کی صورت میں انجام دیا ہے۔ بہرحال یہ ایک اچھی خبر ثابت ہو سکتی ہے کہ افغانستان میں جاری خانہ جنگی کے دو اصلی فریق پہلی بار ایکدوسرے سے براہ راست مذاکرات کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ البتہ اگر طالبان افغان حکومت اور اس کی نئی وزارت کو مسترد نہ کر دے اور اصل مسئلہ نئی وزارت تشکیل دینا یا افغان حکومت کی جانب سے نیا ہتھکنڈہ بروئے کار لانا یا امریکی حکام کی مداخلت نہ ہو اور اسی طرح اگر اصلی معاہدہ پہلے سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہی انجام پا نہ چکا ہو۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پہلا خطرہ سامنے آ گیا ہے کیونکہ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے افغانستان کی وزارت امن کی جانب سے مذکورہ بالا اعلامیہ جاری کئے جانے کے ایک دن بعد حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا امکان مسترد کر دیا اور کہا کہ "انٹرا افغان مذاکرات صرف اسی صورت میں ہی ممکن ہیں جب غیرملکی افواج اس ملک سے اپنے انخلاء کا حتمی اعلان کر چکی ہوں گی۔” یوں طالبان اب بھی اپنی ہمیشگی شرط پر اصرار کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ وہ ملک میں غیرملکی افواج کی موجودگی تک حکومت سے مذاکرات کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اگرچہ سہیل شاہین کے اس موقف سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے براہ راست مذاکرات اور قیام امن کیلئے پہلی شرط مہیا نہیں ہو سکی لیکن اس کے باوجود دو دیگر اسباب بدستور موجود ہیں۔ افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمائے خلیل زاد نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا: "کابل میں انٹرا افغان مذاکرات کے بارے میں بہت زیادہ باتیں کی جا رہی ہیں۔ میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ مذاکرات اس وقت انجام پائیں گے جب ہمارے معاہدے انجام پا چکے ہوں گے۔”

زلمائے خلیل زاد اس بات پر تاکید کرتے نظر آتے ہیں کہ انٹرا افغان مذاکرات طالبان، حکومتی نمائندوں، ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، این جی اوز کے نمائندوں اور خواتین کے نمائندوں کے درمیان انجام پائیں گے۔ یوں امریکہ کے خصوصی ایلچی نے نہ صرف طالبان سے امن مذاکرات اور پورے امن عمل کو امریکہ اور طالبان کے درمیان حتمی معاہدہ طے پا جانے سے مشروط کیا بلکہ ابھی سے طالبان سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کی ترکیب بھی واضح کر دی ہے۔ زلمائے خلیل زاد کے اس ٹویٹر پیغام نے سب کیلئے ایک نکتہ واضح کر دیا ہے اور وہ افغانستان میں امن عمل کا ان مذاکرات پر منحصر ہونا ہے جو ان کے اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان جاری ہیں۔ انہوں نے طالبان سے مذاکرات کا ساتواں دور تقریباً تین ہفتے پہلے انجام دیا ہے اور اب اگلے ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں آٹھواں دور انجام دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ خود زلمائے خلیل زاد کے گذشتہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چار شعبوں میں اچھی خاصی پیشرفت ہوئی ہے۔ یہ چار شعبے طالبان کی جانب سے دہشت گردانہ اقدامات انجام نہ دینے کی یقین دہانی، افغانستان سے غیرملکی افواج کا انخلاء، انٹرا افغان امن مذاکرات میں شمولیت اور ہمیشگی اور وسیع پیمانے پر جنگ بندی کا قیام ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ ہفتے منعقد ہونے والے مذاکرات بھی انہی نکات کے گرد گھومیں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان چار شعبوں کی تفصیلات اور زلمائے خلیل زاد کی جانب سے بیان کی گئی پیشرفت کی تفصیلات بالکل واضح نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے افغانستان کے اندر اور باہر شدید پریشانی پائی جاتی ہے۔ چند مہینے پہلے افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب نے امریکی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ افغان حکومت کو طالبان سے مذاکرات کے بارے میں اعتماد میں نہیں لے رہی۔ انہوں نے زلمائے خلیل زاد کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ درحقیقت افغانستان کے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ امریکہ نے طالبان سے معاہدے کیلئے افغان حکومت کو بائی پاس کیا ہے۔ امریکہ کی ریپڈ ری ایکشن فورس کے سابق سربراہ جی اسکاٹ نے حال ہی میں اخبار نیشنل انٹریسٹ میں مقالہ لکھا ہے۔ انہوں نے اس مقالے میں زلمائے خلیل زاد کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کو 1973ء میں ویت نام جنگ کے دوران امریکی مذاکرات سے تشبیہہ دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کی دلدل سے باہر نکلنے کیلئے ہاتھ پاوں مار رہے ہیں۔ اس وقت یہ شدید پریشانی پائی جاتی ہے کہ امریکہ ویت نام جنگ میں پیرس امن معاہدے کی طرح افغانستان سے متعلق بھی کوئی ایسا ہی معاہدہ انجام دے کر نکل جائے گا اور افغانستان طالبان کے حوالے کر جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

مہنگائی میں اضافہ اور حکومت کی ذمہ داریاں

تحریر: طاہر یاسین طاہر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھائو معمول کا معاملہ ہے۔ …