جمعہ , 15 نومبر 2019

پاک امریکا دوطرفہ تعلقات پر غور ؛سول، عسکری قیادت کی اہم بیٹھک

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ملک کی سول اور عسکری قیادت نے وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکا کی روشنی میں امریکا اور پاکستان کے مابین دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے حوالے سے غور کے لیے ملاقات کی۔یہ اعلیٰ سطح کا اجلاس وزیراعظم کے دفتر میں منعقد ہوا جس میں وزیراعظم کے دورہ امریکا کے نتائج پر نظرِ ثانی اور نیویارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بارے میں بات چیت کی گئی۔

وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر بحری امور سید علی زیدی، معاونِ خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقار عباس بخاری، انٹر سروسز انٹیلی جنس (ٓئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور اعلیٰ سطح کے سفارتکار علی جہانگیر صدیقی شریک ہوئے۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اجلاس میں دورہ امریکا کے دوران کیے گئے فیصلوں کو امریکی حکام کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہوئے عملی جامہ پہنانے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ دورہ پاکستان کے بارے میں گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے کامیاب دورے پر اطمینان کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن اور پاک-امریکا تعلقات کے حوالے سے صدر ٹرمپ خیالات کو سراہا۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دو طرفہ تعلقات نہ صرف امریکا اور پاکستانی قیادت کی خواہش ہے بلکہ اس سے خطے میں امن و استحکام بھی آئے گا۔

قبل ازیں وزیراعظم نے دورہ امریکا کو کامیاب قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے پاکستان کا مقدمہ موثر انداز میں پیش کیا۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے پر امن تصفیے کی پیشکش کی ہے اور ملک کے اس کردار کا سراہا گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے وزیراعظم کو ارسال کردہ خط میں افغان جنگ کے مذاکرات کے ذریعے حل کو اپنی سب سے اہم علاقائی ترجیح قرار دیتے ہوئے پاکستان کی حمایت اور سہولت کاری کی درخواست کی تھی۔خیال یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم کے دورہ امریکا نے دوطرفہ تعلقات کے درمیان آنے والی خلیج دور ہوئی یے، انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا تھا کہ پاکستان، امریکا کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔

پارلیمانی کمیٹی
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے اراکین نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے اپنی پوزیشن کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی شرائط کو پوری کرنے کے لیے سفارتکاری کے استمعال کرنا چاہیے۔کمیٹی اراکین نے اتفاقِ رائے سے اس بات کا اعتراف کیا کہ صرف وزارت خزانہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری نہیں کرسکتی بلکہ اس کے لیے ملک کے سفارتکاروں کی مشترکہ کوششیں درکار ہیں تاکہ عالمی طاقتوں سے مذاکرات میں پاکستان کی اسٹریٹیجک پوزیشن کا استعمال کیا جائے۔

کمیٹی کا اجلاس دفتر خارجہ میں ہوا جس میں وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پورا کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔تاہم معاملے کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر حکام نے درخواست کی کہ کمیٹی کی کارروائی ان کیمرہ رکھی جائے جسے کمیٹی کے چیئرمین ملک محمد احسان اللہ تیوانہ نے قبول کرلیا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران: پاکستانی زائرین سے بھری ایرانی بس اور ٹرالر کے مابین تصادم؛ 4 جاں بحق 21 زخمی

تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کے صوبہ بیرجند کے ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستانی …