جمعرات , 21 نومبر 2019

یورپی یونین کے بعد چین کی بھی جواد ظریف کے خلاف امریکی پابندی کی مخالفت

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک)یورپی یونین کے بعد چین نے بھی کی جواد ظریف کے خلاف امریکی پابندی کی مخالفت کی ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان هوآ چونینگ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے خلاف یک طرفہ امریکی پابندی کی مخالفت کی ہے اور امریکہ سے مغربی ایشیاء میں استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کے روز یورپی یونین نے ایک بیان جاری کر کے ایران کے وزیر خارجہ کے خلاف امریکی پابندیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ اپنا رابطہ اور تعاون جاری رکھے گی۔یورپی کمیشن نے بھی اعلان کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے سے اس کو دکھ ہوا ہے اور سفارتی چینلوں کے تحفظ کی اہمیت کے پیش نظر وہ ڈاکٹر ظریف کے ساتھ جو ایران کی اعلی ترین سفارتی شخصیت ہیں، اپنا رابطہ اور تعاون جاری رکھے گا-

اس درمیان ایران کی سپاہ پاسداران اور مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر نے اپنے بیانات میں امریکی پابندیوں کے مقابلے میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی حمایت کا اعلان کیا ہے-

سپاہ پاسداران نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر جواد ظریف کے خلاف امریکا کے غیر قانونی اقدام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے اسے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی امریکا کی کوشش قرار دیا-سپاہ پاسداران نے اعلان کیا ہے کہ امریکیوں نے ایک بار پھر اسلامی انقلاب کے الہام بخش اور سامراج مخالف نظریئے سے اپنی ناراضگی اور دشمنی کا اظہار کیا ہے-

ایران کی مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر نے بھی امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے اپنے گمان باطل میں اسلامی جمہوریہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے اور علاقے نیز دنیا میں اپنی پئے درپئے شکستوں کی تلافی کے لئے ایران کے وزیر خارجہ پر پابندی عائد کی ہے-

ایران کی مسلح افواج نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکا کے اس طرح کے موذیانہ اقدامات کا شکست کے علاوہ اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا، کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری اتحاد کے قیام کی امریکی کوششوں پر یورپ اور علاقے کے ملکوں کی مخالفت نے وائٹ ہاؤس کو سیخ پا کر دیا ہے۔امریکی وزارت خزانہ نے پابندیوں کے نشے میں چور جمعرات کی صبح اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف پر بھی پابندیاں عائد کر دیں-

دوسری جانب وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے اپنے خلاف امریکی حکومت کی پابندیوں کے اعلان کے بعد اپنے ٹویٹر پیج پر واشنگٹن کے حکام کو خطاب کرتے ہوئے لکھا کہ میں بہت خوش ہوں کہ امریکی حکام مجھے اپنے منصوبوں کی تکمیل کی راہ میں خطرہ سمجھتے ہیں-انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کا کوئی اثر نہیں ہو گا کیونکہ بیرون ملک میرے اور میرے گھر والوں کے کسی قسم کے اثاثے نہیں ہیں-وزیرخارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے پہلے بھی امریکی دھمکیوں کے جواب میں کہا تھا کہ میری پوری دولت اور اثاثہ صرف اور صرف ایران ہے-

یہ بھی دیکھیں

کانگو میں داعش دہشت گرد نے 15 افراد کو قتل کردیا

کنشاسا: کانگو ميں وہابی اور صہیونی دہشت گردوں سےمنسلک ملیشیا نے 15 افراد کو قتل …