جمعرات , 4 مارچ 2021

افغان عمل معاہدے کے تحت طالبان کے وعدوں کے جواب میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی ہوگی، رپورٹ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں جاری 18 سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مجوزہ افغان عمل معاہدے کے تحت طالبان کے وعدوں کے جواب میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں واضح کمی ہوگی۔خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے سے امریکی فوجیوں کی تعداد14 ہزار سے کم ہو کر 8ہزار تک ہوجائے گی۔

امریکی عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ طالبان جواب میں جنگ بندی اور القاعدہ سے لاتعلقی کا اعلان کریں گے کیونکہ وہ نائن الیون حملوں کا ذمہ دار تھی اور اس حملے کے نتیجے میں امریکا کو افغانستان میں مداخلت کرکے طالبان کی حکومت کو ختم کرنا پڑا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے خیال میں اب وہاں ان کی موجودگی 80 سے 90 فیصد ختم ہوگئی ہے لیکن آخری 10 یا20 کے خاتمے کے لیے بھی طویل عرصہ درکار ہے’۔

فوکس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے لیے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان الگ سے اییک امن معاہدہ ترتیب دینے کی ضروت ہوگی جس کے حوالے سے انہوں نے بات کرنے سے انکار کردیا تھا۔دوسری افغان حکومت کے ایک عہدیدار نے گزشتہ ہفتے یہ اشارہ دیا تھا کہ اشرف غنی کی حکومت طالبان کے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن اس حوالے سے تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ میں اخبار کے مضمون کے ساتھ ٹویٹ کیا تھا کہ ‘مجھے امید ہے کہ جو معاہدہ ہوگا وہ امریکا کے لیے اچھا ہوگا جو ہمارے وطن، ہمارے اتحادیوں اور ہمارے مفادات کا تحفظ کرے گا’۔واشنگٹن بارہا واضح کرچکا ہے کہ وہ یکم ستمبر سے قبل افغانستان کے حوالے سے معاہدے کو حتمی شکل دینا چاہتے ہیں لیکن کسی بھی معاہدے کے لیے طالبان کو کابل حکومت سے بات کرنا پڑے گی۔

خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان گزشہ برس شروع ہوئے امن مذاکرات کے اب تک کئی دور ہوچکے ہیں اور امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے گزشتہ روز بھی اپنے بیان میں دوحہ میں طالبان سے مذاکرات کے نئے دور کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی تکمیل کرپائیں گے۔

زلمے خلیل زاد گزشتہ ماہ افغانستان پہنچے تھے جہاں انہوں نے افغان صدر اشرف غنی کے علاوہ سول سوسائٹی، اپوزیشن رہنماؤں کے علاوہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔افغانستان کے بعد زلمے خلیل زاد پاکستان پہنچے تھے اور پاکستان میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …