جمعرات , 23 جنوری 2020

جیتنا جلد ممکن ہوسکے امریکی صدر کو کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنا ہوگا، مبصرین

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سفارتی مبصرین کے مطابق کشمیر میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان جلد از جلد اس معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کرنا ہوگا۔خیال رہے کہ 22 جولائی کو وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے 70 سال سے جاری مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ان سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔

دوسری جانب بھارت کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی صدر سے کردار ادا کرنے کی درخواست کبھی نہیں کی مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع طویل عرصے سے حل طلب ہے تاہم بھارت نے ان کی دوبارہ پیشکش بھی مسترد کردی۔ایک ساتھ 2 اہم پیش رفت کے ساتھ ساتھ واشنگٹن میں اس حوالے سے تھرڈ پارٹی کی مداخلت کی ضرورت شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔

واشنگٹن کے ووڈ رو ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیائی امور کے حکام مائیکل کوگل مین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان دیا کہ ‘آنے والے دن اور ہفتوں میں خطے میں امن کے لیے 2 اہم پیش رفت سامنے آسکتی ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ اہم پیش رفت میں ایک افغانستان امن کا قیام اور دوسرا جوہری قوت کی حامل قوموں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پہلی پیش رفت امریکا اور طالبان کے درمیان پاکستان کی سہولت کاری سے معاہدہ ہونا جس سے مستقبل میں افغان حکومت میں طالبان کے کردار کی شمولیت شامل ہے’۔

دیگر میں بھارت میں کشمیر کے لیے آرٹیکل 35 اے کا خاتمہ ہوسکتا ہے جس سے تنازع کا شکار علاقے کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ہوگا اور یہ بھارت کی دیگر عام ریاستوں کی طرح بن جائے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ ‘یہ نہایت سنجیدہ معاملہ ہے’۔

گزشتہ روز امریکی میڈیا میں بھی کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا گیا اور بتایا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھنے والی حالیہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی حکومت نے سیاحوں اور ہندو زائرین کو وادی سے نکلنے کے احکامات دیے ہیں جبکہ وہاں فوج میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ‘اس طرح کے اقدامات سے کشمیر میں خوف کی فضا قائم ہورہی ہے کہ نئی دہلی بھارتی آئین کی شق کو ختم کرنا چاہتا ہے جس کے تحت کشمیر سے تعلق نہ رکھنے والے بھارتیوں کو مسلمان اکثریتی علاقے میں زمین خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

نیو یارک ٹائمز نے بھی رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ حالیہ دنوں میں بھارت نے 10 ہزار فوجیوں کو کشمیر میں تعینات کیا ہے جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق مزید 25 ہزار فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

دیگر امریکی میڈیا میں بتایا گیا کہ متعدد حکومتوں نے سفری تجاویز جاری کردیے ہیں جن میں اپنے شہریوں کو فوری طور پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے نکلنے کا کہا گیا ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ رواں سال ہونے والے بھارتی انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیا جنتا پارٹی کے منشور میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بھارتی آئین کے تحت کشمیریوں کا خصوصی حق ان سے چھین لیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی تک دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا، ایرانی سپریم لیڈر

تہران: ایران کے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ …