جمعرات , 24 اکتوبر 2019

عالمی برادری کشمیر کے معاملے پر اپنی ذمہ داری ادا کریں;فواد چوہدری

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جب بھارت پاکستان سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتا تو دونوں ممالک اپنے سفرا کو واپس بلوالیں، اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان کا بچہ بچہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس کا مقابلہ کرے گا۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں درخواست کرتا ہوں کہ ہمارے بچوں کے خون پر سیاست کرنا بند کردیں۔

فواد چوہدری نے جذباتی انداز میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہمارا بچہ بچہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جب ہندوستان سے بات ہو ہی نہیں سکتی تو پھر ایک دوسرے کے سفرا کو رکھ کر اخراجات کیوں کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا میں ایوان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کشمیر کو فلسطین کو کشمیر نہیں بننے دینا چاہیے، آج بھارت بھی کشمیریوں کے ساتھ ایسا ہی کر رہا ہے جیسا فلسطین میں اسرائیل نے کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی برادری کشمیر کے معاملے پر اپنی ذمہ داری ادا کریں، کیونکہ اگر یہ جنگ ہوئی تو اس کی حدت پوری دنیا کے ممالک کے دارالحکومت محسوس کریں گے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں جنگ اور امن دونوں کے لیے تیار رہنا چاہیے، ہندوستان کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ ہم پہلے بھی کشمیر کے لیے کٹ مرے تھے اور کل بھی کٹ مریں گے۔وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ میں ایک گاؤں میں گیا جہاں ایک 23 سالہ نوجوان کو مارٹر لگا تھا، اس کی والدہ کے آنسو بہہ رہے تھے۔

اسرائیل نے جو فلسطین میں کیا وہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کر رہا ہے، شیریں مزاری
وزیر انسانی حقوق اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ‘بھارت نے خود تسلیم کیا تھا کہ کشمیر، پاکستان اور بھارت میں تنازع ہے، اب بھارت کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقدام مجرمانہ فعل بنتا ہے اور بھارت نے عالمی سطح پر جنگی جرم کیا ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘شملہ معاہدے میں واضح لکھا ہے کہ بھارت، کشمیر کی یکطرفہ حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا جبکہ بھارتی سپریم کورٹ نے 2016 میں ایک فیصلہ دیا تھا کہ کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے، بھارتی حکومت نے خود ہی اپنے آئین کی دھجیاں اڑائی ہیں، بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی دھجیاں اڑائی ہیں جس سے پاکستان کو فوری طور پر عالمی برادری کو آگاہ کرنا چاہیے۔’

ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ‘صدر سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریز کو بھی خط لکھا گیا ہے، انسانی حقوق کونسل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آزادانہ کمیشن بنائے، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے بھی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ اسرائیل نے جو فلسطین میں کیا وہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کر رہا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کیسے آئے گا جب بھارت جنگ کی تیاری کر رہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ اس نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر کلسٹر بم استعمال کر کے عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔’

مسئلہ کشمیر انتہائی سنجیدہ ہے، راجہ ظفرالحق
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مسئلہ کشمیر انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے، بھارت کے اقدام پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے آئینی ترامیم کے لیے پہلے تیاری مکمل کی اور پھر تسلی ہونے کے بعد یہ اقدام کیا۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوا کہ سارے معاملے کے لیے پاکستان تیار نہیں تھا، ہمیں پہلے ہی دیکھ لینا چاہیے تھا کہ اس کے کیا نتائج ہوں گے۔

اپوزیشن لیڈر سینیٹ کا کہنا تھا کہ ایک سیاست دان نے انٹرویو میں کہا تھا کہ کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم ہونا چاہیے اور بھارت نے بالکل اسی طرح اسے 3 حصوں میں تقسیم کردیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی اپنے فرائض پورے کرنے چاہیے تھے، مسئلہ کشمیر پر بنائی گئی کمیٹی زیادہ مؤثر کردار ادا نہیں کرسکے گی۔

امریکا کشمیر سے بھارت کو پیچھے دھکیلے، مولانا اسعد محمود
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا اسعد محمود نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے دورہ امریکا کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کی نوید سنائی لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایسا اقدام کیا جس کا ہمارے وزیراعظم کو بھی علم نہیں تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ بھارت اتنا بڑا اقدام اٹھائے اور پاکستان کو اس کا ادراک بھی نہ ہو۔

مولانا اسعد محمود کا کہنا تھا کہ امریکا افغانستان کو زیر نہیں کر سکا تو اس سے کمزور بھارت کشمیریوں کو کیسے زیر کر سکے گا؟ کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے لیے جنگ لڑتے رہیں گے اور پاکستان سفارتی سطح پر ان کی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو کشمیر سے پیچھے دھکیلے، کیونکہ عالم اقوام یہ جانتے ہیں بھارت نے مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس بلا کر حکومت اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، ہم نے اس حکومت کے رویے کے برداشت کیا، لیکن جیسے ہی قومی مفاد کی بات آئی تو ہم نے ان کا ساتھ دیا جس پر تمام اپوزیشن جماعتیں تعریف کی مستحق ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

بھارت اب گلگت بلتستان کا مطالبہ کرے گا، سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اجلاس بلانا اچھی بات ہے لیکن بہتر یہ ہوتا کہ حکومت اپنی تیاری کے ساتھ آتی۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ انہوں نے اب تک اجلاس میں جتنے رہنماؤں کو سنا ہے جنہوں نے یہی کہا کہ وزیراعظم قدم بڑھاؤ ہم تمھارے ساتھ ہیں لیکن قدم بڑھانا ہوگا۔

جماعت اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ کشمیر وہ بدقسمت حصہ ہے جسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1846 میں سکھ حکمران کو فروخت کیا تھا، لیکن یہ ایک ایسی عظیم قوم ہے جس کی جدوجہد کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔انہوں نے مزید کہا کہ چار ایٹمی قوتوں میں گھرے ہوئے کشمیری سہری اس صورتحال میں پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ کشمیر کا رقبہ دنیا کے 114 ممالک سے زیادہ جبکہ اس کی آباد دنیا کے 112 ممالک سے زیادہ ہے جو بھارت، پاکستان اور چین کے زیر انتظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کشمیری ہیں جو جشن یوم آزادی پاکستان جوش و خروش سے مناتے ہیں، یہ بھارتی غلامی کو رد کرتے ہیں، اپنی قبروں پر پاکستانی پرچم سجاتے ہیں اور ان کے بارے میں بین الاقوامی ادارے کہتے ہیں کہ یہ چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ ہم کشمیریوں کا صرف اس لیے ساتھ نہیں دینا کہ یہ خطہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرے، بلکہ ناحق مارے جانے والے مسلمانوں کی حفاظت کرنا سے متعلق قرآنی احکامات بھی ہیں۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا یہ منصوبہ آج کا نہیں ہے بلکہ اس کی تیاری پہلے سے جاری تھی کیونکہ بھارت کنٹرول لائن پر باڑ لگا کر دیوار برلن تیار کر رہی تھی اور ہمارے حکمران خاموش بیٹھے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات یہیں ختم نہیں ہوں گے بلکہ وہ بعد میں گلگت بلتستان کا مطالبہ کریں گے، اس نے پہلے ہی پاکستان میں آنے والے دریاؤں کا رخ ڈیم بنا کر تبدیل کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے لیے لڑنا پاکستان کے لیے لڑنا اور مرنا ہے کیونکہ بھارت کا اگلہ ہدف پاکستان ہی ہوگا۔

سراج الحق نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ اگر جنوبی سوڈان، یوگوسلاویا میں گوریلا جنگ کامیاب ہوئی، مشرقی تیمور کی تحریک کامیاب ہوئی اور ایک نیا ملک بنا تو کشمیر کا مسئلہ کیوں حل نہیں ہوا۔انہوں نے تجویز دی کہ مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان ایک بین الاقوامی کانفرنس بلوائے اور تمام اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل 120 وفود بنا کر دنیا میں بھیجے اور اس موقع سے فائدہ اٹھائے۔

سانحہ کشمیر بھی سانحہ مشرقی پاکستان جیسا ہے، آصف علی زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کشمیریوں کی قربانیوں کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی جنگ میں ہمیں شکست ہوئی لیکن میں اس کے محرکات میں نہیں جانا چاہتا۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ’سانحہ کشمیر بھی سانحہ مشرقی پاکستان جیسا ہی ہے، آج قائداعظم محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کو وہ کشمیری رہنما بھی مان رہے ہیں جو پہلے ان ہی لوگوں کے ساتھ تھے۔‘سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں تاریخ پر نظر رکھنی چاہیے، ہم جانتے ہیں کہ ان کی سوچ کیسی ہے۔آصف علی زرداری نے کہا کہ ’سندھ اور بنگال نے پاکستان بنایا آپ نے کچھ نہیں کیا، آپ کو نکالا گیا، آپ وہاں سے بھاگ کر آئے اور ہم نے پناہ دی اور آپ ہماری آنکھوں پر ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’دنیا آپ کی نہیں بلکہ کسی اور کی پوزیشن دیکھ کر آپ سے بات چیت کر رہی ہے ، کیونکہ انہیں افغانستان میں آپ کی نہیں بلکہ ان کی ضرورت ہے۔‘سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ مجھ پر ابو ظہبی اور چین جانے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں، میں نے کشمیریوں سے ملاقاتیں کی ہیں، میں ان کو جانتا ہوں وہ لوگ سیاسی طور پر زندہ ہیں۔‘

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا معاملہ اگر میرے دوری اقتدار میں ہوتا تو میری پہلی پرواز، ابوظہبی، پھر بیجنگ، پھر ماسکو اور پھر تہران جاتی جہاں میں ان کے صدرو کے ساتھ کھڑا ہوتا اور وہاں سے یکجہتی لیتے ہوئے پاکستان آتا۔آصف علی زرداری نے کہا کہ انہیں کشمیریوں پر فخر ہے جو اپنے شہیدوں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں، کسی کی مجال نہیں ہے کہ انہیں روک سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں کوئی ایسا گھرانہ نہیں ہے جہاں شہادت نہیں ہوئی ہو یا اس گھرانے کا کوئی نقصان نہ ہوا ہو۔آصف علی زرداری نے کہا ایک دن آئے گا جب تاریخ لکھے گی کہ میں نے ایسا کہا تھا اور یہ ہو کر ہی رہا۔

کشمیری اب چپ نہیں بیٹھے گا، شیخ رشید احمد
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ تاریخ میں ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جب سیاست دان غلط فیصلے کرتے ہیں اور علیحدہ راستے نکلتے ہیں، تاہم مودی نے جو فیصلہ کیا ہے اس سے کشمیروں میں مزید جوش پیدا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری اب چپ ہو کر نہیں بیٹھے گا اور وہ گھروں سے نکلے گا، آئندہ 6 ماہ کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ کشمیر نے سری نگر میں ترامیم کی کی جغرافیہ کی وجہ سے کیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب گلی گلی میں برہان وانی موجود ہے، جو لوگ سمجھتے تھے کہ کوئی راستہ نکل سکتا ہے لیکن اب اس فیصلے کے وجہ سے بند ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج شملہ معاہدہ ختم ہوگیا، آج کنٹرول لائن ختم ہوگئی، آج عبداللہ ایکارڈ ختم ہوگیا اب وہاں پر بھارتی ترانے بجیں گے۔وزیر ریلوے نے کہا کہ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ عرب دنیا کیا رد عمل دے گی؟ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے راستے ختم کردیے گئے ہیں، اب کشمیر میں جنگ ہوگی کیونکہ مودی نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ وہ مسلمانوں کو زیر عتاب لائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی نے کسی مسلمان سے ووٹ نہیں مانگا جبکہ اس نے اپنا ایک بھی مسلمان نمائندہ انتخابات میں کھڑا نہیں کیا جو اس کی مسلمان مخالف سوچ کی عکاس ہے۔شیخ رشید احمد نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت اب آزاد کشمیر پر حملہ کرنے والا ہے اور آئندہ 6 ماہ کے دوران کشمیر کا فیصلہ ہونے والا ہے۔

بھارت کے ساتھ پاکستان کی امن پالیسی ناکام ہوگئی، خواجہ آصف
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیں اپنے خطاب کے دوران تاریخ بتائی تاہم اس تاریخ کا مطلب ہوتا ہے اس سے سبق حاصل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنی امن پالیسی جاری رکھی لیکن ہو ناکام ہوگئی، پاکستان مقبوضہ کشمیر سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت سے رابطے کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن ان کی جانب سے کوئی رد عمل نہیں دیا گیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے امید لگائی تھی کہ نریندر مودی وزیراعظم منتخب ہوکر ہمیں کشمیر کا حل دے گا، تاہم اس نے جو حل دیا ہے وہ پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیریوں سے ان کے حقوق چھین لے گا اور اس معاملے میں یہ اکیلا نہیں ہے بلکہ اسے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بتا کر گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ معاشی طور پر کمزور ہوجاتے ہیں جو وہ تنہا ہوجاتے ہیں اور پاکستان کا ایسا ہو ہوتا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج کشمیریوں کو ایل او سی کے اس جانب دھکیلا جائے گا اور یہ وہی ڈرامہ ہورہا ہے جو اسرائیل نے فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ کیا اور انہیں اردن کی جانب دھکیل دیا۔لیگی رہنما نے کہا کہ میں انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن ملک کی سیاسی صفوں میں اتحاد نہیں ہے، تاہم کشمیر کا یہ معاملہ ہم سے تقاضا کر رہا ہے کہ ہم سفارتی سطح پر بالخصوص اسلامی دنیا میں اسے اٹھائیں۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حکومت حل ہی نہیں چاہتی ہے نہ ہی اس کی سمت میں کچھ کرنا چاہتی ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے، کشمیری وہاں نامساعد حالات میں ہیں، 1989 سے اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے میں پاکستان کی پالیسی ناکامی کا شکار ہوچکی ہے۔

لیگی ہنما کا کہنا تھا کہ اب یہ بات صرف قرارداد تک محدود نہیں رہنی چاہیے، اس مسئلے پر ہماری تقسیم جمع میں تبدیل ہوجانی چاہیے جس سے کشمیر میں ایک اچھا پیغام جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی و اخلاقی بدحالی ہے ایسے میں نہ آپ کشمیریوں کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا آپ کی مدد کرے گی۔

یہ بھی دیکھیں

آزادی مارچ : اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کیلئے سینئر ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل

اسلام آباد : اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف احتجاجی مارچ کے لیے وزیراعظم کی ہدایت …