جمعرات , 24 اکتوبر 2019

ایل این جی کیس:مفتاح اسمٰعیل قبل از گرفتاری مسترد ہونے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل ایل این جی کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری مسترد ہونے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار ہوگئے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں مفتاح اسماعیل کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت پر چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ‘سپریم کورٹ کے نیب قانون میں ضمانت پر احکامات موجود ہیں، آپ کو ہمیں مطمئن کرنا ہو گا کہ یہ انتہائی نوعیت کے حالات ہیں’۔انہوں نے نیب سے سوال کیا کہ ‘بتائیں مفتاح اسمٰعیل کے کیس میں ایسے کون سے انتہائی نوعیت کے حالات ہیں؟’۔

عدالت میں مفتاح اسمٰعیل کے وکیل حیدر وحید نے کہا کہ ‘تفتیش میں تعاون کے باوجود نیب مفتاح اسمٰعیل کو سیاسی وجوہات کی بناء پر گرفتار کرنا چاہتی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘قطر سے ایل این جی کی خریداری کی ابتدائی بات چیت پہلے سے ہو چکی تھی، ہم نے ایل این جی مہنگے داموں نہیں خریدی’۔

نیب استغاثہ سردار مظفر کا کہنا تھا کہ ‘ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دوگنا سے بھی مہنگے ریٹس پر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے قومی خزانے کو اب تک ایک ارب 54 کروڑ روپے نقصان ہو چکا’۔جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کیا کہ ایل این جی ٹرمینل کے کرائے کا بین الاقوامی معیار کیا ہے، جس پر نیب استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ‘اس وقت حکومت ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ ایک مخصوص کمپنی کو دینا چاہتی تھی’۔انہوں نے کہا کہ ‘سابق سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید نیب کے وعدہ معاف گواہ بن چکے اور انہوں نے اپنے بیان میں مفتاح اسمٰعیل کا کردار بتادیا ہے’۔

بعد ازاں انہوں نےعدالت میں عابد سعید کا بیان پڑھ کر سنایا۔عدالت میں ایل این جی کیس کے تفتیشی افسر بھی پیش ہوئے اور بتایا کہ ایل این جی کی قیمتوں کا مارکیٹ سے موازنہ کرایا ہی نہیں گیا تھا۔

مفتاح اسماعیل کے نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ‘نیب پہلے اسی عدالت میں بیان دے چکا ہے کہ مفتاح اسمٰعیل کی گرفتاری نہیں چاہیے، تب اور آج میں ایسا کیا نیا ہو گیا ہے؟ان کا کہنا تھا کہ ‘محض سیاسی حالات بدلے ہیں جس کی وجہ سے گرفتاری کا فیصلہ کیا گیا، سیاسی وجہ سے وارنٹ جاری کرنا بدنیتی ہے’۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ‘ایل این جی کی قیمت سے اگر نقصان ہو رہا ہے تو کیا اس کو بند کردیا جائے؟، کیا حکومت کی جانب سے کوئی بیان آیا کہ نقصان ہو رہا ہے تو ایل این جی کو بند کردیں؟’۔

جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کو پہلے بھی بین الاقوامی مقدمات میں نقصان ہو چکا ہے، اب جو حکومت ایل این جی کے معاہدے کر رہی ہے 5 سال بعد وہ بھی ملزم بنے ہوئے ہوں گے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ‘اس طرح تو وزیراعظم کی بجائے چیئرمین نیب کو ای میل کر کے معاہدوں کی منظوری لی جانی چاہیے’۔

عدالت نے سوال کیا کہ نقصان تو ہر دن ہو رہا ہے تو اس حکومت نے اس نقصان کو روکنے کے لئے کیا اقدامات کیے جس پر مفتاح اسمٰعیل کے وکیل نے بتایا کہ ‘حکومت نے اب ٹھیکہ اس سے بھی زیادہ رقم پر دے دیا ہے’۔بعد ازاں عدالت نے مفتاح اسماعیل کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی۔عدالت نے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر پاکستان اسٹیٹ آئل عمران الحق کی درخواست ضمانت بھی مسترد کی۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ‘سپریم کورٹ نے نیب کیسز میں ضمانت کا ایک معیار مقرر کر دیا ہے، نیب مقدمات میں صرف ہارڈ شپ کیسز میں ہی ضمانت مل سکتی ہے’۔نیب کی ٹیم نے مفتاح اسمٰعیل اور عمران الحق کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار کرکے روانہ ہوگئی۔

یہ بھی دیکھیں

مسئلہ کشمیراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے: ملائیشین وزیراعظم

کوالا لمپور: ملائیشیا کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے …