منگل , 22 اکتوبر 2019

برطانیہ کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش ہے؛برطانوی وزیر خارجہ

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے کہا ہے کہ برطانیہ کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش ہے ۔گزشتہ روزکشمیر کی صورتحال پر رد عمل دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ سے گفتگو میں اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے ۔برطانیہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔دریں اثنامقبوضہ کشمیر کی صورتحال ایران نے کہا کہ وہ بھارتی اقدام کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے ۔ترجمان ایرانی دفتر خارجہ عباس موسوی نے کہاکہ حالیہ صورتحال سے متعلق پاکستانی اور بھارتی حکام نے اپنا نقطہ نظر دیا ہے جس پر ایران غور کررہا ہے ۔ دونوں ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ علاقائی قوموں کی خوشحالی کیلئے پرامن طریقہ سے بات چیت کو آگے بڑھائیں۔

پاکستان اور بھارت دونوں ہمارے علاقائی شراکت دار اور دوست ممالک ہیں۔ پاکستان اور بھارت کو چاہئے کہ خوش اسلوبی کیساتھ تمام مسائل کا حل بات چیت سے تلاش کریں۔علاوہ ازیں یورپین پارلیمنٹ میں لبرل گروپ کے رکن فلپ مینیئن نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ میری یورپین پارلیمنٹ سے اپیل ہے کہ غیر قانونی اقدام پر بھارت کیخلاف فوری سخت ایکشن لے ۔میرے دوست شفقت محمد خان جن کا تعلق تحریک آزاد ی جموں و کشمیر سے ہے اور وہ برمنگھم کے سابق کونسلر رہے ہیں۔انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت ختم کر دی ہے ۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیرکی خود مختاری کو سلب کرکے عالمی قوانین کی خلاف کھلی ورزی کی ہے ۔ فلپ مینیئن نے کہا کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اقدام قابل قبول نہیں ۔ برطانیہ میں کشمیریوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جسے بھارتی اقدام پر انتہائی تشویش ہے ۔ میں اور میرے ساتھی یورپی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کی آواز اٹھائینگے ۔دریں اثنا کینیڈاکی تیسری بڑی سیاسی جماعت این ڈی پی نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ این ڈی پی کے امور خارجہ کے ناقد گوئے کیارون نے ایک بیان میں کہاکہ ہماری جماعت کو بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر میں حالیہ کارروائیوں سے سخت تکلیف ہوئی ہے ۔

نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے کشمیرکو خودمختاری دینے والی آئین کی دفعہ 370کی منسوخی، کشمیری سیاسی رہنمائوں کی گرفتاری، ہزاروں فورسز کی تعیناتی ، ٹیلیفون اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی اور پرامن اجتماعات پر پابندی کے اقدامات کئے ہیں جن سے خطے میں انسانی حقوق کی مزید پامالیوں کی راہ ہموار ہورہی ہے جبکہ کشمیری عوام پہلے ہی طاقت کے وحشیانہ استعمال ، گرفتاریوں ، منصفانہ عدالتی کارروائیوں کی عدم دستیابی اور مواصلاتی نظام کی معطلی جیسے حقوق کی پامالیوں کا سامنا کررہے ہیں۔کینیڈا کی حکومت کو بھارتی حکام سے بات کرنی چاہئے ۔

یہ بھی دیکھیں

ترک اور کرد کا ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام

انقرہ: شمالی شام میں 5 روزہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود فریقین کی جانب …