اتوار , 15 دسمبر 2019

پاکستان کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کےخلاف سلامتی کونسل جانے کا فیصلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کےخلاف سلامتی کونسل جانے کا فیصلہ کیا ہے۔اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 28 ممالک کو کشمیر کے حوالے سے تشویش سے آگاہ کردیا اور انہیں قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے اصرار کیا ہے کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے اور اس لیے ختم کیا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کی فلاح و بہبود کی جاسکے تو پاکستان کو اس پر اعتراض کیوں ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کا یہ تاثر درست نہیں ہے اور پاکستان اس موقف کو مسترد کرتا ہے مقبوضہ کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ متنازع علاقہ ہے، اس پر سلامتی کونسل کی بہت سی قراردادیں موجود ہیں جنہیں بنیاد بنا کر ہم نے دوبارہ سلامتی کونسل جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت تاثر دے رہا ہے کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ ان کا اندرونی معاملہ ہے جو کہ تاریخی، قانونی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہے اور پاکستان اسے مسترد کرتا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کا کہنا ہے کہ انہوں نے کشمیریوں کی فلاح و بہبود کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی ہم منصب جے شنکر سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا 70 سال پہلے اور جب سے یہ آرٹیکل 370 ان کے آئین میں شامل کی گئی تھی کیا اس وقت فلاح و بہبود کے کاموں میں قدغن تھی، کوئی پابندی یا ممانعت تھی جو اس ممانعت کو ختم کرنے کے لیے آئین میں یہ ترمیم کرنی پڑی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک کروڑ 40 لاکھ کشمیریوں کو حراست میں لے کر پورے مقبوضہ کشمیر کو ایک جیل کی شکل دے کر سماجی و اقتصادی بہبود کا یہ پہلا قدم بھارت نے اٹھایا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خونریزی کا خدشہ ہے اس وقت یہ صورتحال ہے کہ 9 لاکھ بھارتی فوجی کشمیر میں تعینات ہیں یعنی ہر گھر کے باہر ایک سپاہی تعینات ہے کیا یہ بھی اس فلاح و بہبود کا اقدام ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کہتا ہے کہ یہ اندرونی معاملہ ہے لیکن بھارت کے سابق وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے بھی کہا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ اس کےعوام کی خواہش کے مطابق ہوگا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی سے اس مسئلے پر بات چیت ہوئی انہوں نے کہا کہ ہمیں تشویش ہے اور چاہتے ہیں کہ کشمیر میں کشیدگی میں نہ بڑھے جس پر میں نے کہا آپ دیکھیں کہ یہ کشیدگی کس وجہ سے بڑھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فیڈریکا موگرینی نے مزید کہا کہ یورپی یونین کی خواہش ہے یہ مسئلہ مذاکرات اور سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کیا جائے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے کب مذاکرات سے انکار کیا ہے، ڈائیلاگ سے کون کترا رہا ہے پاکستان یا بھارت، جب بھی ڈیڈلاک آیا ہے ہم نے اسے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو پاکستان کی طرف سے اجازت ہے، بھارت سے پوچھ لیں کیا وہ تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ جب صدر ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی تھی تو پاکستان نے اس کا خیر مقدم کیا تھا مسترد کس نے کیا یہ چیز قابلِ غور ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک افواہ اڑائی گئی بھارت کا فیصلہ امریکا کی مشاورت سے ہوا اور اس کے علم تھا، جب وزیراعظم پاکستان، ٹرمپ سے ملے اور ثالثی کی پیشکش کی تو وہ اس سب سے آگاہ تھے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم نے امریکا سے اس معاملے کو اٹھایا کہ یہ تاثر دیا جارہا ہے اور کچھ اپوزیشن اراکین نے غلط فہمی سے اسے بڑھانے کی کوشش کی تو ہمیں وضاحت چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایلس ویلز کا واضح بیان آچکا ہے کہ نہ ہمارے علم میں تھا اور نہ ہی بھارت نے ہم سے کوئی مشاورت کی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکی سینیٹ کے سینئر ترین رکن لِنڈ سے گراہم نے اپنی ٹوئٹ میں اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ فضائی حدود کی بندش سے متعلق نشر کی جانے والی خبریں جھوٹی ہیں، پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود بند نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہیں، ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں پاکستان نے ازخود یہ اقدام اٹھایا تھا اور وہ طبقہ جو بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن پر آنا چاہتا ہے انہیں اپنی حکومت سے وضاحت طلب کرنی چاہیے کہ وہ ان کے کیا ارادے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان آج بھی ان کے استقبال کے لیے تیار ہے کیونکہ ہم اپنے عزم پر قائم ہیں بھارت سے پوچھیں کہ کیا انہوں نے عوام کے دباؤ میں اور سکھ برادری کی رائے پر کرتارپور راہداری کا فیصلہ کیا تھا یا ان کی دلی خواہش تھی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر بھارت کی دلی خواہش تھی تو کیا وہ اسے جاری رکھنے یا اس پر نظرثانی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

لیبی فوج نے مصراتہ میں ترکی کا اسلحہ گودام تباہ کردیا

لیبیا کی قومی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے …