جمعہ , 6 دسمبر 2019

کوئی ہم سے بھی پوچھے گا ۔۔۔؟

کہنے کو تو بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے لیکن
سچائی بالکل بھی اس ’’کہنے ‘‘کے مطابق نہیں
جب سے سخت گیر اورکٹر ہندو نظریات پر مشتمل بھارتیہ جنتا پارٹی کے مودی نے حکومت سنبھالی ہے تب سے لگتا ہے کہ جیسے شدت پسند ہندوں کو ایک کھلی چھوٹ ملی ہے ۔گائے کے محافظ جب جہاں چاہیں کسی کو بھی پکڑ کر مار پیٹ کرسکتے ہیں یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہوجائے ۔کوئی بھی ہندو کسی بھی غیر ہندو سے جب چاہے گائے کی توہین یا پھر بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ نہ لگانے کا الزام لگاکر کچھ بھی کرسکتا ہے ۔لیکن یہ ساری باتیں ایک جانب بی جے پی کی متعصب حکومت کا کشمیر کے بارے میں یکطرفہ اقدام سے نہ صرف دنیا حیرت زدہ ہے بلکہ خود بھارت کے اندر بھی دانشور طبقے سے لیکر سیاستدان اور عوامی حلقوں تک میں حیرت اور تشویش ہے ۔

مقبوضہ کشمیر کو نیم خود مختاری دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی کشمیر میں نہ صرف کرفیو لگایا گیا بلکہ حریت پسند رہنماوں سے لیکر خود اپنے ہی حمایت یافتہ کٹ پتھلی رہنماوںتک کو نظر بند یا قید کیا گیا ہے ۔

صورتحال ایسی ہے کہ ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی کے اس علاقے میں اس وقت سڑکیں سنسان پڑی ہیں اور یوں لگتا ہے کہ جیسے زندگی تھم سی گئی ہے ۔اس تمام تر صورتحال کے باوجود کشمیری حریت پسند کہیں نہ کہیں اپنا احتجاج جاری رکھنے کی کوشش میں ہیں اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق درجن بھر کے قریب بے گناہ کشمیری شہید ہوچکے ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ آخر یہ آرٹیکل 370ہے کیا اور اس کے خاتمے سے بھارت کیا حاصل کرنا چاہتا ہے ،بنیادی طور پر بر صغیر میں ہندومسلم ریاستی تقسیم کے اعتبار سے کشمیر جوکہ مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کی حثیت میں پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا لیکن چونکہ جواہر لال نہرو جیسے ہندو سرگرم سیاسی رہنما اور اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم کے سبب ایسا ممکن نہ ہوسکا واضح رہے کہ نہرو کا تعلق کشمیر سے تھا ۔

نہرو نے کشمیر پر قبضے کے لئے بہانہ بنالیا کہ وہ یہاں ریفرنڈم کرنا چاہیں گے تاکہ کشمیر کی عوام فیصلہ کرے اور آج تک وہ ریفرنڈم نہ ہوسکا ۔مسئلے کے تنازعہ کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ سے رجوع کرلیا اور اقوام متحدہ کی سولہ سے زائد قراردادوں میں یہ کہا گیا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کا حق ہے اور اس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ وہاں ریفرنڈم کیا جائے ۔

بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے لئے نہ صرف اس ریفرنڈم سے فرار اختیار کی ہوئی ہے بلکہ اپنے ہی آئین میں ایسی شکیں شامل کیں کہ جس کا مقصد دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا ۔آرٹیکل 370اسی دھول کا نام ہے ،یہ آرٹیکل کشمیر کو ایک الگ شناخت دیتا ہے اور وہاں کے اپنا ایک آئین اسمبلی وغیرہ تشکیل پاتی ہے اور یوں کشمیر میں ایک کٹ پتلی حکومت کے زریعے اپنا کنٹرول رکھا جاتا ہے ۔

اب صورتحال یہ ہے کہ آج سترسال کے بعد بھارت نے اپنے ہی اسی من گھڑت آرٹیکل کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔اس کے باوجود یہ آرٹیکل کم ازکم کشمیر کی ایک الگ شناخت کو ضرور بیان کرتا تھا جس کے خاتمے کے بعد اب بھارت ڈیموگرفیکل تبدیلی شروع کرے گا ۔اب بھارت کا کوئی بھی شہری کشمیر میں رہ سکتا ہے پراپرٹی خریدسکتا ہے کشمیر اب دھلی اور پنجاب کی طرح کی ایک ریاست سمجھی جائے گی ۔

واضح رہے کہ ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ اقدام خود اس کے موقف کو کمزور کررہا ہے جو کشمیر کے حوالے سے اس نے اپنایا ہوا تھا ۔سچ پوچھیں تو بھارت نے ایک خطرناک کھیل کھیلنے کی کوشش کی ہے اور کشمیر کے ایشو کو ایک طرح سے نئی جہت دی ہے لیکن اس کے لئے اہم ترین چیز خود

کشمیریوں کی جانب سے مزید جدوجہد کے ساتھ ساتھ عالمی و علاقائی سطح پر ایک زبردست قسم کی ڈیپلومیسی کی اشد ضرورت ہے ۔کشمیر یوں کے لئے اس چلینج کو موقعہ میں بدلنے کا زبردست وقت ہے لہذا دنیا بھر میں اپنی مظلومیت کی آواز کو اٹھانے کا یہ موقع ہاتھ سے گنوانا کسی بھی لہذا سے درست نہیں ہوگا ۔

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اسمبلی میں کی گئی دانشورانہ تقریر کے بعد امید تو یہی کی جارہی ہے کہ پاکستان سفارتی اور ڈیپلومیٹک سطح پر اس مسئلے کو اٹھانے میں انتھک کوشش کرے گا لیکن صرف حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کافی نہیں ہونگے بلکہ دنیا بھر میں کشمیری انسانوں کے حقوق کے لئے عوامی سطح پر آواز اٹھانے کی اشد ضرورت ہے ۔

واضح رہے کہ اگر اس موقعے کو گنوادیا گیا تو پھر بھارت اس انتہائی اہم انسانی جمہوری ایشو کو نارملائز کرنے کی سر توڑ کوشش کرے گا جس کی ایک مثال اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کا ہونے والادورہ بھارت ہے ۔کشمیری عوام کہتے ہیں کہ ہماری تقدیر کے فیصلے ہوئے وہ بھی ہم سے پوچھے بغیر کیا کوئی ہے جو ہم سے بھی پوچھے گا کہ ہم کیا چاہتے ہیں ۔۔۔؟بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

نیٹو کے 70 سال اور درپیش چیلنجز

تحریر: سید رحیم نعمتی تقریبا ایک ماہ پہلے فرانس کے صدر ایمونوئل میکرون نے میگزین …