پیر , 9 دسمبر 2019

مقبوضہ کشمیر۔ کیا پاکستان بے بس ہے؟

(عارف نظامی)

بھارت جو انتہائی ڈھٹائی سے یہ کہتا رہا ہے کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے، اب نریند رمودی کی قیادت میں انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جتنا پارٹی نے اپنے انتخابی وعدے پر عمل کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے تحت کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی مقام حاصل تھا اور آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا تھا۔ اب تک تو بھارت کا اصرار رہا ہے کہ کشمیر پر پاکستان سے مناسب وقت پر دوطرفہ بات کریں گے لیکن عملی طور پر بھارت نے کبھی پاکستان کے لیے اس اہم ترین مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ بات چیت نہیں کی۔

وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ کے موقع پر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی، ان کے مطابق نریندرمودی نے اوسا کا میں حالیہ جی 20 سربر اہی اجلاس کے دوران درخواست کی تھی کہ کشمیر پر پاکستان سے بات چیت کرا دیں۔ بعدازاں ٹرمپ نے اپنے پہلے بیان میں تھوڑی ترمیم کرتے ہوئے کہا مودی اور عمران خان پوری طرح بات چیت کرنے کے اہل ہیں اور امریکہ ان کی مددکر سکتا ہے۔ لیکن مودی نے تو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے جس کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد بھارتی صدر نے توثیق بھی کردی ہے ٹرمپ کی پیشکش کا جواب دے دیا ہے۔

بعض بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فوری فیصلہ کر کے ٹرمپ کی ’پیشکش ”کا دانستہ جواب دیا ہے۔ اب نہ رہے بانس نہ بجے گی بانسری کے مصداق بھارت یہ کہے گا کہ کشمیر تو کسی دوسرے بھارتی صوبے کی طرح ہی اس کا حصہ ہے، اس پر بات چیت کیونکر ممکن ہو سکتی ہے یہ تو بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ آرٹیکل 370 کے تحت ریا ست جموں وکشمیر کو ایک خصوصی مقام حاصل تھا اور کوئی بھارتی شہری وہاں جائیداد نہیں خرید سکتا تھا۔

لیکن اب کشمیری مسلمانوں کوبجا طور پر یہ خدشہ ہے کہ وہاں بھارتی ہندو جوق درجوق جا ئیدادیں خریدیں گے اور کشمیر میں مسلمانوں کی واضح اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی مذموم کوشش کی جائے گی۔ مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اپنے یار اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کی تقلید کی ہے، جس طرح نتن یاہوفلسطینیوں کے علاقوں بالخصوص مغربی کنارے اور غزہ میں یہودیوں کی خصوصی آبادیاں بنا رہا ہے، خدشہ ہے کہ یہی عمل مقبوضہ کشمیر میں دہرایا جائے گا۔

جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا قدم کسی ریفرنڈم کے تحت ہوتا تو ظاہر ہے کہ جمہوری طریقے سے رائے شماری میں بھارت کو عبرتناک شکست ہوتی لہٰذا کشمیریوں کی اکثریت بھارتی فوج کی سنگینوں تلے ظلم وستم کا بازار گرم کر کے ختم کی جارہی ہے۔ اگر وہاں کے عوام بھارت کے ساتھ ہوتے تو وہاں پہلے ہی چھ لاکھ سے زائد فوج موجود ہے، اسے مزید کمک نہ بھیجنا پڑتی۔ پاکستانی سرحد پر بھی بھارتی فوج کی بڑی تعداد متعین ہے، بھارتی فوج نے تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ تمام فوجی و فضائی اڈوں پر ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

یہ تو واضح ہے کہ کشمیری عوام بھارت کی اس ڈھٹائی اور بربریت کی خلاف پہلے ہی علم بغاوت بلند کیے ہوئے ہیں لیکن اب مزاحمت کی تحریک مزید زور پکڑ جائے گی۔ حریت کا نفرنس کی لیڈر شپ تو پہلے ہی گرفتار ہے لیکن پیش بندی کے طورپر عمر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے نئی دہلی کے حامی سیاستدانوں کوبھی نظر بند کرد یا گیا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی بھارتی حکومت کومتنبہ کر رہے تھے کہ وہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کاقد م نہ اٹھائیں۔

اس امرکے باوجود کہ بھارت کا یہ اقدام اچانک نہیں ہے، کچھ عرصے سے اس خدشہ کا برملا طور پر اظہار کیا جا رہا تھا کہ کشمیریوں کے حقوق پرشب خون مارنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ پورے مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ جلسے جلوسوں پر پابندی اور سرینگر میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو نافذ ہے، موبائل، انٹرنیٹ سروس اور ٹی وی نشریات معطل ہیں۔ اتوار کو وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اعلیٰ فوجی قیادت بھی شریک تھی۔

کمیٹی کے ایک اعلامیہ میں بھارت کی فوج کشی اور دیگر کارروائیوں کو افغان امن مذاکرات کو خراب کرنے کی بھارتی کوشش قراردیا گیا اور بجا طور پر اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ بھارت کسی جعلی فوجی آپریشن کے ذریعے پرخطر کارروائی کرسکتا ہے جس سے ایٹمی طاقت کے حامل دونوں ملکوں میں جنگ کی آگ بھی بھڑک سکتی ہے لیکن معاملہ افغان مذاکرات خراب کرنے سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ بھارت کے اس یک طرفہ اور بہیمانہ عمل کے خلاف کشمیر پردو طرفہ مذاکرات کی توقع رکھنا عبث ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں کجا اب تو شملہ معاہدے کے تحت بھی کشمیر پر بات چیت نہیں ہو گی کیونکہ بھارت کے مطابق اب وہ متنازعہ علاقہ نہیں بلکہ دیگر صوبوں کی طرح ہے اس کا ایک بین ثبوت یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا الگ جھنڈا بھی ختم کردیا گیا۔ بعض تجزیہ کاریہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔ تجویز تو اچھی ہے لیکن اگر بغیر تیاری اور لابنگ کے ایسا کیا گیا تو وہاں کوئی بھی مذمتی قرارداد ویٹو ہوسکتی ہے اور یہ ویٹو روس کے علاوہ امریکہ کی طرف سے بھی آسکتی ہے لہٰذا اس ضمن میں ہوم ورک کرنا ضروری ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب محترمہ ملیحہ لودھی کو صلاح مشورے کے لیے کلیدی رول ادا کرنا چاہیے بلکہ معاملہ محض محترمہ پر چھوڑنے کے بجائے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی فعال ہونا چاہیے تھا۔ اس وقت پاکستان کے دوستوں اور سکیورٹی کونسل کے ارکان سے براہ راست لابنگ کرنا پڑے گی۔ کشمیر کے حوالے سے ہماری توجہ کچھ بٹی رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی جو منجھے ہوئے سیاستدان ہونے کے علاوہ خارجہ امور کی حکمت عملی کو بھی سمجھتے ہیں لیکن ان کا ایک پاؤں خارجہ امور اور دوسر املکی معاملات میں فعال رہنے کی کوششوں میں ہوتا ہے۔

شاہ محمود قریشی تو فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ عمران حکومت کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہی نہیں تھا۔ کامیاب امریکی دورے پر مبارک سلامت کے ڈونگرے برسائے جا رہے تھے۔ بصورت دیگر شاہ محمود قریشی فریضہ حج اگلے برس کے لئے مؤخر کر دیتے اور اقوام متحدہ میں ہماری مستقل مندوب ہالیڈے پر اٹلی نہ جاتیں۔ افغانستان میں قیام امن اور اس ضمن میں مذاکرات کرانے میں پاکستان کا ایک کلیدی کردار ہے لیکن کشمیر تو پاکستان کی شہ رگ ہے۔

یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ جیسا کہ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ کشمیر تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے اور پاکستان کا‘ ک ’کشمیر پاکستان کا حصہ ہونے کا غماز ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے پاس آپشن محدود ہیں۔ اسلامی کانفرنس تنظیم کے ارکان کومسئلہ کشمیر سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ محض اشک شوئی کے لیے کوئی بیان یا قرارداد پیش کردیتے ہیں لیکن وہ بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ تو صاف کہتے ہیں کہ ہم نے یہ پاکستان کو خوش کرنے کے لیے دیا ہے۔

ما سوائے ترکی کے شاید وہ ہمارا اس معاملے میں ساتھ دے۔ جہاں تک برادر دوست چین کا تعلق ہے وہ بھی اپنی بعض مصلحتوں کی وجہ سے پاکستان کا اس مسئلے پر بھرپور ساتھ نہیں دے پا تا۔ دوسری طرف بھارت نے بڑی عیاری سے مغربی دنیا کو قائل کرلیا ہے کہ سب دہشت گردی پاکستان کی طرف سے ہوتی ہے اور اس حوالے سے ایف اے ٹی ایف کے طرف سے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی تلوار ہمارے سر پر لٹک رہی ہے۔ ہمیں اس وقت اپنی کمز ور اقتصادی صورتحال کی بنا پر امریکہ کی آشیر باد کی ضرورت ہے۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟ سید جواد حسین رضوی بانی پاکستان قائد اعظم …