پیر , 9 دسمبر 2019

طبل جنگ!!!

(تحریر: عرفان احمد میاں)

مسئلہ کشمیر کیا ہے؟ آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35A کیا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر وہ الحاق کیا ہے، جو کشمیر کے راجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ کیا، جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہوئی اور آج قابض بن چکی ہے۔ 14/15 اگست 1947ء جب انڈیا اور پاکستان وجود میں آئے، اس وقت کشمیر ایک خود مختار شاہی ریاست تھی اور کشمیر کے پاس انڈیا یا پاکستان میں سے کسی ایک ملک کے ساتھ الحاق کرنے کا آپشن موجود تھا۔ کشمیر میں اکثریت مسلمان تھی جبکہ وہاں کا حکمران ہندوں راجہ ہری سنگھ تھا۔ پاکستان اپنی طرف سے پورا زور لگا رہا تھا کہ کشمیر خود کو پاکستان میں ضم کر دے یا کم سے کم پاکستان کے ساتھ الحاق کرے۔ دوسری طرف بھارت اپنی جگہ انہی کوششوں میں سرگرم تھا، جبکہ کشمیری عوام جن کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی، وہ پاکستان کے ساتھ نہ سہی لیکن بھارت کے ساتھ الحاق پر بالکل بھی تیار نہیں تھی.

کہانی تب مشکوک ہوئی، جب کشمیری عوام نے راجہ ہری سنگھ کا جھکاو بھارت کی طرف جھکتا ہوا دیکھا اور کشمیری مسلم اکثریت میں بغاوت نے سر اٹھا لیا۔ مسلمان اکثریت نے راجہ ہری سنگھ کے سامنے اپنے مطالبات رکھتے ہوئے کہا کہ چونکہ ہندوستان کا بٹوارا مذہب اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہوا ہے تو اگر الحاق ہی کرنا ہے تو پاکستان سے کرو، کیونکہ کشمیر میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ راجہ ہری سنگھ چونکہ ہندو تھا، اس لیے وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کے سخت خلاف تھا، لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے اپنا اقتدار بھی عزیز تھا، اس لیے اسے وہی ملک عزیز تھا، جو اس کے اقتدار کی تاحیات ضمانت دیتا اور ایسی صورتحال میں ایک ہندو کے لیے ہندو ہی بہتر انتخاب تھا۔

قبائلی حملہ
22 اکتوبر 1947ء راجہ ہری سنگھ کا جھکاو بھارت کی طرف دیکھ کر کشمیری مسلم اکثریت نے قبائلی جنگجووں کو اپنا دکھڑا سنایا اور مدد کی اپیل کی، جس کے نتیجے میں 20 ہزار سے زائد قبائلی جنگجوں کشمیر میں داخل ہوگئے۔ چونکہ کشمیری مسلم اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق پر راضی تھی، وہ راجہ ہری سنگھ کو پاکستان کے ساتھ الحاق پر کسی بھی طرح راضی کرنا چاہتے تھے، اس لیے اس کار خیر میں پاکستانی حکومت نے بھی یقیناً اپنا حصہ ضرور ڈالا ہوگا اور یہی راجہ ہری سنگھ کے بھارت سے الحاق کی وجہ بنی۔ ادھر قبائلی جنگجو کشمیر میں داخل ہوئے ادھر راجہ ہری سنگھ اقتدار سے ہاتھ دھونے کے ڈر سے مدد کے لیے بھارت چلا گیا۔ بھارت نے مدد کے بدلے الحاق کی شرط رکھ دی، جسے راجہ ہری سنگھ نے فوراً قبول کر لیا، لیکن راجہ ہری سنگھ حاضر دماغ تھا، اس نے الحاق ایسا کیا کہ انڈیا کے ہاتھ بھی کچھ نہ آیا۔

الحاق
راجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ جس الحاق پر دستخط کیے تھے، اس کی تمام 6 شقیں ملاحظہ فرمائیں۔
1۔ بھارت کا ریاست کشمیر میں اختیار اس دستاویز میں درج شقوں کے مطابق ہوگا۔
2۔ بھارتی پارلیمنٹ کو کشمیر میں صرف ان معاملات میں قانون سازی کا اختیار ہوگا جو 1935ء ایکٹ کے شیڈول میں درج ہیں۔
3۔ 1935ء ایکٹ میں یا بھارت آزادی ایکٹ 1947ء میں کسی ترمیم کے ذریعے اس الحاق میں درج شرائط میں ردوبدل نہیں کرسکتا۔
4۔ بھارتی پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی، جس کے ذریعے جموں و کشمیر میں جبراً زمین کا حصول کیا جائے اور اگر بھارت کو اپنے کام کے لیے زمین کی ضرورت پڑی تو وہ زمین ریاست کشمیر ان کو حاصل کرکے دے گی، ان شرائط پر جو باہمی طور پر طے پائی جائیں گی۔
5۔ اس معاہدے کی کوئی شق مجھے اس کا پابند نہیں کرتی کہ میں بھارت کے آئندہ بننے والے آئین کو منظور کروں اور نہ ہی مستقبل کے آئین کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے میرے اختیار پر کوئی پاپندی عائد ہوتی ہے۔
6۔ اس معاہدے میں کوئی بات ایسی نہیں ہے، جو اس ریاست میں اور اس کے اوپر میری خود مختاری کو متاثر کرے، سوائے اس کے جیسا کہ اس دستاویز میں بیان کر دیا گیا ہے، ریاست کشمیر پر میرے اختیار، اقتدار اور استحقاق جو مجھے بحیثیت حکمرانِ ریاست حاصل ہیں، کم نہیں ہونگے، نہ ہی ان قوانین کی تنقیذ جو اس وقت نافذ العمل ہیں۔

یہ ہے وہ مضبوط الحاق جو راجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ کیا، جس کے نتیجے میں بھارت نے کشمیر میں اپنی فوج داخل کی اور پاک بھارت پہلی جنگ کا آغاز ہوگیا۔جنگ کی صورتحال خطرناک حد میں داخل ہوچکی تھی، پھر اقوام متحدہ نے جنگ بندی کروائی، تب تک پاکستان نے کشمیر کا 38% حصہ فتح کر لیا تھا، جو آج الحمداللہ پاکستان کے پاس ہے۔ اندازہ کریں کہ پاکستان نے اس وقت اپنے سے 2 برابر ملک بھارت سے جنگ لڑ کر کشمیر کا 38% حصہ اپنے نام کیا، جب پاکستان کی عمر صرف 2 مہینے 10 دن تھی۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ بھارت راجہ ہری سنگھ کے ساتھ کیے ہوئے اس تمام الحاق کی دھجیاں اڑا کر وہاں پر قابض ہوچکا ہے۔

آرٹیکل 370
آرٹیکل 370 کو سمجھنے کے لیے اب ہمیں 1949ء میں جانا پڑے گا۔ 1949ء بھارت کے کشمیر کے ساتھ الحاق کے بعد جب بھارتی آئین بنایا جا رہا تھا، تب کشمیر کی حیثیت کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ بھارت نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ کشمیر کی حیثیت کو آئین کے اس حصے میں ڈال دیا جائے، جو عارضی، انتقال اور خصوصی معاملات سے متعلق ہے۔ اس کے لئے بھارتی آئین میں ایک نیا آرٹیکل شامل کیا گیا جس کا نمبر 370 ہے۔
1۔ اس آرٹیکل 370 کے مطابق بھارت کے آئین میں جو کچھ بھی لکھا ہو، ریاست کشمیر کے ضمن میں پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حق صرف ان معاملات تک محدود ہے، جو کشمیری حکومت کے مشورے سے صدر جمہوریہ طے کریں گے۔
2۔ جو دستاویز الحاق سے مطابقت رکھتے ہیں، ان کا تعین بھی صدر ہی کریں گے اور بھارتی آئین کے کون سے حصے کشمیر میں لاگو ہوں گے، اس کا تعین بھی صدر ہی کریں، لیکں بشرطیہ کہ کشمیری حکومت کی اس سے منظوری ہونے کے بعد۔
3۔ اس آرٹیکل میں صدر کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اس آرٹیکل کو جب چاہے ختم کر دیں، لیکن صدر یہ اختیار صرف اس صورت میں استعمال کرے گا، جب کشمیری حکومت اس کو منظور کر لے گی۔۔ یہ تھا آرٹیکل 370 جو تفصیل سے آپ کی گوش گزار کیا گیا۔

آرٹیکل 35A
اب آرٹیکل 35A کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے آپ کو 1953ء میں جانا پڑے گا۔ 1953ء میں اُس وقت کے خود مختار حکمران شیخ محمد عبداللہ کی غیر آئینی معزولی کے بعد بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعے آئین میں دفعہ 35A کو بھی شامل کیا گیا، جس کی مطابق بھارتی وفاق میں کشمیر کو واضح طور پر ایک علیحدہ ریاست کی حیثیت دی گئی۔ آرٹیکل 35A آرٹیکل 370 کی ہی ایک مضبوط اور مکمل قانونی شکل ہے۔ فرق بس یہ ہے 1949ء میں بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کو عارضی، انتقال اور خصوصی معاملات کے طور پر آئین میں شامل کیا گیا، جبکہ 1953ء میں آرٹیکل 35A کو مکمل قانونی حیثیت دے کر بھارتی آئین میں شامل کر لیا گیا تھا۔

آرٹیکل 35A کے مطابق
1۔ کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری ہوسکتا ہے، اگر وہ وہاں پیدا ہوا ہو۔
2۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں کشمیر میں زمین جائیداد نہیں خرید سکتا۔
3۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شخص کشمیر میں سرکاری نوکری نہیں حاصل کرسکتا۔
4۔ کوئی بھی دوسری ریاست کا شخص جموں کشمیر میں ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتا۔
آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر کے لوگوں کو مستقل شہریت کی ضمانت دیتا ہے اور راجہ ہری سنگھ کے بھارت کے ساتھ ہونے والا الحاق بھی چیخ چیخ کر یہی کہ رہا ہے۔

بھارتی پارلمنٹ نے آرٹیکل 35A کو ختم کرکے نہ صرف اس الحاق کی خلاف ورزی کی، جو راجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ کیا بلکہ بھارتی سابقہ حکومت کے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون آرٹیکل 370 کی بھی نفی کر دی۔ آرٹیکل 370 ہو یا آرٹیکل 35A یہ دونوں آرٹیکل ایک دوسرے کے بغیر کچھ نہیں، کسی بھی ایک آرٹیکل کو ختم کر دیا جائے، دوسرا آرٹیکل اپنی موت خود مرجائے گا اور ایسا ہوچکا ہے۔ آپ نے کشمیر کے ماضی اور حال کو تفصیل سے جان لیا اور اب کشمیر کے مستقبل پر روشنی ڈالتے ہیں۔ آرٹیکل 35A کو ختم کرکے بھارت نے اپنے مزموم مقاصد عالمی دنیا کو بتا دیئے ہیں، بھارت پوری طرح دنیا کے سامنے ایکسپوز ہوچکا ہے، جبکہ کشمیری عوام اور حکمرانوں کا کہنا ہے کہ بھارت کے اس عمل کی ان کے نزدیک کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

کشمیر کا مستقبل
بھارت فلسطین کی کہانی کشمیر میں بھی دہرانا چاہتا ہے، بھارت کا مقصد یہ ہے کہ آرٹیکل 35A یا آرٹیکل 370 کو ختم کرکے بھارتیوں کو وہاں پر پراپرٹی خریدنے کی اجازت دے دی جائے، پھر وہاں پر انڈیا کے لوگوں کو سرکاری جاب آفر کی جائیں اور شہریت دے کر ووٹ کا حق بھی دیا جائے۔ آسان زبان میں کشمیر میں ہندو آبادی میں اضافہ کیا جائے، کیونکہ انڈیا تب تک کشمیر حاصل نہیں کرسکتا، جب تک ریفرنڈم کروا کر وہاں کی عوامی رائے میں بھارتی اکثریت حاصل نہیں کر لیتا اور آرٹیکل 35A میں ترمیم ایک طرح کا طبل جنگ ہے، جو بھارت نے بجا دیا ہے، اب اگر عالمی طاقتیں اس پر خاموش تماشائی بنی رہی تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ بھارت نے یہ کام امریکہ و اسرائیل کے زیر سایہ ہی کیا ہے۔ پاکستان کو اس پر زبردست اقدامات اٹھانے چاہیئں اور ایک جامع اور جارحانہ پالیسی اپنا کر عالمی طاقتوں کے سامنے کشمیری عوام کی بھرپور جنگ لڑنی چاہیئے اور پاکستانی عوام کو بھی ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے رہنا چاہیئے۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال
یہ عمران خان کی زبردست خارجہ پالیسی کا کمال ہی ہے کہ انڈیا کشمیر ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر جلد بازی میں ایسے ایسے قوانین بنا رہا ہے، جو بعد میں انڈیا ہی کے گلے میں پڑنے والے ہیں، اس پر موجودہ پاکستانی حکومت کو برا بھلا کہنے کی ضرورت نہیں۔ عام لوگ جان لیں کہ آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35A اے کی منسوخی سلامتی کونسل کی قرادادوں کی کھلی توہین ہے، اس آگ میں انڈیا ہی جلنے والا ہے، جیسا کے میں پہلے ذکر کرچکا ہوں کہ انڈیا اس عمل کے بعد دنیا کے سامنے پوری طرح ایکسپوز ہوکر سرٹیفائیڈ قابض ملک بن چکا ہے۔ ذاتی طور پر میرا مسئلہ کشمیر کو لے کر اقوام متحدہ یا عالمی طاقتوں پر 0% سے بھی کم یقین ہے، انہوں نے اگر اس مسئلے کو حل کروانا ہوتا تو بہت پہلے ہوچکا ہوتا۔ لہذا کشمیر نے جب بھی آزاد ہونا ہے، جنگ سے ہی آزاد ہونا ہے اور میری معلومات کے نزدیک وہ جنگ غزوہ ہند ہی ہوگی۔

یہ بھی دیکھیں

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟ سید جواد حسین رضوی بانی پاکستان قائد اعظم …