جمعہ , 13 دسمبر 2019

کشمیریو! ہم تمھارے مجرم ہیں

(اظہر تھراج)

’’کشمیر انڈیا یا پاکستان کی جاگیر نہیں ہے۔ یہ صرف کشمیریوں کا ہے۔ جب کشمیریوں نے انڈیا کے ساتھ الحاق کیا تو ہم نے کشمیری رہنماؤں کو یقین دلایا کہ ہم اس معاہدے کی پاسداری کرتے رہیں گے اور اگر وہ ہمیں معاہدے سے نکال دیں گے تو مجھے کشمیر چھوڑنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔ ہم اس مسئلہ کو اقوام متحدہ لے کر گئے اور مسئلے کے پرامن حل کےلیے اپنی زبان دی ہے۔ ایک عظیم قوم ہونے کے ناتے ہم اپنی زبان سے نہیں پھریں گے۔ ہم نے آخری فیصلے کا اختیار (حق خود ارادیت) کشمیریوں کو دیا ہوا ہے، وہ جو بھی فیصلہ کریں گے ہم اس پر عمل درآمد کے پابند ہوں گے۔‘‘

یہ الفاظ کسی کشمیری یا پاکستانی کے نہیں، یہ سابق بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے ہیں، جو انہوں نے 2 جنوری 1952 کو امرتا بازار کلکتہ میں کہے تھے۔ آج اسی بھارت میں ان کے کہے ہوئے اقوال کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔

مودی سرکار نے اپنے آئین سے آرٹیکل 370، اور 35 اے کو منسوخ کردیا ہے، جو کشمیریوں کو نیم خودمختاری فراہم کرتا ہے۔ حقیقت میں بھارت نے اس اقدام سے عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں، پاکستان کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کیا ہے۔ حالات بگڑ چکے ہیں، معاملات گمبھیر ہیں، مودی آگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم کا یہ پسندیدہ مشغلہ ہے، لیکن ہم جو امت واحدہ کے دعوے دار ہیں کیا کررہے ہیں؟ کیا کرتے رہے؟ دنیا کیا کرتی رہی؟

مقبوضہ کشمیر میں کرفیوہے۔ تمام انسانی حقوق سلب کرلیے گئے ہیں، سوائے پاکستان کے مسلم امہ کے کسی ملک کو ان کی فکر نہیں۔ کوئی بھی اس پر نہیں بولا۔ بھارت کے سعودی عرب، عرب امارات اور ایران سے بڑے کاروباری تعلقات ہیں۔ مسلم امہ کا نظریہ اب ختم ہوچکا ہے، سب اپنے اپنے مفادات کے تحت جی رہے ہیں۔ اب مسلم دنیا سعودی، اماراتی، پاکستانی وغیرہ میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ عرب دنیا کے بولنے کے باوجود اسرائیل فلسطین میں وہ سب کچھ کررہا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ ہمارا گداگروں والا اسٹیٹس ہے، جبکہ بھارت اپنی معاشی پالیسی کو مضبوط کرچکا ہے اور اسی معاشی ڈپلومیسی کی وجہ سے کامیاب نظر آتا ہے۔

مسلم دنیا کی حالت اس وقت ایسے جہاز کی مانند ہے جس کی نیوی گیشن غلط ہاتھوں میں ہے۔ یہ ایک جہاز کے ڈھانچے کی طرح ہے، مسلم دنیا خود کسی کی مدد کی منتظر ہے۔ کہیں بھی امن نظر نہیں آتا ہے، ایسی کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ ایک نقطے پر اکٹھے ہوجائیں گے۔

جنوبی ایشیا میں سب سے پرانا اور اہم مسئلہ کشمیر ہے، یہ مسئلہ عالمی توجہ حاصل کرچکا ہے۔ چند ماہ سے کشمیری تحریک نئے جوش اور جذبے کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ تحریک آزادی کی یہ جدوجہد خالصتاً کشمیری بن چکی ہے۔ اگرچہ بھارت نے اسے کچلنے کےلیے پہلے مقبوضہ کشمیر میں صدر راج نافذ کیا، صدر راج سے کچھ نہیں بنا تو اب اس کے نظام کی شکل ہی تبدیل کردی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد بھارتی عزائم بہت خطر ناک ہیں۔ اس نے پاکستان کے پاس موجود 32 ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر اپنا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی یونین میں شامل کیا ہے۔ اپنی فیڈرل اسمبلی میں 24 نشستیں بھی مختص کردی ہیں۔ بھارت کشمیر کو اسرائیل بنانا چاہتا ہے۔ بڑے پیمانے پر کشمیریوں کی نسل کشی کرکے ہندوؤں کو آباد کرنا چاہتا ہے۔ یہ جہاں بھارت کی سینہ زوری ہے تو ہماری اور اقوام عالم کی ناکامی بھی ہے۔

میں پاکستانی ہونے کے ناتے اقرار جرم کرنا چاہتا ہوں۔ کشمیریو! ہم نے آپ کی محبت کا حق ادا نہیں کیا۔ میں مجرم ہوں اس مقبوضہ کشمیر کا جہاں پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجتے ہیں۔ میں مجرم ہوں اس کشمیر کا جہاں پیلٹ گنوں سے حملے ہوتے ہیں، جہاں کلسڑ بم گرائے جاتے ہیں، جہاں معصوم جانیں نشانہ بنتی ہیں، جہاں دہشتگرد فوج بندوقیں لیے بے ہتھیاروں کی تاک میں ہو، جہاں جنازے پاکستانی پرچم میں لپیٹ کردفن کیے جاتے ہیں۔ میں مجرم ہوں ان لوگوں کا جن کی محبت کا جواب ان کی محبت جیسا نہ دے سکے۔ میں مجرم ہوں۔ آپ پاکستان کے جھنڈے لہراتے رہے اور ہم کسی بھی فورم پرآپ کا مقدمہ نہ لڑ پائے۔ میں مجرم ہوں آپ کا، آپ لاشیں اٹھاتے رہے، ہم کف افسوس ہی ملتے رہے۔ آپ سینوں پر گولیاں کھاتے رہے اور میرے حکمران دست وگریبان رہے۔ بھارتی قانون میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے نے مجھ سمیت سب کو ہلا کررکھ دیا۔ ہم آزادی کا مہینہ منارہے ہیں لیکن آزادی کی قدرو قیمت تو آپ سے پوچھنی چاہئے، جو بھارت کے ظلم اور جبر کا شکار ہیں۔

آخر 70 سال سے اس وادی میں ہو کیا رہا ہے، اس کا ادراک ہمارے نوجوانوں کو نہیں ہے۔ افضل گورو سے برہان وانی تک، جیسے نوجوان آزادی کےلیے کیا کچھ کر گزر گئے، لیکن میں مجرم ہوں اس کشمیر کا۔ مجرم ہوں آپ کا۔ آپ لاشیں اٹھاتے رہے، ہم امید میں رہے شاید یہ آہیں عالمی برادری تک پہنچ جائیں، شاید بھارت اپنے نیچ پن سے باز آجائے۔ بے حس، بے ضمیر، انسانیت کے احساس سے عاری قوم کشمیریوں کے درد کو نہیں سمجھنے والی۔ اس نے وہی کردیا جس سے انسانیت شرمندہ، سب سے بڑی جمہوریت زخمی زخمی ہے، انسانی حقوق پر ڈاکا ہے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

تارکین وطن کو بھارت کی شہریت دینے کا متنازع بل

ایج آر شاہ بھارت کے ایوان زیریں لوک سبھا میں تارکین وطن کو بھارت کی …