جمعہ , 23 اگست 2019

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ہماری حکمت عملی اور ردعمل

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ اقدام اور جابرانہ تسلط کو باقاعدہ قبضے کی صورت دینے کی سعی کی پاکستان کی حکومت ،عوام اور خاص طور پر دفاع پاکستان کونسل جماعت الدعوہ اور علمائے کرام کی طرف سے جس قسم کی مزاحمت اور احتجاج نظر آنا چاہئے تھا وہ صورت نظر نہیں آئی۔صرف یہی امر ہی باعث فکر مندی نہیں بلکہ اس حوالے سے عالمی برادری کا کرداروعمل بھی موافق نہیں سوائے ترکی کے کسی بھی ملک نے کھل کر پاکستان کے عوام کے جذبات کا ساتھ نہیں دیا اس کی بڑی وجہ خود ہماری حکومت کا رویہ اور طرز عمل ہی ہو سکتا ہے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے چین کے دورے کے موقع پر چینی حمایت کے حصول کا دعویٰ کیا ہے بلاشبہ چین سلامتی کونسل میں پاکستانی موقف کی حمایت کرے گا لیکن چین نے بھارت کے ساتھ مثبت اور لداخ کے تنازعے کے ہوتے ہوئے خود ایک فریق ہونے کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے وہ لب ولہجہ اور موقف اختیار نہیں کیا جس کی اس سے توقع تھی محولہ حالات و معاملات کا جائزہ لیا جائے تو اس کی بڑی وجہ ہماری وہ پالیسیاں اندازہ فکر اور کچھ اٹھائے گئے اقدامات ہیں جو شامت اعمال ماصورت نادرگرفت کی صورت میں سامنے آئے۔

جب کسی معاملے کے حوالے سے کسی ملک کی پالیسی میں تبدیلی کے اشارے ملیں تو پھر بیرونی ممالک خواہ وہ برادر اسلامی ممالک ہوں یا پھر دوست اورپڑوسی ملک دخل درمعقولات کا مناسب نہ سمجھنا ہی بہتر سمجھتے ہیںپاکستان میں جن تنظیموں کو کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت اور لہو گرما نے کی علامت سمجھا جاتا تھا ان تنظیموں کو حکومتی اقدامات سے کنارے لگا دیا گیا مختلف دبائو اور الزامات لگا کے ان تنظیموں کی سرگرمیاں محدود اور معطل کردی گئیں ان کے لیڈر یا تو شہید کردیئے گئے یا پھر آج پابند سلا سل ہیں معلوم نہیں کہ یہ اتفاق کی بات ہے یا پس پردہ ہونے والی کوششوں کے متوقع منظر نامہ کے باعث ان عناصر کو کنارے لگا دیا گیا ملک بھر میںغیر مئو ثر احتجاج اور ریلیوں کے انعقاد سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے گویا اس منظر نامے کو حکومتی اور عوامی دونوں سطح پر تسلیم کرلیا گیا یہ خاموش مفاہمت ہے جو خاموشی اس وقت ملک کی فضا پر طاری ہے وہ بے سبب نظر نہیں آتا اس ساری صورتحال میں جس قسم کی کوششوں کا عندیہ ملتا ہے اس کی کوئی وقعت اہمیت اور افادیت نظر نہیں آتی۔

اقوام عالم اور اس مسئلے کے فریق اول پاکستان کی حکومت اور پاکستان کے عوام کے ابتک کے ردعمل دیکھنے کے بعد اب حالات مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ردعمل ہی پر موقوف ہیں کہ کرفیو اور فوجی گھیرائو کے خاتمے کے بعد وہاں کے عوام کی مزاحمت اور احتجاج کی نوعیت کیا سامنے آتی ہے ۔اب تک کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد کا محور کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ رہا ہے ممکن ہے کہ اب کشمیری بطور مذہب وعقیدہ کے طور پر موقف نہ اپنائیں بلکہ بطور کشمیری موقف اختیار کریںاس کا امکان اس لئے بھی زیادہ ہے کہ ہم بطور مسلمان اور بطور پاکستانی اگر کشمیری حریت پسندوں کی توقعات پر پورا نہ اترے تو بھارت نے یکطرفہ اقدام کے ذریعے وہاں کے عوام کو مایوس کیا جس کے نتیجے میں آج وہ لوگ بھی حریت پسندوں کے موقف سے قریب آگئے ہیں جو اب تک بھارت کی بولی بولتے رہے ہیں۔اس وقت بھارت سے میں مواصلات وذرائع ابلاغ مکمل طور پر مسدود ومنقطع اور بندہیں لوگوں کا ایک دوسرے سے آزادانہ رابطہ نہیں سڑکوں اور گلیوں میں فوج کھڑی ہے ظلم واستبداد کا بازار گرم ہے یہ محاصرہ ہٹے گا تو کشمیری عوام کا موقف اور ردعمل سامنے آئے گا بھارت آخر کب تک مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ظلم وبربریت کرتا رہے گا ۔

کشمیری عوام کا جو بلا امتیاز موقف سامنے آئے گا اس میں واضح ہوگا کہ ان کا مدعا ومنشا کیا ہے اگر کشمیری عوام کی کسی جانب سے حمایت کی امید باقی نہ رہے تو حالات ان کے موقف کو بھی تبدیل کرسکتا ہے اوروہ حالات کے دھارے میں بہہ سکتے ہیں اس صورتحال میں بھارت کی جانب سے کوئی ممکنہ مہم جوئی کا کیا جواز اور امکان ہے اس کی مصلحت جاننا مشکل ہے بظاہر تو بھارت نے جو قدم اٹھایا ہے اسے اس سے نمٹنے میں وقت لگے گا ایک ایسے وقت میں جب خود بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں عوامی دبائو اور عدم تعاون کا سامنا ہے وہ دوسرا محاذ کیوں کھولے گا بھارت نے جو قدم اٹھایا ہے یا اٹھانا ہے وہ اس پر منحصر ہے سوال یہ ہے کہ ہم کیا قدم اٹھا رہے ہیں اور ان حالات میں ہماری حکمت عملی اور پالیسی کیا ہے فی الوقت کچھ واضح نہیں اس مسئلے کے حل کیلئے ایک مرتبہ پھراقوام متحدہ سے رجوع پر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد ہونے کا کوئی امکان شاید ہی نکلے ۔ادھر چین کی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر تعاون جاری رکھیں گے۔بیان کے مطابق وزیرخارجہ وانگ ژی نے کہا کہ ‘چین کو کشمیر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ہے اور یکطرفہ اقدامات سے صورت حال مزید خراب ہوگی لہذا ایسے اقدامات نہیں کرنے چاہئیں۔وانگ ژی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں چین کے دوست ہمسایہ اور اہم ترقی پذیر ممالک ہیں جو ترقی کے اہم موڑ پر ہیں، لہذا دونوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی قومی ترقی اور جنوبی ایشیا میں امن کے لیے یکطرفہ اقدامات سے گریز کرتے ہوئے تاریخی اختلافات کو ختم کریں۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …