جمعہ , 23 اگست 2019

وزیرستان میں طالبان پھر منظم ہونے لگے؟

(رپورٹ: ایس اے زیدی)

پاک فوج کی جانب سے ملک میں قیام امن کیلئے دہشتگردوں کیخلاف شروع کئے جانے والے آپریشن ضرب عضب اور پھر آپریشن ردالفساد کے نتیجے میں حالات کافی حد تک بہتر ہوئے، خیبر پختونخوا میں نو ضم شدہ قبائلی اضلاع کو پاک فوج کی جانب سے دہشتگردوں سے مکمل طور پر پاک اور کلیئر قرار دیا جاچکا ہے، کئی دہشتگرد ان علاقوں میں فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں مارے گئے یا گرفتار کر لئے گئے، جبکہ بچ جانے والے سرحد پار کرکے بھاگ گئے۔ بعض جنگجو گروپوں نے حکومت کی رٹ تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ ان فوجی آپریشن کے ثمرات یقینی طور پر سامنے آئے اور ملک بھر میں امن و امان کی فضاء بہتر ہوئی ہے، خاص طور پر شمالی وزیرستان جو کہ نہ صرف کسی زمانے میں طالبان دہشتگردوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا بلکہ عالمی سطح پر خطرناک ترین علاقوں کی حیثیت سے شہرت حاصل کرچکا تھا، میں بھی افواج پاکستان امن قائم کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ درحقیقت یہ علاقہ جو کہ دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا، وہاں امن بحال ہوا، آئی ڈی پیز واپس اپنے گھروں کو پہنچے، ترقیاتی کام شروع ہوئے اور کھیلوں کی سرگرمیوں تک کا آغاز ہوگیا، علاوہ ازیں پاک فوج کی جانب سے علمائے کرام کو شمالی وزیرستان کا دورہ بھی کرایا گیا۔

شمالی وزیرستان جیسے علاقہ میں امن کی فضاء اور دہشتگردوں کا خاتمہ انتہائی خوش آئند امر ہے، جس کا پاکستانیوں خصوصاً قبائلی عوام کو شدت سے انتظار تھا، تاہم گذشتہ دنوں انگریزی جریدے ڈان نے شمالی وزیرستان کے حوالے سے خبر جاری کی، جس میں بتایا گیا کہ کالعدم تحریک طالبان نے اونچی آواز میں میوزک چلانے، پولیو کے قطرے پلانے اور محرم مرد کے بغیر اکیلی گھر سے باہر جانیوالی خواتین کے لیے وارننگ جاری کر دی اور وارننگ کو نظرانداز کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی ہے۔ ایک صفحے پر مشتمل دھمکی آمیز پیغام شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کے لوگوں نے دیکھا، جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ ہم آپ کو یاد دہانی کروا رہے ہیں کہ اسی طرح کے بیانات ماضی میں بھی طالبان کی طرف سے کئی مرتبہ جاری کیے جاچکے ہیں، لیکن کوئی اثر نہیں ہوا، لیکن اس مرتبہ ہم ان کیخلاف ٹاسک دینے جا رہے ہیں، جو طالبان کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہیں۔ پیغام میں مزید کہا گیا کہ یہاں کوئی کھلے مقام یا گھر کے اندر ڈی جیز کا استعمال نہیں کرے گا اور وہ لوگ جو ان وارننگز کو نظرانداز کر رہا ہے، نتائج کا ذمہ دار ہوگا۔

اس دھمکی آمیز پمفلٹ میں پولیو ورکرز کو کہا گیا ہے کہ بچوں کی انگلی پر نشان لگائیں، لیکن بچوں کو قطرے نہ پلائیں یا پھر نتائج کے لیے تیار رہیں، میوزک چلانے والی دکانیں بھی کسی بھی وقت جلائی جا سکتی ہیں۔ تحریک طالبان کی جانب سے جاری اس دھمکی آمیز بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خواتین کو اکیلے گھر سے باہر نہیں جانا چاہیئے، کیونکہ یہ ہمارے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے، ہر تین لوگوں میں سے ایک شخص طالبان کا اطلاعات دہندہ (جاسوس) ہے، یہ لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ ہمیں پتہ نہیں چلے گا، ہدایات پر عمل کریں یا نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ اس پمفلٹ کے اوپر سرخی کے طور پر عزیز ساتھیو درج ہے، جبکہ جاری کنندہ میں تحریک طالبان پاکستان لکھا گیا ہے۔ یہ پمفلٹ باقاعدہ طور پر پرنٹ ہوا ہے اور اس میں شمالی وزیرستان کے عوام کو خبردار کیا گیا ہے۔ میران شاہ کی پولیس کے سربراہ شفیع اللہ نے ایک خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک طالبان کی جانب سے تقسیم کردہ پمفلٹ کی تصدیق کی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پھینکے گئے پمفلٹ سے کسی قسم کا کوئی خوف نہیں پھیلا اور لوگ پولیس کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس ہر قسم کی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ پولیو ورکروں کو کئی ماہ سے دھمکیاں مل رہی ہیں، لیکن پولیو مہم پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے دوران بھی دھمکی ملی تھی، مگر کچھ نہیں ہوا۔ یہ پمفلٹ شمالی وزیرستان کے مرکزی شہر میران شاہ، میر علی اور دوسرے شہروں میں تقسیم کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے اس قسم کے دھمکی آمیز خطوط و بیانات ماضی میں بھی منظر عام پر آتے رہے ہیں، تاہم اس وقت ان علاقوں میں طالبان کا نہ صرف اثر و رسوخ تھا، بلکہ رٹ قائم تھی۔ تاہم ان حالات میں کہ جب اس علاقہ کو دہشتگردوں اور طالبان سے کلیئر قرار دیا گیا ہے، اس قسم کا دھمکی آمیز بیان سامنے آنا یقیناً تشویشناک ہے، گو کہ پولیو قطروں کے علاوہ مذکورہ بالا نکات قبائلی روایات کا حصہ ہیں، تاہم طالبان کی جانب سے اس قسم کے مطالبات کو جبری طور پر مسلط کرنا کسی طور پر درست نہیں۔ دوسری جانب ایسی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ جنوبی وزیرستان میں نہ صرف مقامی طالبان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے طالبان بھی کھلے عام مسلح پھرتے دیکھے جا سکتے ہیں، جس کی وجہ سے عوامی حلقوں میں خوف کی فضا موجود ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …