ہفتہ , 21 ستمبر 2019

سید حسن نصراللہ کی زبانی اسلامی مزاحمتی بلاک کی نئی ڈاکٹرائن

(تحریر: رامین حسین آبادیان)

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کل جمعہ 16 اگست کے دن اسرائیل اور حزب اللہ لبنان کے درمیان 2006ء میں 33 روزہ جنگ میں فتح کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقد کی گئی ایک تقریب سے خطاب کیا۔ اس تقریر میں انہوں نے بعض انتہائی اہم موضوعات کی جانب اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا: "اگر اسرائیل نے دوبارہ کبھی لبنان پر جارحیت کی تو وہ دیکھے گا کہ اس کے ٹینک کس طرح نابود ہوتے ہیں۔ وہ حزب اللہ جسے ایک دن اسرائیل نابود کرنے کے خواب دیکھتا تھا آج ایک علاقائی طاقت میں تبدیل ہو چکی ہے۔” سید حسن نصراللہ نے صہیونیوں کو للکارتے ہوئے کہا: "میں آپ کو خبردار کرتا ہوں کہ لبنان میں داخل نہ ہوں اور اگر آپ ہماری سرحد میں داخل ہوئے تو ہم لائیو کوریج کے ذریعے آپ کے ٹینک اڑتے ہوئے پوری دنیا کو دکھائیں گے۔ 33 روزہ جنگ نے صہیونی رژیم کا حقیقی چہرہ آشکار کر دیا تھا۔ آج اسرائیلی حکام اس بارے میں شک و تردید کا شکار ہیں کہ وہ لبنان کے خلاف جنگ میں کامیاب ہو سکتے ہیں یا نہیں؟”

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا: "اسلامی مزاحمتی بلاک شام میں دہشت گردی کو دوبارہ جنم لینے سے روکے گا اور شام کے خلاف ایک اور عالمی جنگ شروع ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ دشمن کے مقابلے میں مزاحمت اور استقامت میں ہونے والا نقصان اس کے ساتھ سازباز کا راستہ اختیار کرنے میں ہونے والے نقصان سے کہیں کم ہے۔” سید حسن نصراللہ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حزب اللہ لبنان ہمیشہ سے خطے میں امن اور استحکام کی خواہاں رہی ہے کہا: "آج جو خطے میں جنگ کے طبل بجا جا رہے ہیں وہ اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں۔” سید حسن نصراللہ کی تقریر کا اہم ترین حصہ اسلامی جمہوریہ ایران، اس کی طاقت اور اسے درپیش بیرونی خطرات سے متعلق تھا۔ انہوں نے اس بارے میں کہا: "امریکہ کی جانب سے ایران کو جنگ کی دھمکیاں دینے سے پیچھے ہٹ جانا ایک انتہائی اہم اور تاریخی واقعہ ہے۔ ایران کے خلاف کسی قسم کا جارحانہ اقدام پورے خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیل دے گا کیونکہ اسلامی مزاحمتی بلاک ایک واحد یونٹ کی مانند ہے اور اس میں شامل کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت پورے بلاک کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔”

درحقیقت سید حسن نصراللہ نے اپنے اس بیان کے ذریعے اسلامی مزاحمتی بلاک کے علاقائی اور بین الاقوامی دشمنوں کو شدید وارننگ دی ہے۔ ان دشمنوں میں امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں جو ہمیشہ خطے میں نئی جنگ کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے اسلامی مزاحمتی بلاک کے دشمنوں پر واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کوئی گستاخانہ اقدام انجام پاتا ہے تو حزب اللہ لبنان اور اسلامی مزاحمتی بلاک کے دیگر اراکین خاموش تماشائی نہیں بنیں گے بلکہ پورے خطے میں دشمنوں کے مفادات کو مٹی میں ملا دیں گے۔ سید حسن نصراللہ کی یہ وارننگ ایسے حالات میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکی حکام نے ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کئی بار فوجی حملے کی بھی دھمکی دی ہے۔ البتہ ایران کی جانب سے اپنی حدود میں داخل ہونے والے امریکی ڈرون کی تباہی کے بعد ان کے لہجے میں نرمی آئی ہے۔ اسی طرح برطانیہ کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکر روکے جانے اور بدلے میں ایران کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو برطانوی آئل ٹینکر روک لینے کے نتیجے میں برطانیہ کا ایرانی آئل ٹینکر چھوڑنے پر مجبور ہو جانے سے بھی حالات میں بہت فرق آیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ کی جانب سے پورے اسلامی مزاحمتی بلاک کو ایک یونٹ قرار دیے جانا ایک طرح سے دشمن کی روک تھام میں بھی بہت موثر ثابت ہو گا۔ اسی طرح انہوں نے عالمی رائے عامہ کو یہ پیغام بھی پہنچایا ہے کہ اگر امریکی حکام خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر فوجی حملے سے دستبردار ہوئے ہیں تو ان کا یہ فیصلہ کسی طے شدہ حکمت عملی کے تحت نہیں تھا بلکہ اس خوف اور وحشت کا نتیجہ تھا جو کسی بھی فوجی کاروائی کے ردعمل میں ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک کی جانب سے ظاہر ہو سکتا تھا۔ اسی طرح سید حسن نصراللہ نے دشمنوں کو ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک کی روز بروز بڑھتی ہوئی فوجی طاقت بھی یاد دلائی تاکہ وہ کسی قسم کی حماقت سے باز رہیں۔ یاد رہے ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرائے جانے کے بعد مغربی میڈیا بھی کئی بار ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک کے سامنے امریکہ کی کمزوری کا اعتراف کر چکا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …