ہفتہ , 21 ستمبر 2019

عالمی برادری کشمیر کی صورتحال پر سنجیدگی دکھائے

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)

انسان طاقت سے دوسرے انسانوں کے جبلی حقوق کو غضب نہیں کرسکتا۔ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ غاضب قوتیں خواہ صدیوں تک حریت پسندوں کے حقوق غصب کرتی رہیں اور ان پر عرصہء حیات تنگ کر دیں، بالآخر فتح حریت پسندوں کی ہوتی ہے۔ قانون قدرت یہی ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوا اور وہ آزادی ہی کو پسند کرتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا ایشو دو چار سال کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے معرضِ وجود میں آتے ہی کشمیر ایک سنگین عالمی مسئلے کے طور پر سامنے آیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر جنگیں بھی ہوچکی ہیں، لیکن مسئلہ جوں کا توں ہی ہے۔ اقوامِ متحدہ نے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیا ہوا ہے۔ اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کی قراردادیں بھی موجود ہیں، جن کے مطابق کشمیریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے چاہیں تو بھارت سے الحاق کر لیں، چاہیں تو پاکستان سے الحاق کر لیں۔ لیکن بھارت نے کبھی بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کو سنجیدہ نہیں لیا، حالانکہ بھارت ہی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا۔ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے عالمی برادری کے فیصلہ ساز ممالک نے کئی بار ثالثی کی پیشکش بھی کی، مگر یہ پیشکشیں سوائے سیاسی بیانات کے اور کچھ نہ تھیں۔

تاریخی پس منظر میں جائے بغیر مقبوضہ کشمیر کا موجودہ منظر نامہ دیکھا جائے تو حالات انتہائی خطرناک نہج تک پہنچ چکے ہیں۔ جنگ کا خطرہ موجودہ ہے، جو کسی بھی وقت خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ یہ جنگ خدانخواستہ اگر ہوئی تو روایتی جنگ نہیں ہوگی، اس جنگ میں کئی فریق اپنا حصہ ڈالیں گے اور آخر کار ڈیڑھ ارب انسانوں کی زندگیاں موت کا رزق بن جائیں گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا سب سے بہترین طریقہ اس مسئلے کو سفارتی سطح تدبر کے ساتھ اجاگر کرنا ہے۔ مکرر عرض ہے کہ بدقسمتی سے کشمیر کے مسئلے پر بھارت نے ہمیشہ پاکستان کی نسبت بہتر سفارت کاری کی۔ مقبوضہ کشمیر میں پرائیویٹ عسکری پریکٹس نے بھارت کو یہ موقع دیا کہ وہ عالمی برادری کے سامنے کہہ سکے کہ پاکستان سے دراندازی ہو رہی ہے۔ یقیناً ہم نے آزادی کی خالص تحریک میں نام نہاد جہادی گھسیٹ کر غلطی کی۔ غلطی کا اعتراف ہی نہیں، اس کا ازالہ بھی کرنا بہت ضروری ہے۔

ہمیں معاملے کو یک رخا دیکھنے کے بجائے افغانستان کی خانہ جنگی اور وہاں مضبوط بھارتی نیٹ ورک کے ساتھ ملا کر مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو اس وقت دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی ایک نسل پرست، مسلم کش سیاستدان کے طور پر جانا جاتا ہے۔ خطے کی بدقسمتی ہے کہ اس کی انتہاء پسندانہ سوچ نے بھارت میں فروغ پایا اور اس کی پارٹی جیت گئی، وہ وزیراعظم بن گیا اور فروری میں اپنے نئے الیکشن جیتنے کے لیے اس نے پاکستان کی فضائی حدود میں "سرجیکل سٹرائیک” نامی ڈرامہ بھی رچایا، جسے اس کا حیران کن جواب دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت اب ختم کر دی گئی ہے اور ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں مزید فوج بھی اتار دی ہے۔ ٹیلی فون/انٹرنیٹ سروس مکمل بند ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا کے عدل پسند انسان بھارتی رویئے پر شدید احتجاج کر رہے ہیں۔ پرائیویٹ جہادی پریکٹس کے عادی تو بدقسمتی سے سیاسی و عسکری قیادت پر لعن طعن بھی کر رہے ہیں کہ ابھی تک پاکستان نے بھارت پر حملہ کیوں نہیں کیا، جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی و عسکری قیادت نے اس معاملے کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر بڑے موثر اور بہترین انداز میں اٹھایا ہے، جس کا نتیجہ بھی سامنے آرہا ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق "پاکستان کے مطالبے اور اس کی چین کی جانب سے حمایت کے بعد اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع پر غور کا امکان ہے۔ دو روز قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خط لکھ کر سکیورٹی کونسل کے صدر سے مطالبہ کیا تھا کہ اجلاس بلا کر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات کی جائے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پاکستانی خط سکیورٹی کونسل کی صدر تک پہنچایا۔”

سکیورٹی کونسل کا اجلاس 16 اگست کو منعقد کیا جائے گا، جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تصفیہ طلب معاملے پر مبنی ایجنڈے کے تحت جموں و کشمیر کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب چین نے بھی ایک روز قبل بھارتی اقدام پر بات کرنے کے لیے سکیورٹی کونسل کو لکھے گئے پاکستانی خط کی حمایت کی تھی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر سکیورٹی کونسل کا اجلاس منعقد ہونا پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ پی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آخری مرتبہ یہ معاملہ سال 1971ء میں زیر بحث آیا تھا، لیکن 4 دہائیوں بعد اس فورم پر اس کا دوبارہ زیر بحث لایا جانا بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سرسری طور پر 1998ء میں بھی اس وقت اٹھایا گیا تھا، جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیئے کہ کشمیر کا معاملہ دو ممالک کے مابین ایک زمین کے ٹکڑے کا نہیں بلکہ انسانیت کا معاملہ ہے، جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت یاد رکھے، اگر اس نے کوئی گڑ بڑ کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا گیا، جس کے لیے ملک کی معروف شخصیات نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹس کی پروفائل تصاویر کو تبدیل کرتے ہوئے انہیں سیاہ کر دیا۔ پاکستان کے وزیراعظم نے اس سلسلے میں اپنی ٹوئٹر پروفائل پکچر سیاہ کی اور اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ کیا دنیا خاموشی سے بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر کیے جانے والے مظالم کو دیکھتی رہے گی؟ ایک جارح، نسل پرست اور مسلم کش ہندو مودی کو اسی کی زبان میں جواب دے کر پاکستانی وزیراعظم نے پاکستانی عوام کی ترجمانی کی ہے۔

پاکستان کا ہر پیر و جوان، دفاعِ وطن میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ اس کے باوجود میں بار دگر یہی کہتا ہوں کہ یہ مسئلہ بڑی یعنی ایٹمی جنگ تک پہنچنے سے پہلے عالمی فیصلہ ساز قوتیں سیاسی انداز میں حل کرنے کی طرف قدم بڑھائیں اور نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کو کسی بڑی تباہی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہمیں زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے جنگ سے بھی بچنا ہے اور بھارتی جارحیت کا سفارتی جارحیت سے مقابلہ بھی کرنا ہے۔ یہی سیاسی دانش مندی ہوگی۔ عالمی برادری میں سوائے چین کے اور کوئی ملک موثر کردار ادا نہیں کرسکے گا، بقول وزیر خارجہ "امہ کے محافظوں کے بھارت میں مفادات ہیں” کم و بیش 75 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھارت میں امہ کے محافظوں نے کر رکھی ہے۔ پاکستانی حکومت کو ہی سیاسی محاذ پر سرگرم رہنا ہوگا، جبکہ بھارتی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پاک فوج اور پاکستان کا ہر پیر و جواں تیار ہے۔ دنیا اس سنگینی کو سمجھے کہ اگر ایک بار پاک بھارت جنگ شروع ہوگئی تو اسے روکنا عالمی برادری یا کسی امہ نامی قوت کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ دنیا کے فیصلہ ساز ممالک کو امن کے لیے اپنا عادلانہ کردار ادا کرنا چاہیئے۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …