ہفتہ , 21 ستمبر 2019

کیا افغانستان کے صدارتی انتخابات طالبان سے امن معاہدے سے مشروط ہیں؟

(تحریر: سید نعمت اللہ)

اس سال افغانستان کے صدارتی محل میں منعقد ہونے والی تقریب گذشتہ سالوں سے بہت مختلف تھی۔ افغانستان کے نائب صدر عبدالرشید دوستم کا اس تقریب میں شریک نہ ہونا متوقع تھا کیونکہ کافی عرصہ پہلے افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی سے ان کے اختلافات کا آغاز ہو چکا ہے اور اب تو ان کے درمیان کینہ اور دشمنی بھی پیدا ہو گئی ہے۔ لیکن گذشتہ افغان صدر حامد کرزئی یا افغانستان کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی غیر حاضری غیر متوقع تھی۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مستقبل قریب میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کی فضا اس تقریب پر بھی اثرانداز ہوئی ہے۔ مزید برآں، اشرف غنی اس تقریب میں طالبان سے جاری مذاکرات کے بارے میں چپ نہ رہ سکے اور ڈھکے چھپے الفاظ میں ایک ایسا نکتہ بیان کر گئے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ان مذاکرات کو آئندہ صدارتی انتخابات سے مربوط کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ایسی سازشوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں جن کے تحت بیرونی قوتیں کچھ اقدامات انجام دینا چاہتی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا: "قومی مسائل اور ایشوز میں صرف افغانی ہی حتمی فیصلہ کریں گے۔”

انہوں نے اسی مبہم اور غیر واضح انداز میں بیرونی قوتوں کی سازش کی بات کی اور اپنی مراد بھی اچھی طرح واضح نہ کیا۔ لیکن حال ہی میں ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ اور افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کے انٹرویو کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ان کی مراد آئندہ صدارتی انتخابات کا طالبان سے زلمے خلیل زاد کے جاری مذاکرات سے نتھی ہونے کا امکان ہے۔ یاد رہے افغانستان میں آئندہ صدارتی انتخابات کی تاریخ 28 ستمبر طے ہو چکی ہے۔ زلمے خلیل زاد نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے: "ہماری پہلی ترجیح افغانستان میں امن مذاکرات کو نتیجے تک پہنچانا ہے۔” اسی ترجیح کے باعث انہوں نے واضح الفاظ میں صدارتی انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر طالبان سے امن معاہدے کے حصول میں تاخیر ہوتی ہے تو صدارتی انتخابات کو بھی ملتوی کر دینا چاہئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی نے جمعہ 9 اگست کے دن شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ دو وجہ سے افغانستان کے صدارتی انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک وجہ طالبان سے جاری امن مذاکرات ہیں جبکہ دوسری وجہ انتخابات میں عوام کی انتہائی کم شرکت کا خطرہ ہے۔

زلمے خلیل زاد کے انٹرویو کے ایک ہفتے بعد اس رپورٹ کی اشاعت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکام افغانستان میں صدارتی انتخابات سے پہلے پہلے طالبان سے حتمی امن معاہدہ انجام دینا چاہتے ہیں۔ وہ اس دوران طالبان کو جنگ بندی اور ملک میں امن و امان کے قیام میں پہلا قدم اٹھانے پر راضی کرنے کے درپے ہیں۔ امریکی حکام اس بات میں طالبان سے ہم آہنگی رکھتے ہیں کہ انتخابات کو اہمیت نہ دے کر ان کے التوا کو اپنے لئے ایک قسم کی سیاسی فتح قرار دیتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ افغانستان کے صدارتی انتخابات میں التوا امریکہ اور طالبان کا مشترکہ ہدف ہے۔ امریکہ اس کام کے ذریعے طالبان سے حتمی امن معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے جبکہ طالبان اسے مرکزی حکومت کو کمزور کرنے کیلئے ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کے درپے ہیں۔ دوسری طرف صدارتی انتخابات میں التوا اشرف غنی سے لے کر عبداللہ عبداللہ اور دیگر صدارتی امیدواروں میں سے کسی کے فائدے میں نہیں ہے۔ درحقیقت صدارتی انتخابات ملتوی ہونے سے طالبان کو ایک وننگ کارڈ مل جائے گا جس کے باعث عوام میں انتخابات میں شرکت کا جذبہ مزید کم ہو سکتا ہے۔

مزید برآں، صدارتی انتخابات میں التوا کا اثر صدارتی امیدواروں پر بھی پڑے گا اور وہ خود کو طالبان کے مقابلے میں طاقتور اور با صلاحیت ظاہر نہیں کر پائیں گے۔ اسی وجہ سے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں نے مقررہ وقت پر صدارتی انتخابات کے انعقاد پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ اشرف غنی نے عید اضحی کی مناسبت سے تقریب میں تقریر کرتے ہوئے نہ صرف اپنے موقف کو دہرایا بلکہ اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں جاری امن عمل حکومت کے سپرد کرنا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امن مذاکرات حال حاضر کا اہم ترین ایشو ہے اور تمام صدارتی امیدوار اسے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ لہذا وہ بھی انتخابات ملتوی ہو جانے کی صورت میں اس اہم ایشو سے محروم ہو جانا نہیں چاہتے۔ اشرف غنی نے عید کی تقریب میں ایک طرح سے اس ایشو پر بات کر کے اپنی صدارتی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کی پوری کوشش ہو گی کہ صدارتی انتخابات اپنے مقررہ وقت پر انجام پائیں جبکہ دوسری طرف سے بھی یہ دیکھنا ہو گا کہ امریکہ کا دباو محض ایک انٹرویو اور رپورٹ تک ہی محدود رہے گا یا مزید آگے بڑھے گا۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …